نیشنل ہائی وے پر جعفرآباد سے کوئٹہ تک سفر (دوسرا حصہ)

ببرک کارمل جمالی  بدھ 17 جنوری 2018
بلوچستان کی سیاحت پر ایک منفرد بلاگ، جو صرف تفریحی نہیں بلکہ معلوماتی بھی ہے۔ (تصاویر بشکریہ مصنف)

بلوچستان کی سیاحت پر ایک منفرد بلاگ، جو صرف تفریحی نہیں بلکہ معلوماتی بھی ہے۔ (تصاویر بشکریہ مصنف)

موسم سرما میں سیر و تفریح کے حوالے سے قارئین ایکسپریس بلاگ کےلیے قسط وار ٹور گائیڈ بلاگ ’’جعفرآباد سے نیشنل ہائی وے پر کوئٹہ تک سفر‘‘ کا یہ دوسرا حصہ ہے جس میں بتایا جائے گا کہ سردیوں میں بلوچستان کے کن کن علاقوں میں جانا زیادہ بہتر رہے گا۔ بلوچستان کے خوبصورت مقامات کے بارے میں اس بلاگ سے جانیے۔

بلوچستان کی سرزمین قدرتی حسن سے تو مالا مال ہے ہی لیکن یہاں متعدد تاریخی مقامات بھی موجود ہیں جن میں قابلِ ذکر وہ حیرت انگیز قلعے بھی شامل ہیں جو مختلف ادوار میں تعمیر کیے گئے۔ یہ قلعے سکندراعظم، مغلوں، عربوں اور برطانوی دورِ حکومت میں تعمیر کیے گئے لیکن آج بھی یہ کسی حد تک اپنی باقیات کے ساتھ موجود ہیں۔ ان قدیم عجائب میں ان تعمیرات کے شاندار ماضی کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔

 

سبی

ہم جیسے ہی سبی شہر میں داخل ہوئے، سرد ہوائیں ہماری منتظر تھیں۔ سبی دنیا کے گرم ترین شہروں میں سے ایک ہے جہاں گرمیوں میں سخت گرمی اور سردیوں میں شدید ٹھنڈ ہوتی ہے۔ سردی میں یہاں کے لوگوں کو سائبیریا کی ہوائیں قلفی بنا دیتی ہیں اور گرمیوں میں یہ قلفی دس سیکنڈ میں دودھ بن جاتی ہے۔ سبی میں اتنی گرمی ہوتی ہے کہ لوگ اپنے جسم کا پانی خشک کرنے کےلیے سولر کے پنکھے کا سہارا لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ سبی شہر کی بنیاد آریہ سیوا قوم نے ڈالی تھی۔ اس شہر کا پہلا نام ’’سیوی‘‘ تھا، پھر انگریزوں کو یہ نام عجیب لگا تو اس شہر کا نام ’’سی بی‘‘ رکھا گیا۔ پھر آہستہ آہستہ اس شہر کا نام سبی پڑگیا۔

سبی میلہ پاکستان کا دوسرا بڑا قومی میلہ ہے۔ سبی شہر کی شہرت سبی میلہ اور شدید گرمی کی وجہ سے ہے۔ سبی کا میلہ جب لگتا ہے تو پورے سبی شہر کو دلہن کی طرح سجادیا جاتا ہے۔

سبی کے بارے میں یہ شعر بہت مشہور ہے: ’’سبی ساختی دوزخ چرا پرداختی،‘‘ جس کا مفہوم ہے کہ پیارے اللہ میاں، جب اس سرزمین پر سبی کو بنادیا تھا تو دوزخ بنانے کی کیا ضرورت تھی۔ ہم نے سبی شہر کو قریب سے دیکھا ہے۔ سبی کی آب ہوا گرم ترین ہے۔ گرمیوں میں سورج کی روشنی پر آپ روٹی پوری طرح تو نہیں پکا سکتے مگر کچھ حصہ ضرور سورج کی تپش میں تیار کرسکتے ہیں۔ انگریز جب بھی سبی سے ریل کے راستے کوئٹہ جاتے تھے تو دوبارہ اس شہر سے گزرنے کا سوچتے بھی نہیں تھے۔ اتنی گرمی دیکھ کر وہ کہتے تھے ’’اُف خدایا! یہ کون سا جہاں ہے؟ کیسے لوگ یہاں بستے ہیں اور کیسے زندگی گزارتے ہیں۔‘‘

سبی ایک تاریخی شہر ہے۔ اس شہر کی بہت سی خصوصیات ہیں جنہیں بیان کرنے کےلیے کئی کتابیں اور سفرنامے لکھے جاسکتے ہیں۔ سبی درہ بولان کے دہانے پر شمال مشرق میں واقع اورسطح سمندر سے 485 فٹ بلندی پر واقع ہے۔ سبی کا موجودہ شہر افغانستان پر انگریزوں کے دوسرے حملے کے بعد تعمیر کیا گیا۔ اس زمین کا مالک باروزئی خاندان تھا۔ سبی نے تاریخ کے نشیب و فراز بہت دیکھے ہیں، کئی حاکم اس شہر سے گزرے اور کئی حاکم اس شہر کے بادشاہ بنے۔

میر چاکر رند نے اس شہر پر 35 سال تک حکومت کی اور اپنا ایک قلعہ بھی اسی شہر میں تعمیر کروایا تھا جو آج بھی خستہ حالی میں موجود ہے۔ اس کی فصیل (دیوار) اتنی چوڑی ہے کہ گھوڑا بہ آسانی اس پر چل سکتا ہے جبکہ گھڑسوار اس دیوار پر پہرے داری بھی کرتے تھے۔ انگریزوں نے اپنے دور حکومت میں یہاں جرگہ ہال بھی تعمیر کروایا تھا جو آج تک موجود ہے۔ اسے سبی دربار بھی کہتے ہے اور کچھ لوگوں نے اپنے دور میں اسے سبی میوزیم اور بولان میوزیم کے بھی نام دیئے تھے؛ لیکن دنیا میں یہ جرگہ ہال کے نام سے مشہور ہے۔ ہم جرگہ ہال دیکھنے کے بعد بابا ہوٹل سبی پر چائے پی کر مہر گڑھ کی جانب روانہ ہوگئے۔

 

مہر گڑھ

مہر گڑھ سبی سے 26 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک ویران علاقے میں ہے۔ مہر گڑھ، بلوچستان کے عظیم دریا بولان کے آخری دہانے پر واقع ہے۔ موئن جو دڑو سے کہیں زیادہ قدیم، اس اہم مقام کو کبھی اہمیت نہیں دی گئی اور نہ ہی مہر گڑھ میں کوئی باغ بنایا گیا ہے جسے لوگ پسند کریں۔ اگر ہم اس قدیم بستی کو اہمیت دیں تو دنیا بھر سے لاکھوں لوگ اس قدیم شہر کو دیکھنے آئیں گے اور بلوچستان کی سیاحت ترقی کی راہ پر ضرور گامزن ہوگی۔ قدیم شہر مہر گڑھ، ڈھاڈر سے صرف 10 کلومیٹر فاصلے پر ہزاروں سال قدیم بستی ہے جہاں بہت کم لوگ جاتے ہیں۔ مہر گڑھ، بلوچستان کے سب سے قدیم ثقافتی مقامات میں سے ایک ہے۔

مہر گڑھ کی دریافت 1973 میں ایک فرانسیسی ماہرِ آثارِ قدیمہ ژاں فرانسوا جیرگ نے کی۔ انہوں نے مہرگڑھ کے مقام پر کھدائی شروع کی تو معلوم ہوا کہ وادیِ سندھ کی اصل جائے پیدائش تو مہرگڑھ ہی ہے۔ یہاں آج سے 9000 سال پہلے ایک بستی آباد تھی جس میں رہنے والے لوگ کھیتی باڑی کیا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ دنیا کے قدیم ترین دندان ساز اور دھاتی ڈھلائی جیسے اہم آثار بھی اسی تہذیب سے برآمد ہوئے ہیں۔

بلوچستان کے باسی مہر گڑھ کو خاموش لوگوں کی سر زمین بھی کہتے ہیں۔ مہرگڑھ کے ابتدائی باسی کچی مٹی کی اینٹوں والے گھروں میں رہتے تھے، اپنے اناج کو گوداموں میں رکھتے تھے، پسائی کے پتھر اور چقماق پتھروں کو رگڑ کر آگ جلانے کے فن سے بخوبی واقفیت رکھتے تھے۔ مہر گڑھ کے لوگ جو، گندم، بیری اور کھجور کی کاشت کرتے تھے اور بھیڑ، بکریاں اور دوسرے مویشیوں کی گلہ بانی کرتے تھے۔ ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق مہرگڑھ میں آباد لوگوں نے کاشت کاری، گلہ بانی، برتن سازی، صنعت کاری اور مہذب اور سہل زندگی گزارنے کی بنیاد رکھی تھی۔

بلوچستان کے دیگر علاقوں سمیت وادی سِندھ، پنجاب، مشرقی ایران اور جنوبی افغانستان کی دریافت ہونے والی تہذیبوں کے آثارِ قدیمہ سے جو برتن، اوزار، ہتھیار، انسانی و حیوانی مجسمے، منکے، ہار، چوڑیاں اور دیگر اشیاء وغیرہ برآمد ہوئی ہیں، ان میں واضح طور پر مہرگڑھ کے وسطی ادوار (پانچ ہزار سے چار ہزار قبل مسیح) کی جھلک نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کی دیگر قدیم تہذیبوں بشمول عراق، مصر، کنعان، اور ایران کو بھی مہرگڑھ کے بعد کی تہذیبیں قراردیا جاچکا ہے۔ ان میں سے برآمد ہونے والی بہت سی اشیاء کا ابتدائی تسلسل مہرگڑھ سے برآمد اشیا سے ملتا ہے، اس لیے بعض ماہرین مہرگڑھ کو ’’تہذیب کا‘‘ امام قرار دیتے ہیں۔ بعض اوقات ایف سی کے لوگ اس جانب عام آدمی کو جانے کی اجازت بھی نہیں دیتے۔

مہر گڑھ سے صرف دس کلومیٹر کے فاصلے پر ڈھاڈر شہر ہمارا منتظر تھا۔ ہم مہر گڑھ کے تاریخی مقامات کو خیرباد کہہ کر ڈھاڈر کی طرف چل پڑے۔

 

ڈھاڈر

ہم جیسے ہی ڈھاڈر میں داخل ہوئے، سر سبز علاقہ ہمارا منتظر تھا۔ یہاں پر مختلف فصلیں کاشت کی جاتی ہیں جن میں سبزیاں بہت مشہور ہیں جو پورے ملک میں سپلائی کی جاتی ہیں۔ اس لئے اگر اس شہر کو سبزیوں کا شہر بھی کہا جائے تو یہ بھی مناسب رہے گا۔ اس شہر کے لوگوں کو بارش کے پانی کی شدید ضرورت ہوتی ہے جس پر یہ لوگ اپنی فصلیں کاشت کرتے ہیں۔ حتی کہ پہاڑوں سے نکلنے والا پانی بھی اس شہر کے باسیوں کےلیے رحمت ہے جو پینے کے کام آتا ہے۔ ڈھاڈر شہر بلوچستان کا چھوٹا سا اور خوبصورت قدیمی شہر ہے اور ڈھاڈر، صوبہ بلوچستان کے تاریخی درہ ضلع بولان کے دہانے پر واقع ہے۔ ’’ڈھاڈر‘‘ کے اصل فارسی تلفظ کا مفہوم ’’دہانے در‘‘ یعنی ’’درے کا دہانہ‘‘ ہے۔ اسی مناسبت سے یہ نام ’’دہانے در‘‘ یا ’’ڈھاڈر‘‘ مشہور ہوا۔

1839ء میں ایک انگریز مصنف جیکسن ڈھاڈر کے متعلق لکھتے ہیں، ’’ڈھاڈر ایک بلوچی قصبہ ہے، جو درہ بولان کے دہانے پر وادی میں واقع ہے۔ اس قصبے میں 1500 کے قریب گھر ہیں اور تقریباً چار ہزار افراد آباد ہیں۔ یہاں کے میدانی علاقے کاشتکاری کےلیے استعمال کیئے جاتے ہیں، یہاں کی گرمی بے مثال ہے، یہاں کی خاصیت قصبے کے آغاز پر موجود ایک مزار ہے۔‘‘ جیکسن، ڈھاڈر سے متعلق مزید لکھتے ہیں کہ میر نصیر خان ’’نے انگریز کے فوجی کیمپ کی موجودگی کی وجہ سے ڈھاڈر کو تباہ کر دیا تھا۔‘‘

ڈھاڈر شہر سے نہ ختم ہونے والا پہاڑی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ ان پہاڑوں کے بیچوں بیچ بہت سے مقامات ہمارے منتظر تھے اور ہم بھی ان پہاڑوں کی نگری میں داخل ہوگئے۔ ہماری اگلی منزل ’’بی بی نانی‘‘ کی زیارت گاہ تھی۔

 

بی بی نانی زیارت/ پیر غائب

ہم پہاڑوں کے بیچ میں سفر کررہے تھے۔ ہمارے سامنے درّہ بولان تھا۔ یہ وہ درّہ ہے جہاں پر اکثر ٹریفک جام ہوتا ہے اور ساتھ میں اس جگہ پر موبائل فون سگنل بالکل نہیں ہوتے۔ جب یہاں بارش ہوتی ہے تو ہر طرف ندی نالوں میں خوبصورتی چھا جاتی ہے۔ اس جگہ کی خوبصورتی قدرت کی حسین نعمت ہے۔ پہاڑوں میں پوشیدہ ہونے کی وجہ سے بھی پیرغائب اور مین روڈ پر واقع بی بی نانی زیارت کا علاقہ بالکل گمنام ہیں اور اسی لیے یہاں تک ملکی و غیرملکی سیاحوں کی رسائی نہیں ہو پاتی۔ یہ ایک قدرتی تفریحی مقام بھی ہے جسے روحانیت کا سایہ نصیب ہے۔ یہاں پہاڑوں سے نکلتا پانی علاقے کو سیراب کرتا ہوا گزرتا ہے اور لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔

زندگی کے بعض سفر ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں نہ تو پاؤں تھکتے ہیں، نہ دل بیزار ہوتا ہے؛ بلکہ دھیرے دھیرے منزل کی جانب بڑھتے ہوئے قدم اس راستے پر ہی چلتے رہنا چاہتے ہیں۔ میرایہ سفر جس مقام کی جانب جاری تھا، وہاں ہر سال ہزاروں عقیدت مند آتے ہیں۔ جی ہاں! بولان پاس میں پیر غائب کا علاقہ بے آب و گیاہ پہاڑوں کے درمیان ایک سرسبز و شاداب وادی کی صورت میں موجود ہے۔ اس حسین علاقے میں پہنچتے ہی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم جنت کی وادی میں آگئے ہیں اور جہاں نظر پڑتی ہے، وہیں کچھ لمحوں کےلیے ٹھہر جاتی ہے۔ چاروں طرف خوبصورت بھورے جلے ہوئے پہاڑ اور ان میں سے چھم چھم گرتا صاف شفاف اور ٹھنڈا پانی، آبشار کی صورت بہتا ہے۔ یہ حسین آبشار دو مختلف حصوں میں تقسیم ہو کر گرتی ہے اور پرلطف نظارہ پیش کرتی ہے۔ آبشار کے دونوں حصوں کا پانی نشیب کی طرف بہتا ہوا ایک بہت بڑے تالاب میں مل جا تا ہے۔

پیر غائب، کوئٹہ سے 70 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس علاقے کا نام ایک بزرگ کے نام پر رکھا گیا، جو برسوں پہلے اپنی بہن ’’بی بی نانی‘‘ کے ہمراہ لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے کی غرض سے یہاں آئے تھے۔ یہاں بت پرست آباد تھے اس لیے وہ ان دونوں کے دشمن بن گئے۔ یہاں تک کہ جب انہیں جان سے مارنے کی بھی کوشش کی گئی تو بی بی نانی اپنے بچاؤ کےلیے بولان کی گھاٹیوں میں چھپ گئیں اور بہت دنوں تک وہیں بھوکی پیاسی چھپی رہنے کے بعد ان کی موت واقع ہوگئی۔ بی بی نانی کا مزار بولان سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر پل کے نیچے بنا ہوا ہے۔

(بالائی تصویر:) بی بی نانی کے مزار کے نزدیک ایک درخت جس کے بارے میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے یہ ’’اللہ‘‘ لکھا ہوا ہے۔

دوسری جانب حملہ آوروں سے بچنے کےلیے پیر غائب چٹانوں کے درمیان چھپ گئے، پھر کچھ دن بعد وہ غائب ہوگئے اور ان کا کچھ پتا نہ چلا۔ اسی وجہ سے یہ علاقہ ’’پیر غائب‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔

بی بی نانی کے ارد گرد کوئی مناسب ہوٹل موجود نہیں جس کی وجہ سے سیاحوں کو بہت مشکلات پیش آتی ہیں۔ پی ٹی ڈی سی (پاکستان ٹورازم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن) کو چاہیے کہ اس جگہ پر ایک ہوٹل قائم کرے تاکہ سیاحوں کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ اس لیے لوگ اپنے ساتھ کھانے پینے کا سامان لاتے ہیں مگر کھا پی کر وہیں کچرا پھینک دیتے ہیں جو اس جگہ کی خوبصورتی کو خراب کررہا ہے۔ کچھ لوگ اس ٹھنڈے پانی میں نہا کر واپس شام کو یا تو کوئٹہ چلے جاتے ہیں یا سبی کا رخ کرتے ہیں۔

شاہ عبدالطیف سائیں کی شاعری کی سورمیاں (ہیروئن) عورتیں ہی ہیں۔ سسی، مارئی، مومل، سوہنی، نوری، یہ سب وہ کردار ہیں جن کو انہوں نے اپنی شاعری میں بیان کرکے امر کر دیا ہے۔ انہوں نے مرد کے بجائے اپنے کلام کے اظہار کےلیے عورتوں کا انتخاب کیا ہے، تاکہ معاشرے کو اس بات کا احساس دلایا جاسکے کہ عورت، جسے ہم کمتر سمجھتے ہیں، وہ کسی بھی طرح کمتر نہیں بلکہ ہمت، حوصلے، رومان اور مشکلات کا سامنا کرنے کی علامت ہے۔ مگر مجھے اس وقت افسوس ہوا جب بی بی نانی پر میں نے کوئی کتاب ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر ناکام ہوگیا۔ اللہ تعالی ہمارے لکھنے والے بھائیوں کو ہمت دے۔ جن مقامات پر کوئی کچھ نہیں لکھتا، ان پر کم از کم کچھ لکھنا چاہیے تاکہ آنے والی نسل ہمارے تاریخی مقامات کو کم از کم پہچان تو سکے، اور ان کے بارے میں مزید تحقیقی معلومات دے سکے۔

سفر ابھی جاری ہے

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ببرک کارمل جمالی

ببرک کارمل جمالی

بلاگر ایم اے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کرچکے ہیں جبکہ بلوچستان کے مسائل پر دس سال سے باقاعدہ لکھ رہے ہیں۔ پاکستان کے مختلف اخبارات میں آپ کے کالم اور بلاگ شائع ہوتے رہتے ہیں۔ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔