ایران کو برآمد کی آمدنی روکنے سے رائس ایکسپورٹرز پریشان

رابطے کی کوشش کی لیکن مرکزی بینک حکام وقت دے رہے ہیں نہ رقم روکنے کا جواز بتارہے ہیں۔


Business Reporter March 24, 2013
3 ماہ سے مرکزی بینک ادائیگیاں نہیں کررہا، اچھے خریدار سے محروم ہوسکتے ہیں، جاوید غوری۔ فوٹو: فائل

ایران سے برآمدی آمدنی منجمد ہونے کے باعث پاکستان سے ایران کیلیے2 لاکھ ٹن چاولوں کی برآمدات خطرے میں پڑگئی ہیں۔

دنیا کے85 فیصد ممالک کے مضبوط تجارتی شراکت دار انکے ہمسایہ ممالک ہیں لیکن نامعلوم وجوہ کی بنا پر پاکستان کو اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی شراکت داری سے روکا جارہا ہے۔ یہ بات رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین جاوید غوری نے ''ایکسپریس'' سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں ایران کیلیے چاولوں کی بالواسطہ طور پر برآمدات ہورہی تھیں لیکن 2 سال قبل پاکستان سے آفیشل ٹریک پر ایران کو چاولوں کی برآمدی سرگرمیوں کے آغازکے بعد مقامی برآمدکنندگان کیلیے ادائیگیوں میں مشکلات پیدا کردی گئی ہیں جس سے اس امر کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ پاکستان چاولوں کے ایک اچھے خریدار ہمسایہ ملک سے محروم ہو جائیگا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے قانونی چینل کے ذریعے ایران کوچاول برآمد کرنے کی پاداش میںمرکزی بینک نے گزشتہ 3 ماہ سے متعلقہ برآمدکنندہ کی ادائیگیاں ہی روک دی ہیں حالانکہ ایرانی درآمدکنندہ کی جانب سے خریدے گئے چاول کے عوض ''آر'' فارم کے تحت 1 لاکھ66 ہزار175 یورو کرنسی بینکاری چینل کے توسط سے پاکستان کے مقامی بینک کو ارسال کردی تھی۔

3

ایک سوال کے جواب میں جاوید غوری نے بتایا کہ رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کی جانب سے متعدد بار مرکزی بینک کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن حکام کی جانب سے انہیں نہ تو وقت دیا جارہا ہے اور نہ ہی مذکورہ رقم جاری نہ کرنے کا جواز بتایا جارہا ہے جس سے رائس انڈسٹری میں اضطراب پایا جاتا ہے، ملک میں جاری معاشی حالات کے تناظر میں قومی اداروں کو کسی بیرونی دبائو کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملکی مفاد میں جراتمندانہ اقدامات بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔

ایرانی مارکیٹ میں پاکستانی چاول بے حد مقبول ہے اور ہمسایہ ملک ہونے کی وجہ سے ایران کیلیے پاکستان سے برآمدات کی لاگت بھی کم پڑتی ہے لہٰذا قومی ادارے ان مثبت تجارتی سرگرمیوں کو بلارکاوٹ جاری رکھنے کی غرض سے سہولتیں دیں۔