ٹائلز اینڈ سرامکس انڈسٹری کو ایرانی ٹائلز کی اسمگلنگ سے خطرہ

10 میں سے 1 ٹرک پر ڈیوٹی وٹیکسز دیے جاتے ہیں، حکومتی ریونیو میں بھی کمی آ سکتی ہے، ذرائع


Business Reporter March 24, 2013
مینوفیکچررز کی جانب سے ٹائلز کی غیر قانونی تجارت روکنے کیلیے سنجیدہ اقدامات کا مطالبہ۔ فوٹو: فائل

ملک میں ایرانی ٹائلز کی وسیع پیمانے پر ڈمپنگ نے مقامی ٹائلز اینڈ سرامکس انڈسٹری کو بحران میں مبتلا کردیا ہے۔

ٹائل سرامکس انڈسٹری کے باخبرذرائع کا کہنا ہے کہ طویل دورانیے سے ملک میں ایرانی ٹائلز کی منظم اسمگلنگ جاری ہے جس سے نہ صرف مقامی صنعت بری طرح متاثر ہو رہی ہے بلکہ قومی خزانے کوبھی ریونیو کی مد میں بھاری نقصان پہنچ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایرانی ٹائلز کی نسبت ملک میں تیار ہونے والی ٹائلز کی قیمت 35 فیصد زائد ہیں جس کی وجہ سے ایرانی تاجرانتہائی کم قیمت پر مختلف فینسی وغیرفینسی ایرانی ٹائلزکو پاکستان پہنچانے کی پیشکشیں کرتے ہیں، پاکستان میں ایرانی ٹائلز چونکہ کسٹم ڈیوٹی ودیگر ٹیکسوں کی ادائیگیوں کے بغیر پہنچ رہی ہیں اس لیے ان اسمگل شدہ ٹائلز کے ساتھ مقامی صنعتیں بلحاظ قیمت مسابقت نہیں کر پارہی ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ تفتان کی سرحد پر محکمہ کسٹمز کے اہلکاروں کی ملی بھگت سے ایرانی ٹائلز کی منظم اندازمیں اسمگلنگ ہورہی ہے۔ مقامی ٹائلز مینوفیکچررز کا کہنا ہے کہ تفتان کی سرحد کے ذریعے یومیہ ایرانی ٹائلز پر مشتمل 10 ٹرک پاکستان آ رہے ہیں لیکن دلچسپ امر یہ کہ 10 ٹرک میں سے صرف ایک ٹرک میں لدے ہوئے ٹائلزکی کسٹم ڈیوٹی وٹیکسز کی ادائیگی کی جاتی ہے جبکہ باقی ماندہ ٹرک کسی قسم کے محصول کی ادائیگیوں کے بغیرکراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں کے ویئر ہاؤسز میں منتقل کر دیے جاتے ہیں، ٹائلز اینڈ سرامکس صعنت جس کو پہلے ہی مارکیٹوں میں چینی ٹائلز کی بھرمار کے باعث شدید ترین خسارے کا سامنا ہے ایرانی ٹائلز کی غیر قانونی درآمد نے اس صنعت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

7

ٹائلز مینوفیکچررز کا کہنا ہے کہ اگر اس غیر قانونی تجارت کو فوری طور پر روکنے کیلیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو مقامی صنعتوں کی بندش کے خطرات پیدا ہوجائیں گے جو نہ صرف بیروزگاری میں اضافے کا سبب ہو گا بلکہ ریونیوشارٹ فال بھی بڑھنے کا خدشہ ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ٹائل انڈسٹری کے نمائندوں کی جانب سے چیئرمین ایف بی آرکو بارہا مطلع کیا جا چکا ہے کہ کراچی،کوئٹہ، مکران، لاہور اور ملک کے دیگر شہروں میں ایرانی ٹائلزکی وسیع پیمانے پر ڈمپنگ ہورہی ہے جس کی وجہ سے درآمدواسمگل شدہ اور انڈر انوائس شدہ ٹائلز کا مارکیٹ شیئر 45 فیصد سے بڑھ گیا ہے اورگزشتہ 5 تا 6 ماہ کے دوران مقامی صنعتوں میں تیار کی جانے والی ٹائلز کا مارکیٹ شیئر 50 تا 55 فیصد تک محدود ہوگیا ہے، کم قیمت ہونے کی وجہ سے ایرانی ٹائلز مقامی مارکیٹوں میں انتہائی تیزی سے مقبولیت حاصل کررہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایران کو امریکی پابندیوں کا سامنا ہے جس کے باعث وہ غیر قانونی طور پاکستان میں اپنے برآمدی آئٹمز ڈمپ کررہا ہے۔