نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن
لیکن پاکستان میں جو جنگ لڑی جا رہی ہے اس کی نوعیت بالکل جدا، بالکل منفرد ہے۔
کراچی کے رہنے والوں کے لیے خوف اور دہشت کے ساتھ غیر یقینی ایک ایسا عذاب بن گئی ہے کہ گھر سے نکلنے والے کسی شخص کو یہ امید نہیں رہتی کہ وہ خیریت سے گھر واپس آئے گا۔ سانحہ عباس ٹاؤن کے بعد تو اب کراچی کا ہر شخص گھروں، فلیٹوں کے اندر بھی غیر محفوظ ہو کر رہ گیا ہے، دہشت گردی کی اس نئی لہر میں پان کی کیبن تک ٹارگٹ ہو رہی ہیں۔
لانڈھی اور عائشہ منزل پر پان کی کیبن کے نشانہ بننے کے بعد دو دنوں کے اندر دو ایسے افراد گولیوں کا نشانہ بنے جو اپنے شعبوں میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ان میں ایک سبط جعفر تھے جو لیاقت آباد گورنمنٹ کالج کے انتہائی خلیق استاد تھے، دوسرے کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج فیکلٹی کے سینئر رکن اور اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر اسد عثمان تھے۔ ان دونوں کے جرم بھی نامعلوم اور قاتل بھی نامعلوم۔
اس صورت حال نے شہر میں ایسی دہشت طاری کر دی ہے کہ رات میں ٹیکسی اور رکشہ والوں نے سواریاں اٹھانا چھوڑ دیا ہے ان کے حساب سے کسی محفوظ جگہ کی سواری ملتی ہے تو وہ جاتے ہیں ورنہ صاف انکار کر دیتے ہیں۔ ہماری طبیعت بھی کراچی کے حالات کی طرح غیر یقینی کا شکار رہتی ہے۔ ہمارے مہربان معالج ڈاکٹر اے۔ آر صدیقی کا شمار شہر کے معروف نیورو سرجنوں میں ہوتا ہے، ہماری تکلیف کا تعلق بھی دماغ اور اعصاب سے ہے۔ جب بھی ذہن پر دباؤ بڑھتا ہے ہماری طبیعت اچانک خراب ہو جاتی ہے۔
پچھلے ہفتے کی لگاتار قتل و غارت گری، لواحقین کی آسمان کو ہلا دینے والی گریہ و زاری نے ہمارے ذہن اور اعصاب کو اس بری طرح متاثر کیا کہ سروائیکل پین کا درد ہمیں ہلنے جلنے سے بھی معذور کر گیا۔ رات گئے کوئی ٹیکسی کسی ایمرجنسی جانے کے لیے دستیاب نہ تھی، رات بڑی تکلیف میں کٹی۔ جسمانی تکلیف سے زیادہ تکلیف ذہنی تھی جو خود بخود جسمانی تکلیف کا روپ دھار لیتی ہے۔ پچھلے دنوں دہشت گردی کا شکار بننے والی آبادیوں میں مظفرآباد کالونی بھی شامل ہے۔
صنعتی علاقے سے ملحقہ اس آبادی میں ٹریڈ یونین کے کئی ایسے رہنما رہتے ہیں جو برسوں جیلوں میں زندگی گزارتے رہے ہیں ان رہنماؤں کا تعلق پختونخوا اور پنجاب سے ہے، یہ لوگ ساری زندگی طبقاتی سیاست کرتے رہے، ان کے نزدیک محنت کش صرف محنت کش ہوتا ہے وہ نہ پنجابی ہوتا ہے نہ پٹھان نہ مہاجر نہ سندھی نہ بلوچ۔ ایسے ویژن رکھنے والے آج بے لگام بے سمت دہشت گردی سے خوفزدہ اپنے گھروں میں سمٹے بیٹھے ہیں کیونکہ دہشت گردی بھی نہ پٹھان دیکھ رہی ہے نہ پنجابی نہ سندھی نہ بلوچ۔ دنیا کی تاریخ بربریت، قتل و غارت گری سے بھری ہوئی ہے، جنگیں ہر دور کا لازمہ رہی ہیں جن میں لاکھوں انسان مارے گئے۔
1945ء میں تاریخ کی سب سے بڑی سفاکی رقم کی گئی، ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرا کر لاکھوں انسانوں کو کوئلے میں بدل دیا گیا۔ یہ شہر ملبوں کا ڈھیر بن گئے، کوریا اور ویت نام کی جنگوں میں لاکھوں انسان مارے گئے، فلسطین اور کشمیر کی سر زمین انسانی خون سے سرخ ہے، عراق اور افغانستان کی جنگوں میں بھی لاکھوں انسان قتل ہو گئے لیکن یہ ساری جنگیں دو ملکوں یا کئی ملکوں کے درمیان لڑی گئیں جن میں جنگ کے دونوں فریق مسلح ہوتے تھے اور لڑنے والے افواج کو پتہ ہوتا تھا کہ وہ موت کے سامنے کھڑے ہیں یا تو وہ اپنے دشمن کو ماریں گے یا دشمن انھیں مار دے گا۔
لیکن پاکستان میں جو جنگ لڑی جا رہی ہے اس کی نوعیت بالکل جدا، بالکل منفرد ہے۔ سوائے مارنے والوں کے کسی مرنے والے کو پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کیوں مارا جا رہا ہے۔ اس سفاک ترین جنگ کا ایک فریق وہ ہے جو بموں، خودکش بارودی جیکٹوں، بارود بھری گاڑیوں، سیمنٹ کے بلاکوں کو بموں کی طرح استعمال کر رہا ہے اور انسان کشی میں جنون کی وہ حدیں بھی کراس کر گیا ہے جو بڑی بڑی وحشیانہ جنگوں میں بھی ملحوظ خاطر رہتی ہیں یعنی عورتوں، بچوں، بوڑھوں کو بخش دیا جاتا تھا، لیکن آج پاکستان سمیت ساری دنیا کو جن سفاک بھیڑیوں کا سامنا ہے وہ نہ بچوں کو دیکھ رہے ہیں، نہ بوڑھوں کو، نہ عورتوں کو، نہ شیر خواروں کو، نہ بیماروں کو۔
پھر جس بربریت سے ان معصوم بے گناہ انسانوں کو مارا جا رہا ہے اس میں انسانی جسم گوشت کے چھوٹے چھوٹے لوتھڑوں میں اس طرح بدل رہے ہیں کہ مرنے والوں کی شناخت ممکن نہیں۔ انسانی جسموں کو بوریوں میں بھرا جا رہا ہے۔ایک طرف انسانی تاریخ کے ان سفاک ترین حیوانوں کی حیوانیت ہے تو دوسری طرف اس خونی منظر نامے سے سیاسی اکابرین کی لاتعلقی کا عالم یہ ہے کہ ان ٹکڑوں میں بٹی لاشوں اور ان لاشوں کے وارثوں کی انسانی دلوں کو لرزا دینے والی گریہ و زاری کو روندتے ہوئے ہر سیاستدان، ہر مذہبی رہنما اقتدار کی سمت سرپٹ دوڑا جا رہا ہے۔ ٹی وی پر ان سیاسی سفاکوں کی شرمناک لڑائیاں، لوٹ مار کے الزمات اور جوابی الزامات کے بیہودہ مناظر دیکھ کر ہر انسان ایک دوسرے سے یہ سوال کر رہا ہے کہ ان دونوں سفاکوں میں کون سا سفاک بڑا کہلانے کا مستحق ہے، کون سا فریق زیادہ قابل لعنت و ملامت ہے؟
ہم پچھلے دس سال سے دہشت گردی کے جس کربلا میں کھڑے ہیں اگر انتخابات یا نئی منتخب حکومت اس ملک کو دہشت گردی کے اس کربلا سے نکالنے کی اہلیت رکھتی تو بلاشبہ کسی شخص کو بھی انتخابات پر کوئی اعتراض نہ ہوتا لیکن اول تو اس بین الاقوامی بنتی بلا سے چھٹکارا دلانا کسی ایک سیاسی جماعت کے بس کی بات نہیں، دوئم یہ کہ جو انتخابی منظر نامہ ہمارے سامنے ہے اس میں کسی ایک سیاسی جماعت کو اکثریت حاصل ہونے کی کوئی امید نہیں، اگر انتخابات ہو گئے تو جو ممکنہ خطرناک صورت حال بن سکتی ہے وہ یہ ہے کہ اکثریت حاصل کرنے کی دعویدار پارٹیاں کسی دوسری پارٹی کی ممکنہ اکثریت کو قطعی برداشت نہیں کریں گی اور سڑکوں پر نکل آئیں گی۔
دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ پچھلی حکومت کی طرح کوئی کوئلیشن بن جائے اگر ایسا ہوا تو اس تیتر بٹیر کمزور حکومت کا سارا وقت ایک دوسرے کو راضی رکھنے کی مفاہمتی پالیسی میں گزر جائے گا ملک اور عوام کے مسائل حل ہونا تو درکنار ان مسائل میں اتنی تیزی سے اضافہ ہو گا کہ عوام کی قوت برداشت جواب دے جائے گی اور وہ سڑکوں پر دمادم مست قلندر کرنے لگ جائیں گے۔ بھائی زرداری نے بلاشبہ بڑی بہادری دکھاتے ہوئے ایران سے گیس کا منصوبہ سائن کر دیا ہے اور گوادر پورٹ چین کے حوالے کر دیا ہے۔
زرداری حکومت کی ان گستاخیوں پر امریکی سرکار پیچ و تاب کھا رہی ہے کیونکہ یہ دونوں اقدامات مبینہ طور پر امریکی مفادات بلکہ اسٹرٹیجک مفادات کے سخت خلاف ہیں اور امریکا اس کی سزا پاکستان کو 1977ء جیسی تحریک کی سرپرستی کر کے دے گا یا پھر ایران اور شمالی کوریا جیسی بلکہ ان سے زیادہ سخت اقتصادی پابندیاں لگا کر دے گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بھارت کو استعمال کر کے 1965ء یا 1971ء جیسی کوئی صورت حال پیدا کر دے۔ کیا اس ممکنہ خطرناک صورت حال کا نئی حکومت مقابلہ کرنے کی اہل ہو گی؟
ان سنگین حالات میں کیا ہم اس خوفناک دہشت گردی سے نجات حاصل کر سکتے ہیں جو شمالی وزیرستان سے کراچی تک خون کی ندیاں بہا رہی ہے اور 18 کروڑ عوام اس بلا سے نہ گھروں کے اندر محفوظ ہیں نہ گھروں کے باہر۔ کیا نئی حکومت عملدار روڈ، کیرانی روڈ، اصفہانی روڈ اور جوزف کالونی کی لاشوں، آگ اور خون کی ہولیوں کو روک پائے گی؟ کیا کراچی کی سڑکوں پر ہر روز دس سے بیس تک گرنے والی بے گناہ انسانوں کی لاشوں اور بوری بند ٹوٹے پھوٹے جسموں کو سڑکوں کے کنارے پڑے رہنے اور ان کے لواحقین کی گریہ و زاری کو روک سکے گی؟
کیا ان سارے سنگین سوالوں کو جوتوں تلے روندھتے ہوئے انتخابی جنت اور اقتداری محل سرا کی طرف سرپٹ دوڑے جانے والے عوام کی ہمدرد سیاسی اشرافیہ کو ان تلخ ترین حقائق پر غور کرنے کی فرصت ہے؟ میرے گھر میں چار باتھ روم، دو واش روم، ایک کچن، تین واش بیسن ہیں جن کا گندہ پانی پلاسٹک کے پائپوں کے ذریعے پہلے گندی گلی کے مین ہولوں میں آتا ہے پھر وہاں سے گھر کے باہر گٹر کے بڑے مین ہول میں جاتا ہے۔ یہ سیوریج کا گندہ پانی ہے۔
ہماری سیاسی سیوریج کا گندہ پانی ہے۔ ہماری سیاسی سیوریج انتخابات سے قبل ایکٹیو ہو جاتی ہے چھوٹی چھوٹی گندی نالیاں سیوریج کے بڑے کنوئیں میں دھڑا دھڑ گرنے لگتی ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ سیاسی کنوئیں اتنے طاقتور ہو جائیں کہ انتخابات کے مین ہولوں سے گزر کر اقتدار کے مچان تک پہنچ جائیں لیکن اس کامیابی کے بعد ہو گا کیا؟ گٹر بہنے لگیں گے، گلیاں اور بازار گندے پانی کی بو سے اٹ جائیں گے اور لوگ ''سوئیپروں'' کی تلاش میں لگ جائیں گے یا ناک پر رومال رکھ کر وقت گزارتے رہیں گے۔
میں رات 4 بجے جس ناقابل برداشت تکلیف کے ساتھ یہ کالم لکھ رہا ہوں مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ پوری قوم پورا ملک ایسی ہی بلکہ اس سے زیادہ تکلیف کے دہانے پر کھڑا ہے جہاں نہ جائے ماندن نظر آ رہی ہے نہ پائے رفتن دکھائی دیتی ہے۔ اٹھارہ کروڑ دوستو! سنجیدگی سے غور کرو اور سیاسی تاریخ پر نظر ڈالو کہ ایسے حالات میں پھنسی قوموں نے نجات کا کون سا راستہ تلاش کیا، ہمیں کون سا راستہ اپنانا چاہیے کہ اب آپ کی اجتماعی دانش کا امتحان ہے۔