نیوزی لینڈ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی مایوس کن کارکردگی

نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم آسٹریلیا‘ بھارت‘ انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے لیول کی ٹیم نہیں ہے


Editorial January 24, 2018
نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم آسٹریلیا‘ بھارت‘ انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے لیول کی ٹیم نہیں ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان کی کرکٹ ٹیم ان دنوں نیوزی لینڈ کے دورے پر ہے' نیوزی لینڈ کا یہ دورہ ٹیم اور ٹیم منتظمین کے لیے ڈراؤنا خواب بنتا جا رہا ہے۔ پاکستانی ٹیم کو 5ون ڈے میچوں کی سیریز میں وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس کے بعد گزشتہ روز ویلنگٹن میں کھیلے گئے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں بھی پاکستانی ٹیم کو شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کھیل میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے لیکن پاکستانی ٹیم جس طریقے سے ہاری وہ اس کے شایان شان نہیں ہے۔

نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم آسٹریلیا' بھارت' انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے لیول کی ٹیم نہیں ہے۔ ماضی میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کی ٹیم کو اس کے ہوم گراؤنڈ پر کئی بار شکست دی ہے۔ بلاشبہ ایک روزہ میچوں میں نیوزی لینڈ کی ٹیم خاصی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہے اور اس نے بڑی بڑی ٹیموں کو ہرایا بھی ہے لیکن پاکستان کے کھلاڑیوں نے ایک روزہ میچوں میںجس مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا،اس کی توقع نہیں تھی۔

پاکستانی کھلاڑی ویسے تو کسی بھی شعبے میں متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے۔البتہ بیٹنگ میں خاص طور پر بری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پانچ میچوں میں سے صرف آخری میں پاکستانی ٹیم جیت کے قریب پہنچ سکی۔ پیر کو ویلنگٹن میں کھیلے گئے ٹی ٹوئنٹی میچ میں بھی بلے بازوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے' نیوزی لینڈ نے ٹاس جیتا اور پاکستان کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی۔

پاکستانی بلے باز نیوزی لینڈ کے تیز باؤلرز کی سوئنگ اور اٹھتی ہوئی گیندوں کی تاب نہ لا سکے اور یکے بعد دیگرے وکٹیں گنواتے رہے' حالت یہ رہی کہ صرف 38رنز پر 6کھلاڑی آؤٹ ہو گئے۔ بابر اعظم نے 41 اور حسن علی نے23رنز بنائے جن کی بدولت ٹیم 105 رنز کا مجموعہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکی۔ اگر یہ دونوں کھلاڑی ٹیم کو سہارا نہ دیتے تو پاکستان اپنے کم ترین اسکور کا ریکارڈ بھی توڑ سکتا تھا۔ پاکستان کا ٹی ٹوئنٹی میچ میں کم ترین اسکور 74رنز ہے۔

غیرملکی دورے میں پاکستانی بلے بازوں کی صلاحیت کھل کر سامنے آ گئی' بلے باز نئی گیند پر سوئنگ اور باؤنس کا سامنا کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے فاسٹ باؤلر اپنی کارکردگی نہیں دکھا سکے حالانکہ نیوزی لینڈ میں پاکستانی فاسٹ باؤلرز ہمیشہ کامیاب رہے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جب سے پاکستان کے اندر غیر ملکی ٹیموں کی آمد بند ہوئی ہے' پاکستانی بلے بازوں اور باؤلروں کی صلاحیت میں کمی آئی ہے۔

غیر ممالک خصوصاً متحدہ عرب امارات میں کھیل کھیل کر پاکستانی بلے بازوں کو سوئنگ باؤلنگ کھیلنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک پہلو نوجوان کھلاڑی بھی ہیں۔ نیوزی لینڈ جو ٹیم گئی ہے' یہ نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے' دو چار کو چھوڑ کر باقی تمام کھلاڑی پہلی بار نیوزی لینڈ میں کھیل رہے ہیں' اس لیے انھیں وہاں کی کنڈیشنز سے ہم آہنگی میں مشکل پیش آ رہی ہے۔ بہرحال پاکستانی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی سے پاکستانی شائقین کرکٹ کو مایوسی ہوئی ہے۔

پاکستان کے کوچ میکی آرتھر نے امید ظاہر کی ہے کہ تمام تر مسائل کے باوجود نوجوان کرکٹرز کی صلاحیتوں پر اعتماد ختم نہیں ہوا' ناکامیوں سے انھیں اچھا تجربہ ہوا ہے۔ بہتر مستقبل کے لیے سرمایہ کاری کر رہے ہیں' امید ہے کہ یہی کھلاڑی آگے چل کر اچھی کارکردگی دکھائیں گے۔ اللہ کرے کہ ان کی یہ امید پوری ہو لیکن اب تک کھلاڑیوں نے جو کارکردگی اٹھائی ہے' وہ پاکستانی کرکٹ شائقین کے لیے مایوسی کا باعث بنی ہے۔