وہ تھا منّو

عبدالقادر حسن  جمعرات 25 جنوری 2018
Abdulqhasan@hotmail.com

[email protected]

میں نے جب اخبار نویسی شروع کی تو منو بھائی اس شعبے میں مجھ سے سینئر ہو چکے تھے ۔ انھیں محترم احمد ندیم قاسمی کا بھر پور تعاون حاصل تھا اور مجھے حضرت قاسمی صاحب کی نیک خواہشات۔ جس میں جتنی صلاحیت تھی اس نے قاسمی صاحب کے خزانے سے بہت کچھ حاصل کر لیا لیکن قاسمی صاحب کی فراخدلی تھی کہ انھوں نے اپنے موافق اور مخالف نظریات رکھنے والے دونوں نیاز مندوں کی سر پرستی کی اس کے باوجود کہ میں بہت سی وجوہات میں قاسمی صاحب کے زیادہ قریب تھا۔

ہمارا وادیٔ سون کے رشتے سے گہرا تعلق تھا اور اس وادی میں آباد کئی خاندانوں کے باہمی تعلقات کی وجہ سے وادی کے پہاڑوں سے زیادہ باہمی رابطہ تھا ۔ وادیٔ سون کے واحد ہائی اسکول کے سینئر طلبہ میں میرے کزن تھے اور خود قاسمی صاحب اور ان کے کزن بھی۔ ان کا باہمی تعلق خوشگوار رہا چناچہ جونیئر کو وہ جہاں بھی ملتے تو خوش ہوتے اور اپنے اسکول کی باتیں سناتے ۔

محترم قاسمی صاحب کے اور میرے گائوں میں فاصلہ تھا لیکن قاسمی صاحب کی مہربانی کہ انھوں نے اس فاصلے کی کبھی پرواہ نہ کی اور مجھے بھی اپنے گائوں کا سمجھا اور جب بھی اپنے علاقے سے باہر کہیں ملاقات ہوئی تو وہ ایک مہربان بزرگ بن کر ملے اور ہمیشہ میرے سفارشی رہے۔ میں مرحوم قاسمی صاحب کے ذریعے اور سفارش سے ہفت روزہ لیل و نہار میں آگیا جس کے ایڈیٹر جناب سبط حسن، قاسمی صاحب کے دوست تھے اور یہ ایک ترقی پسند ادارہ تھا جس میں، میں بڑی مشکل سے کھپ سکا۔

اس ادارے میں منو بھائی مرحوم جیسے صحافی دوست بھی موجود تھے لیکن نظریاتی اختلاف کی وجہ سے تھوڑی بہت مغائرت رہی مگر دوستی اپنی جگہ کام کرتی رہی ۔ ترقی پسند منو بھائی بھی اگرچہ امروز میں تھے لیکن میرے جیسے لیل و نہاروی سے دوستی رکھتے تھے ۔ امروز اور لیل و نہار ایک ہی ادارے سے تھے لیکن انھوں نے اپنے دوست سید سبط حسن کی ادارت میں ایک ہفت روزہ بھی جاری کیا اور اس میں کام بھی کیا، اس طرح اس ہفت روزہ لیل ونہار میں کئی ترقی پسند شامل ہو گئے۔

میں ایک غیر ترقی پسند بھی اس ادارے میں شامل تھا ۔ مجھے لیل و نہار اس لیے یاد آرہا ہے کہ اس میں کام کرنے والے میرے کئی رفیق کار ان دنوں کہیں دور جا چکے ہیں ان میں ایک منو بھائی بھی تھے میرے نظریاتی مخالف لیکن میرے جگری دوست۔ جن کی یاد اور کئی وجوہات کے علاوہ ان کے مخالفانہ نظریات کی وجہ سے بھی باقی ہے اور رہے گی۔ نظریاتی اختلاف کے باوجود میں بھی اسی مکتب فکر میں پڑھتا رہا جس میں ان کے بزرگ شامل تھے اور اس طرح تعلیمی یگانگت بھی قائم ہو گئی جسے ہم دونوں نے اختلاف کے باوجود نبھایا۔

یہ محض اتفاق ہے کہ تعلیم وغیر ہ سے فارغ ہو کر ہم بسلسلہ روز گارایک ہی ادارے سے متعلق ہوگئے ۔ ترقی پسندوں کے والی وارث میاں افتخار الدین نے ایک بڑا انگریزی اخبار لے لیا اور اس کے ساتھ ہی دو تین اردو کے اخبار بھی سنبھال لیے اس طرح یہ ادارہ دنیا کے اس خطے میں ترقی پسندوں کا سب سے بڑا ادارہ بن گیا، اسی ادارے نے بعد میں ایک اردو ہفت روزہ لیل و نہار کے نام سے بھی جاری کیا جس میں مرحوم احمد ندیم قاسمی کی سفارش پر میں بھی اس ادارے میں شامل ہو گیا، اس کے ایڈیٹر سید سبط حسن جو ترقی پسندوں کے سردار تھے قاسمی صاحب کے انتہائی قریبی دوست تھے اس وجہ سے سفارش کام کر گئی ۔

اس ادارے کو کئی ادیبوں کا تعاون حاصل تھا جس میں اس وقت کے ترقی پسند شامل تھے بلکہ یہ ہفت روزہ ترقی پسندوں کا مرکز تھا اور پورے ملک کے ترقی پسند ادیب اور صحافی اس سے وابستگی کے خواہاں تھے۔ ایک تو یہ ایک بہت بڑے ادارے کی نگرانی میں تھا دوسرے اپنے وقت میںاس ادارے کا بہت بڑا نام تھا جو ایشیا میں ترقی پسندوں کا ادارہ سمجھا جاتا تھا ۔ قاسمی صاحب کی سفارش پر سبط صاحب نے مجھے اپنے اس ادارے میں شامل تو کر لیا جب کہ میں ان کے ادارے کے نظریات کا قائل نہیں تھا لیکن ایک اخبار نویس کی حیثیت سے میں کسی بھی اخبار میں کام کر سکتا تھا خواہ کسی کے نظریات کچھ بھی ہوں ۔

میں کمیونسٹ اخبار لیل و نہار میں شامل ہو گیا، سید سبط حسن کی ادارت میں لیل و نہار کا بڑا نام تھا پھر ان کے بعد بھی کئی نمایاں لوگ اس کی ادارت میں شامل رہے اور میں ایک کارکن کی حیثیت سے کام کرتا رہا ۔ایک زمانے میں سید سبط حسن جیسے کیمونسٹ تھے تو دوسرے اشفاق صاحب تھے کمیونسٹوں کے خلاف ۔

منو بھائی سے ایک اور تعلق بھی عمر بھر قائم رہا کہ میری مرحومہ بیوی رفعت اور منو بھائی دونوں پنجابی کے لکھاری تھے میرا اگر منو بھائی سے رابطہ نہ بھی ہو پاتا تو ان دونوں کا پنجابی لکھاری کا بندھن اتنا مضبوط تھا کہ گاہے بگاہے ایک دوسرے کی خیریت سے آگاہ رہتے تھے اور جب بھی میرا گائوں جانا ہوتا تو منو بھائی کی ایک فرمائش ہوتی تھی کہ قادر حسن وہاں سے میرے لیے چونگاں ضرور لے کر آنا۔ چونگاں پہاڑی علاقے کی ایک بوٹی ہے جو کہ پہاڑوں کے پتھروں میں اگتی ہے انتہائی کڑوی مگر جب اس کو ابال کر پکا لیا جائے تو نہایت خوش ذائقہ ہو جاتی ہے۔

گرمیوں کے موسم میں یہ اگتی ہے جب بھی گائوںجانا ہوتا تھا واپسی پرمنو بھائی کے لیے وادیٔ سون کی یہ سوغات ضرورساتھ ہوتی تھی جس کو وادیٔ سون کے باشندے تو شاید بھول گئے مگر لاہور کے باسی منو بھائی نے یاد رکھا اور اس سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ مجھے یقین ہے کہ وادیٔ سون کی چونگاں بھی منو بھائی کو یاد رکھیں گی۔ منو بھائی کی یادوں کو تازہ کرنے کے لیے کئی کالم درکار ہیں، بہرکیف وقت گزر گیا اور نظریاتی اختلاف کے باوجود بخیرو عافیت گزر گیا ۔اور جب ساتھی ایک بھائی ہو تو خرابی کیسی ۔ ’منّو بھائی‘

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔