فاٹا پر ڈرون حملہ افسوسناک اقدام

امریکی ڈرون حملہ پاک امریکا تعلقات میں پیدا ہونے والی سیاسی خلیج اورسفارتی دراڑ کی سنگینی کی طرف ایک چشم کشا اشارہ ہے۔


Editorial January 26, 2018
امریکی ڈرون حملہ پاک امریکا تعلقات میں پیدا ہونے والی سیاسی خلیج اورسفارتی دراڑ کی سنگینی کی طرف ایک چشم کشا اشارہ ہے۔ فوٹو : فائل

امریکی ڈرون طیارے نے ضلع ہنگو کی تحصیل ٹل اور اورکزئی ایجنسی کے سرحدی علاقے اسپن ٹل میں میزائل حملہ کیا جس میں مبینہ طور پر حقانی نیٹ ورک کے کمانڈر سمیت 2 افراد ہلاک ہو گئے، پولیٹیکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ڈرون حملہ افغان مہاجرین کے گھر پر کیا گیا جس میں احسان عرف خورئے جو مبینہ طور پر حقانی نیٹ ورک کا کمانڈر تھا اور اس کا ساتھی ناصر محمود عرف خاوری ہلاک ہوگئے، حملے کے بعد بھی علاقے میں امریکی ڈرون پروازوں کا سلسلہ جاری رہا۔

دوسری طرف پاکستان نے ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کی یک طرفہ کارروائیاں پاکستان اور امریکا کے درمیان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کے جذبے کے لیے نقصان دہ ہیں۔

فاٹا پر امریکی ڈرون حملہ پاک امریکا تعلقات میں پیدا ہونے والی سیاسی خلیج اورسفارتی دراڑ کی سنگینی کی طرف ایک چشم کشا اشارہ ہے، اس فضائی جارحیت کے خلاف پاکستان کو اپنا احتجاج عالمی سطح پر اٹھانا چاہیے، فاٹا میں امریکی ڈرون حملوں کا آغاز خطے کے امن کے لیے ایک نئی کثیر جہتی مصیبت کھڑی کردیگا، پاکستان نے اپنی مذمت کا اظہار کردیا ہے مگر یہ کافی نہیں ، اس سے دست ِ تہہ سنگ کا تاثر کسی کو نہیں ملنا چاہیے بلکہ مضبوط اور مربوط سفارت کاری کے ذریعہ ٹرمپ انتظامیہ کوبتا دینا چاہیے کہ اس طرح کے حملوں سے خطے میں پیدا ہونے والی پیچیدہ صورتحال پاک امریکا تعلقات کو مزید بلڈوز کردیگی۔

علاقائی امن اور دہشتگردی کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کی حکمت عملی کو لازماً غیر موثر بھی کرسکتی ہے جس سے مخصوص مفادات رکھنے والی وہ قوتیں فائدہ اٹھا سکتی ہیں جو خطے میں جنگ اور امن کے امکانات کو معدوم ہوتا دیکھنے اور اسلحہ کی دوڑ کی منتظر ہیں۔

یاد رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان مخالف تقریر کی عالمی میڈیا میں بازگشت اور اعلیٰ امریکی عسکری عہدیداروں اور سفارت کاروں کے ملے جلے سیاسی بیانات اور فوجی انتباہات خالی از علت نہیں ہیں،امریکا کی جنوبی ایشیا کی پالیسی کے مضمرات کی بنیاد یوں بھی حقیقت پسندانہ نہیں کہ ٹرمپ کے مشیروں اور پینٹاگان کے جنگی ماہرین نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے معتدل زمینی بیانیہ اور اس کے مفادات کو مسلسل نظر انداز کیا ہے۔

ٹرمپ ڈو مور سے آگے نہیں بڑھتے جب کہ افغانستان میں بھارتی اثرونفوذ اور خطے میں اس کی بالادستی کی خواہش کے احترام میں امریکی ڈپلومیسی جس حد تک معاندانہ رخ اختیار کیے ہوئے ہے اس کے علاقائی امن عمل کے پروسیس پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہونگے نیز مستقبل میں ٹرمپ انتظامیہ نے حقائق کا درست ادراک کرتے ہوئے پاکستان کی خطے میں کلیدی حیثیت اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن کردار کو مسترد کیا تو پاکستان اپنی سلامتی پر کسی طور سمجھوتہ نہیں کریگا اور کوئی طاقت اسے خطے میں جبراً نیوٹرلائیز کرکے اپنی مرضی کا ''پولیس مین'' مسلط نہیں کرسکتی۔

عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچنے پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیرخارجہ خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ امریکا کا دباؤ پہلے قبول کیا اور نہ اب قبول کریں گے، حقیقت میں ڈرون حملہ ملکی سالمیت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، غور طلب بات یہ ہے کہ امریکا دہشتگردی سے نمٹنے کے ضمن میں پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کا ہتھوڑا چلاتے ہوئے دھمکیوں کا تانتا باندھے ہوئے ہے۔

دوسری جانب اس نے امریکی میڈیا میں یہ پھلجڑی بھی چھوڑی ہے کہ اب دہشتگردی سے زیادہ اہم ٹاسک چین اور روس سے نمٹنا ہے جو ٹرمپ کا نیا یوٹرن ہی نہیں اس میں مضمر وہ خطرہ بھی ہے کہ امریکا پھر کہیں پاکستان کو دہشتگردی کے دشت میں تنہا چھوڑکر پابندیوں کا نشانہ بنا لے۔

ڈرون حملہ کے بارے میں دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق پاکستان نے بدھ کی صبح ریزولوٹ سپورٹ مشن(آر ایس ایم) کی جانب سے کرم ایجنسی میں ڈرون حملے کی مذمت کی ہے جس نے افغان مہاجر کیمپ کو نشانہ بنایا، ترجمان نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ امریکا پر قابل عمل انٹیلی جنس شیئرنگ کی اہمیت پر زور دیتا رہا ہے تاکہ ہماری فورسز ہماری علاقائی حدود کے اندر دہشت گردوں کے خلاف مناسب کارروائی کر سکیں، پاکستان افغان مہاجرین کی جلد از جلد واپسی کی ضرورت پر بھی زور دیتا رہا ہے کیونکہ پاکستان میں ان کی موجودگی افغان دہشت گردوں کو پناہ گاہوں کی فراہمی میں مددگار ہوتی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت پاکستان خطے کی حرکیات اور ڈرون حملہ کے حوالہ سے کیا ردعمل ظاہرکرتی ہے،بعض امریکی تھنک ٹینکس نے ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ اس کی پالیسیاں خائف پاکستان کو چین کے قریب لا رہی ہیں اور چین نے پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیوں کی حمایت کی ہے اور عالمی قوتوں پر واضح کردیا ہے کہ پاکستان کی قربانیوں کا دنیا اعتراف کرے۔ ٹرمپ پالیسی پر خطر ہے، اس سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔

المیہ یہ ہے ٹرمپ کو برصغیر کی داخلی صورتحال کا کوئی تاریخی شعور نہیں، امریکا کو بھارت کے جھانسے میں آکر تزویراتی مغالطہ یا ایڈونچر سے دور رہنا چاہیے۔ پاکستان کو اگر دیوار سے لگادیا گیا اور وہ چین اور روس سمیت دیگر علاقائی اتحادیوں کے مزید قریب ہوجائے تو پھر امریکا پاکستان کو ہرگز دوش نہ دے۔