عدالتی نظام میں بنیادی اصلاحات

چیف جسٹس نے کہا فوری انصاف کی فراہمی ہم سب کی ذمے داری ہے


Editorial January 27, 2018
چیف جسٹس نے کہا فوری انصاف کی فراہمی ہم سب کی ذمے داری ہے . فوٹو : فائل

ISTANBUL: چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے تسلیم کیا ہے کہ لاء اینڈ جسٹس کمیشن نے اپنا کام صحیح طور پر نہیں کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حکومت نے مختلف قوانین کے حوالے سے کمیشن کی سفارشات اور تجاویز پر بھی غور نہیں کیا، انھوں نے زور دیا کہ فوری اور سستا انصاف فراہم کرنے اور عدالتی نظام کو بہتر طریقے سے چلانے کے لیے عدالتی نظام میں بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ اجلاس میں تمام ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان، چیف جسٹس وفاقی شریعت عدالت، چیئرپرسن کمیشن ان اسٹیٹس آف وومن، جسٹس میاں شاکر اللہ جان، جسٹس خلجی عارف حسین و دیگر نے شرکت کی۔

دنیا بھر میں جمہوریت اور اس کے تحت چلنے والے عدالتی نظام اس اصول پر قائم ہوتے ہیں کہ حقیقی آزادی کے لیے قانون کی حکمرانی ضروری ہے اور ساتھ ہی ایک ایسے عدالتی سسٹم کی جس کی بنیاد کسی ایک شہری کے حقوق کا تحفظ دوسرے شہری کے حقوق کے انکار پر استوار نہ ہو۔ اس بلیغ اشارے میں یہ بات بھی مضمر ہے کہ کسی معاشرے میں سچ کا چلن نہ ہو تو مساوات، انصاف، امن، محبت و یگانگت کی قدریں ناپید ہو جاتی ہیں اور ایسا نظام حکمرانی انجام کار تاریکیوں میں ڈوب جاتا ہے۔

کچھ اسی عدالتی تناظر میں لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے41 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے بعض درد انگیز حقائق کا اعتراف کیا اور کہا کہ کمیشن کی سفارشات پر بھی پارلیمان میں سست روی سے کام ہوتا ہے، اب تک 74 ایسی سفارشات ہیں جن پر عملدرآمد نہیں ہوا، چیف جسٹس نے کہا قانونی اصلاحات کے ساتھ مستند عدلیہ کی بھی ضرورت ہے، فوری انصاف کی فراہمی کے لیے ہم سب کو ملکرکچھ کرنا ہو گا، چیف جسٹس نے کہا اعلیٰ عدلیہ کے ججز ان تھک کام کر رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے غیر سنجیدہ درخواستیں دائر ہوتی ہیں، چیف جسٹس نے عدالتوں پر مقدمات کے اعداد و شمار دیتے ہوئے کہا کہ ماتحت عدلیہ میں ایک جج کے پاس6 گھنٹوں میں150 مقدمات ہوتے ہیں جب کہ ہائیکورٹ میں ایک جج نے5 گھنٹوں میں40 مقدمات کو سننا ہوتا ہے۔

اس جج کو ایک کیس کے لیے دو منٹ15 سیکنڈ ہی ملتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا اعلیٰ عدلیہ کے ججز ان تھک کام کر رہے ہیں، مقدمات کے تاخیر سے فیصلوں کی شکایات ہیں، اس کی اہم وجہ مقدمات کو جان بوجھ کر طول دینا ہے، چیف جسٹس نے کہا دنیا میں مقدمات کی تاخیر کا سبب بننے والوں پر جرمانہ عائد ہوتا ہے، مقدمات کی بھرمار ثالثی کے ذریعے کم ہوسکتی ہے، ہمارے ہاں عدالت سے باہر مقدمات کے تصفیہ (اے ڈی آر) پر توجہ نہیں دی گئی، پنجاب میں اب اس پرکام ہو رہاہے، اے ڈی آر سسٹم سے بہتری آسکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام جہاں انصاف کے حصول میں مشکلات اور لاکھوں کی تعداد میں زیر التوا مقدمات کے فیصلوں کے انتظار کی کربناک اذیتوں کا ذکر کرتے ہیں تو وہ در حقیقت انصاف، جمہوری ثمرات، بنیادی انسانی حقوق اور سماجی و معاشی عدل کے فقدان کا رونا روتے ہیں۔

آج 70 سال ہوگئے،عالم اسلام کا ایک ایٹمی ملک ہونے کے حوالہ سے جمہوری عمل بھی جاری ہے لیکن قانون کی حکمرانی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوا، اداروں میں جذب باہمی، ہم آہنگی، سرکاری محکموں میں عوام کو فوری ریلیف مہیا کرنے کی پیشہ ورانہ جمہوری اسپرٹ اور پارلیمنٹ کی بالادستی سمیت کرپشن سے پاک شفاف انتظامی میکانیت کا ہدف بھی پورا نہیں ہو سکا، کھرا سچ تو یہ ہے کہ قانون کی حکمرانی ختم ہو جائے تو جمہوریت ڈھکوسلہ اور عوام شخصی حکم ماننے کی غلامی قبول کرلیتے ہیں، وطن عزیز کو شاید ان ہی خرابیوں کے باعث بے سمتی کے چیلنجز کا سامنا ہے، عام آدمی کی انصاف سے محرومی، حکومتوں کی اجتماعی غفلت اور بدعنوان اشرافیہ کے تسلط سے تنگ آکر شہریوں کا انبوہ کثیر آزاد عدلیہ سے لو لگانے کے سوا کر بھی کیا سکتا ہے، اسے جوڈیشل فعالیت میں امید کی کرن نظر آتی ہے اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا ۔

موجود چیف جسٹس نے ان ہی حقائق کے پیش نظر قانونی اقدار کی نشاۃ ثانیہ کی بات ایک جوڈیشل پیکیج کے انداز میں کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قانونی اصلاحات اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قانون سازی کی بھی ضرورت ہے، ایسے قوانین بھی ہیں جو موجودہ دور سے مطابقت نہیں رکھتے، چیف جسٹس نے کہا ججزکی خالی اسامیوں پر جلد تعیناتیاں ہونی چاہئیں جب کہ ججوں کی تربیت بھی وقت کی اہم ضرورت ہے، تربیت میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی ناگزیر ہے۔

چیف جسٹس نے کہا فوری انصاف کی فراہمی ہم سب کی ذمے داری ہے، تاخیر سے انصاف کی فراہمی میں صرف عدلیہ ذمے دار نہیں بارکو بھی بنچ سے تعاون کرنا ہوگا۔ عدالت عظمیٰ کے سربراہ نے اپنا دل کھول کے رکھ دیا ہے، چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی بارہا عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کے مابین ہم آہنگی اور مکالمہ کی ضرورت کا احساس دلاتے رہے ہیں، چیف جسٹس بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ اصلاحات کے حوالہ سے ان سے بات ہوئی ہے، ایسا ہی اعتراف نامہ ارباب اختیار کی طرف سے بھی آنا چاہیے کہ پارلیمان نے لا کمیشن کی سفارشات پر عمل کیوں نہیں کیا۔ سچ تو سامنے آ جانا چاہیے۔