چارکمپنیوں کے دودھ پر پابندی… عدالت عظمیٰ کا درست اقدام

ملک میں فروخت ہونے والا ڈبہ بند دودھ صرف نام کا دودھ ہے


Editorial January 29, 2018
ملک میں فروخت ہونے والا ڈبہ بند دودھ صرف نام کا دودھ ہے۔فوٹو: فائل

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ناقص دودھ کی فروخت سے متعلق کیس کی سماعت کی' عدالت عظمیٰ نے گزشتہ سماعت پر کراچی اور حیدر آباد میں فروخت ہونے والے دودھ کے لیبارٹری ٹیسٹ کا حکم دیا تھا' گزشتہ روز یہ رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کی گئی' عدالت عظمیٰ نے ڈبوں میں بند دودھ فروخت کرنے والی چار کمپنیوں کے دودھ پر پابندی لگا دی اور ان کمپنیوں کا تمام اسٹاک ضبط کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ نیز یہ حکم بھی دیا کہ ٹی وائٹنر پر واضح طور پر لکھا جائے کہ یہ دودھ کا نعم البدل نہیں۔

یہ مملکت خدا داد کے لیے کس قدر سبکی کی بات ہے کہ ملک میں فروخت ہونے والا ڈبہ بند دودھ صرف نام کا دودھ ہے، عرصہ پہلے جب گوالا دودھ گھروں میں پہنچاتا تھا تو اس پر دودھ میں پانی ملانے کا گلہ شروع ہوا چنانچہ بڑی کمپنیاں مارکیٹ میں آگئیں جو ملاوٹ میں گوالوں کو کہیں پیچھے چھوڑ گئیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں3 رکنی بنچ نے دودھ کی پیداوار بڑھانے کے لیے جانوروں کو ممنوعہ انجکشن لگانے سے متعلق کیس کی سماعت کی، حکومت سندھ نے رپورٹ میں کہا کہ تمام ممنوعہ انجکشنزکو ضبط کر لیا گیا ہے، سندھ فوڈ اتھارٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دودھ کا معیار ایسا ہو جو ہماری نسلوں کی صحت کا ضامن ہو۔ سپریم کورٹ نے 4 بڑی نجی کمپنیوں کا دودھ غیر معیاری قرار دیے جانے پر ان کی مصنوعات ضبط کرنے کا حکم دے دیا۔

رپورٹ کے مطابق ان چاروںکمپنیوں کا دودھ پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل کی رپورٹ میں غیر معیاری اور انسانوں کے پینے کے قابل نہیں پایا گیا، رپورٹ میں مزید 3 کمپنیوں کے دودھ کو پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول کے معیار سے کم پایا گیا۔ یہ انضباتی کارروائی صارفین کے لیے اطمنان کا باعث ہونی چاہیے مگر اصل مسئلہ عوام کو خالص دودھ کی فراہمی کا ہے دیکھنایہ ہے کہ اس حوالے سے کیا اقدامات کیے جاتے ہیں۔

پاکستان میں غیر معیاری' ناقص اور مضر صحت اشیائے خورونوش کی فروخت عام بات ہے' ابھی تو صرف چار کمپنیوں کے دودھ کا معاملہ سامنے آیا ہے' اگر باقی کمپنیوں کی مصنوعات کا لیبارٹری ٹیسٹ کرایا جائے تو نتیجہ اسی طرح کا سامنا آئے گا' پاکستان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہر ادارہ ہی نہیں بلکہ معاشرہ بھی اخلاقی انحطاط کا شکار ہے' آج چار کمپنیوں کے دودھ کی رپورٹ صحیح نہیں ہے لیکن اس کے بعد نئی رپورٹ سامنے آئے گی جو سو فیصد درست ہو گی۔

پاکستان کی سرکاری مشینری زوال کا شکار ہے' اگر سرکاری عمال ٹھیک کام کریں تو سارے معاملات ٹھیک ہو سکتے ہیں' بہرحال عدالت عظمیٰ نے بڑی جراتمندی سے اس کیس کی سماعت کی ہے کیونکہ طاقتور کمپنیوں کے خلاف مقدمات کی سماعت کوئی آسان کام نہیں ہے' عدالت عظمیٰ کو اس حوالے سے مزید سخت فیصلے کرنے چاہئیں تاکہ عوام کی صحت اور زندگی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔