لیاری ایکسپریس وے کا افتتاح

یہ منصوبہ مختلف مشکلات کا شکار رہا، تکنیکی مشکلات بھی تھیں۔ تجاوزات بھی تھیں۔


Editorial January 30, 2018
یہ منصوبہ مختلف مشکلات کا شکار رہا، تکنیکی مشکلات بھی تھیں۔ تجاوزات بھی تھیں۔ فوٹو : فائل

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ جمہوریت کا تسلسل قائم رہے گا تو پاکستان ترقی کرے گا، کراچی پاکستان کے لیے دل کی حیثیت رکھتا ہے جہاں سے ہماری ساری کامرس آتی ہے، یہ ہمارا کمرشل سینٹر ہے، اگر کراچی ترقی نہیں کرے گا تو پاکستان بھی ترقی نہیں کرے گا، ان خیالات کا اظہار انھوں نے کراچی میں لیاری ایکسپریس وے کے نارتھ باؤنڈ کیرج وے کا افتتاح کرنے کے بعد تقریب سے خطاب میںکیا۔ اس موقع پر گورنر سندھ محمد زبیر عمر، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ'وفاقی وزراء اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

کراچی بلاشبہ ملک کا اقتصادی اور تجارتی ہب ہے جس کے سیاسی استحکام اور امن و امان کے تسلسل سے ملکی معیشت کی شہ رگ جڑی ہوئی ہے، تاہم شہر قائد کو جس رفتار سے ترقی کرنا چاہیے تھی وہ خواب کراچی کے داخلی مصائب، بیڈ پلاننگ، سیاسی جماعتوں کی باہمی کشیدگی اور خونریز وارداتوں کے باعث تشنہ تعبیر رہا جب کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسٹیک ہولڈرز نے دعوے تو بہت کیے لیکن کسی نے کراچی کو اپنا نہیں سمجھا، حالانکہ یہ شہر ملک بھر کے لاکھوں ہم وطنوں کے روٹی و روزگار کا وسیلہ بن چکا ہے، بندہ پرور شہر ہے جسے اون کرنے کی ضرورت ہے، چنانچہ لیاری ایکسپریس کے میگا پروجیکٹ کے شمالی حصہ کا افتتاح اس اعتبار سے خوش آیند ہے کہ کراچی کے دن پھرنے لگے ہیں۔

اس کی بندر گاہ سے ملحقہ سڑکوں پر رش کم ہونے کے ساتھ ساتھ ایکسپریس وے سے منسلک علاقوں اور شہر کی اہم شاہراہوں پر ٹرانسپورٹ اور ٹریفک کے بے ہنگم دباؤ میں نمایاں کمی آئے گی، تجارتی گڈز کی نقل وحمل دگنی ہوگی اور روزگار کے کئی مواقع پیدا ہوں گے، علاوہ ازیں ماری پور روڈ، گلبائی، اسٹیٹ ایونیو، ٹاور، ہاکس بے سمیت دیگر شاہراہوں پر ٹریفک جام سے پیدا شدہ گمبھیر صورتحال بھی نسبتاً بہتر ہوجائیگی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 15سال سے سن رہے تھے کہ لیاری ایکسپریس وے کا منصوبہ زیرتکمیل ہے، آج اس کو مکمل کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ مختلف مشکلات کا شکار رہا، تکنیکی مشکلات بھی تھیں۔ تجاوزات بھی تھیں، انھوں نے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اورگورنر محمد زبیر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ساڑھے پانچ ارب روپے کا منصوبہ تقریباً 10 ارب روپے میں مکمل ہوا۔ کراچی کے عوام کو 10 سال انتظار بھی کرنا پڑا۔ یہ وہ سبق ہیں جو ہمیں مستقبل کے منصوبوں میں میسر ہوں گے۔

وزیراعظم کے مطابق ایم نائن کا موٹر وے بھی مکمل ہونے کے آخری مراحل میں ہے، ملک کے اندر 1700 کلومیٹرکے چھ لین موٹروے بن رہے ہیں، دیگر منصوبے بھی مقررہ وقت پر اپنے بجٹ کے مطابق مکمل ہونگے۔ یہ اطلاع دل خوش کن ہے کہ وفاقی حکومت نے گورنرسندھ کو کراچی کے لیے 25 ارب روپے کا پیکیج دیا ہے جس پرکام شروع ہونے لگا ہے۔

ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ کراچی کے ماس ٹرانزٹ سسٹم سے مربوط تمام منصوبوں کی تکمیل کی مانیٹرنگ شفافیت کے ساتھ کی جائے تاکہ منصوبے جلد مکمل ہوں، ان کی لاگت نہ بڑھے، کراچی میں تجارتی سرگرمیوں کے بڑھنے سے روزگار کے مواقع پیدا ہونگے ، رواں ٹریفک سے ڈیزل اور پٹرول کی بچت ہوگی، کاروباری حجم میں بے پناہ اضافہ ہوگا، لیاری ایکسپریس وے سے پہلے دو اہم پروجیکٹس سرکلر ریلوے اور بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم بھی تکمیل کے منتظر ہیں۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ فرسودہ ٹرانسپورٹ سسٹم کراچی کا بنیادی مسئلہ ہے جس نے شہریوں کو اعصابی بیماریوں میں مبتلا کیا ہے جب کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کو ایک باوقار اور شایان شان ٹرانسپورٹ اور ٹریفک سسٹم کی اشد ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مغربی راہداری اور دیگر سڑکوں کے منصوبے پورے پاکستان کو ترقی دینگے اور خوشحالی لائیں گے۔ موٹروے کے منصوبے پاکستان کی حالت تبدیل کر دینگے۔

آج وسطی ایشیائی ریاستیں بھی دیکھ رہی ہیں کہ ہمیں بھی ان پورٹس سے فائدہ ہوگا۔ مغربی چین بھی دیکھ رہا ہے اور افغانستان بھی دیکھ رہا ہے یہ صرف ہم تک محدود نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پورے خطہ میں چین کا ون بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ جس کا اہم حصہ سی پیک ہے۔ یہ روابط استوار کرنے کے منصوبے ہیں جو پورے ملک اور خطہ میں خوشحالی دینگے۔

شہری تہذیب وتمدن کا آئینہ اس شہر کی ٹرانسپورٹ ہی ہوتی ہے، ملکی شاہراہوں اور موٹرویز کی تعمیر، ترقی اور روزگار کے امکانات شہری ٹرانسپورٹ کی ناگزیر ضروریات سے منسلک ہوتے ہیں، کراچی سمندر، بندرگاہ اور تجارتی روٹس کے حوالہ سے بڑی اہمیت کا حامل ہے جب کہ سی پیک منصوبہ کے گیم چینجر کردار کا ذکر وزیراعظم نے بھی کیا ہے، اصل میں لیاری ایکسپریس وے کو محل وقوع کی روشنی میں مستقبل کی تجارتی سرگرمیوں کے لیے کمرشل ایڈوانٹیج حاصل ہے، جس کی وجہ سے سفر کا دورانیہ کم ہوگا، ساتھ ہی تجارتی اشیا کی نقل و حمل میں تیزی سے ملکی معیشت مزید مستحکم ہوگی۔