کابل میں جنگجوؤں کا ایک اور حملہ

کابل میں جنگجوؤں کی جانب سے حملوں میں آنے والی شدت کسی خاص منصوبہ بندی کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔


Editorial January 30, 2018
کابل میں جنگجوؤں کی جانب سے حملوں میں آنے والی شدت کسی خاص منصوبہ بندی کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔ فوٹو: فائل

افغانستان میں جنگجوؤں کے حملوں میں روز بروز شدت آتی جا رہی ہے۔ پیر کو دارالحکومت کابل کی مرکزی ملٹری اکیڈمی مارشل فہیم ڈیفنس یونیورسٹی پر صبح سویرے 5دہشت گردوں نے حملہ کر دیا جس سے 5فوجی جاں بحق اور 10زخمی ہو گئے جب کہ افغان فورسز کی جوابی کارروائی سے چار حملہ آور ہلاک اور ایک کو گرفتار کر لیا گیا۔

اسی یونیورسٹی پر گزشتہ برس اکتوبر میں ایک حملے میں 15کیڈٹ ہلاک ہو گئے تھے۔ دو ہفتوں کے دوران کابل پر یہ تیسرا دہشت گرد حملہ ہے' ہفتے کو بھی کابل کے ریڈ زون میں غیرملکی سفارتخانوں کے قریب ایمبولینس کے ذریعے خود کش حملہ کیا گیا تھا جس میں 100افراد جاں بحق اور 160سے زائد زخمی ہو گئے' گزشتہ ہفتے لگژری ہوٹل پر بھی حملے میں 22افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

کابل میں جنگجوؤں کی جانب سے حملوں میں آنے والی شدت کسی خاص منصوبہ بندی کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی مسلمانوں اور اسلام کے خلاف متنازعہ پالیسیوں اور بیانات کے باعث ان کے بارے میں نفرت میں اضافہ ہوا ہے' ٹرمپ نے افغانستان کے مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنے کے بجائے وہاں مزید فوجی تعینات کرنے کا حکم دیا جس کا مقصد وہاں جنگجوؤں کے خلاف کارروائیوں میں شدت لانا تھا۔

امریکا گزشتہ 16سال سے افغانستان میں بھرپور جنگ لڑ رہا ہے لیکن اسے ابھی تک اپنے مقصد میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی' اپنی اس ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے وہ افغانستان میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں کا الزام پاکستان پر دھرنے میں دیر نہیں لگاتا اور پاکستان سے دہشت گردوں کے خلاف ڈومور کے مطالبے کی رٹ لگا دیتا ہے۔

پاکستانی حکومت بارہا یہ واضح کر چکی ہے کہ افغانستان کی پیچیدہ اور گمبھیر صورت حال اس امر کی متقاضی ہے کہ اس کا فوجی کے بجائے پرامن حل تلاش کیا جائے کیونکہ فوجی حل ابھی تک اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس وقت افغانستان کے تقریباً 45فیصد علاقے پر امریکا اور افغان حکومت کا کنٹرول نہیں اور یہ علاقے جنگجوؤں کے محفوظ ٹھکانے ہیں جہاں سے نکل کر وہ امریکی اور افغان فورسز کو نشانہ بناتے ہیں۔

اگر امریکا نے اسی طرح افغانستان پر فوجی حل مسلط رکھا تو یہ کہنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ افغانستان میں کبھی امن قائم نہیں ہو گا اور جنگجوؤں کے حملے اسی طرح جاری و ساری رہیں گے جس میں قیمتی جانوں کا یونہی ضیاع ہوتا رہے گا۔ امریکی حکام کو اب یہ سوچنا پڑے گا کہ افغانستان کی ایسی پیچیدہ صورت حال کب تک جاری رہے گی آخر انھیں اس کا کوئی نہ کوئی حل تلاش کرنا پڑے گا۔ حل وہی ہے جس کا اظہار پاکستان بارہا کر چکا ہے یعنی مذاکرات۔