سیاسی طاقت

پاکستان کی سیاسی طاقت کا مالک پنجاب ہے لیکن اس طاقت پرپنجاب کی اشرافیہ نے قبضہ کرکے پورے پاکستان کو اپنی جاگیر بنالیا۔


Zaheer Akhter Bedari February 01, 2018
[email protected]

پنجاب بڑا اہم صوبہ ہے، اس صوبے میں فیض احمد فیض پیدا ہوئے، اس صوبے میں حبیب جالب پیدا ہوا، اس صوبے میں احمد فراز پیدا ہوا، اس صوبے میں اقبال پیدا ہوا، اس صوبے میں مرزا ابراہیم پیدا ہوا، غرض اس صوبے میں ایسے شاعر، ادیب، دانشور پیدا ہوئے جو اس ملک کے عوام میں سیاسی شعور طبقاتی شعور پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہے اور ظلم کے طبقاتی نظام کے خلاف عوام کو مزاحمت کی ترغیب فراہم کرتے رہے۔

قیام پاکستان کے بعد آبادی کے لحاظ سے پنجاب دوسرا بڑا صوبہ بنا رہا اور 1971 کے بعد جب پاکستان دو ٹکڑوں میں بٹ گیا تو پنجاب آبادی کے حوالے سے تینوں صوبوں کی مجموعی آبادی سے زیادہ آبادی والا صوبہ بن گیا، یوں سیاسی طاقت پنجاب کے ہاتھوں میں آگئی، لیکن پنجاب کے عوام اس سیاسی طاقت سے محروم رہے، کیونکہ پنجاب کے طبقہ اشرافیہ نے ملک کی سیاسی اور اقتداری طاقت پر قبضہ کرلیا۔ یوں سیاسی طاقت کے اصل مالک پنجابی عوام کو سیاسی غلام بناکر رکھ دیا گیا۔

اس سازش میں ہمیشہ پنجاب کے عوام کی سادگی کو استعمال کیا گیا، کبھی انھیں زبان کے نام پر استعمال کیا گیا، کبھی قومیت کے نام پر، کبھی کلچر کے حوالے سے استعمال کیا گیا اور اب تک استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ استعمال اشرافیہ کر رہی ہے۔ چھوٹے صوبوں کا بھی پنجاب کی اشرافیہ استحصال کر رہی ہے لیکن بدنام پنجاب کے عوام کو کیا جا رہا ہے، جب کہ پنجاب کے غریب عوام سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے عوام کی طرح غریب اور مظلوم ہیں۔ ان کو بھی حکمران طبقہ اسی طرح لوٹ رہا ہے، جس طرح سندھ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے عوام کو لوٹا جا رہا ہے۔ پنجاب کے عوام بھی اسی طرح طبقاتی استحصال کا شکار ہیں جس طرح دوسروں صوبوں کے عوام شکار ہیں۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کی سیاسی طاقت کا مالک اپنی آبادی کے حوالے سے پنجاب ہے لیکن اس طاقت پر پنجاب کی اشرافیہ نے قبضہ کرکے 70 سال سے پورے پاکستان کو اپنی جاگیر بنا لیا ہے اور دوسرے صوبوں کے عوام کی طرح پنجاب کے عوام بھی اشرافیہ کی رعیت بنے ہوئے ہیں۔

پنجابی عوام کو استعمال کرنے کے لیے جو حربے استعمال کیے گئے ان میں قومیت کے حربے کو سب سے زیادہ موثر طریقے سے استعمال کیا گیا، جاگ پنجابی جاگ کے نعرے کو بھی عوام میں قومیت کے منفی جذبے کو بیدار کرنے کے لیے استعمال کیا گیا اور اب تک استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے دو بڑے نقصان ہو رہے ہیں ایک نقصان یہ ہو رہا ہے کہ دوسرے صوبوں کے عوام میں پنجابی عوام سے مغائرت پیدا ہو رہی ہے جس کی وجہ سے عوام تقسیم کا شکار ہوکر رہ گئے ہیں، دوسرا بڑا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ اشرافیہ خاص طور پر حکمران اشرافیہ مضبوط ہو رہی ہے۔

پاکستان کی 70 سالہ استحصالی تاریخ میں پہلی بار یہ ہو رہا ہے کہ اس اسٹیٹس کو کے خلاف عوام میں ہلچل پیدا ہو رہی ہے اور اس ہلچل سے اشرافیہ اس قدر خوفزدہ اور بدحواس ہو رہی ہے کہ اسٹیٹس کو کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے خلاف پروپیگنڈے کا ایک طوفان اٹھایا جا رہا ہے اور پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ عوام کی توجہ اسٹیٹس کو کی طرف نہ جانے پائے۔ اس نیک کام کے لیے اور عوام کی توجہ کو اسٹیٹس کو کی طرف جانے سے روکنے کے لیے افراد اور جماعتوں کے خلاف الزام تراشی کا ایک منظم سلسلہ شروع کردیا گیا ہے لیکن اب عوام آہستہ آہستہ اتنے باشعور ہوتے جا رہے ہیں کہ دوست اور دشمن کو پہچاننے لگے ہیں، اس صورتحال سے اشرافیہ سخت مضطرب ہے۔

ویسے تو پاکستان میں اشرافیائی لوٹ مار کا سلسلہ 70 سال سے جاری ہے لیکن پہلی بار یہ لوٹ مار پاناما لیکس کی وجہ سے زور شور کے ساتھ منظر عام پر آئی ہے، اور حکمرانوں کی لوٹ مار کی ایسی داستانیں منظر عام پر آرہی ہیں کہ عوام حیرت سے اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اسے اتفاق کہیں یا حسن اتفاق کہ پاناما کے حوالے سے جو اشرافیہ احتساب کی زد میں آرہی ہے اس کا عمومی تعلق بھی پنجاب سے ہے اور ملک کے دوسرے صوبوں کے عوام کی طرح پنجاب کے عوام میں بھی لٹیری اشرافیہ کے خلاف نفرت اور اشتعال بڑھتا جا رہا ہے اس اشتعال اور نفرت کو ملکی سطح پر پھیلنے سے روکنے کے لیے قومیت کے جذبے کو استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ظالم اور استحصالی طبقے کی نہ کوئی قومیت ہوتی ہے، نہ دین دھرم، اس کی قومیت اس کا دین دھرم صرف پیسہ ہوتا ہے، لیکن جب یہ طبقہ احتساب کی زد میں آتا ہے تو پھر صوبائیت کا سہارا لیتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے ترقی کا شدید پروپیگنڈہ کرنے لگتا ہے اور اس نام نہاد ترقی کے پروپیگنڈے پر اربوں روپے خرچ کرکے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی جاتی ہے اور عوام کے سامنے اپنے آپ کو مظلوم بناکر عوام کی توجہ اربوں روپوں کی کرپشن سے ہٹانے کی عیارانہ کوشش کی جاتی ہے۔ اربوں روپوں کی لوٹ مار کی داستانیں میڈیا کے ذریعے عوام تک اس شدت سے پہنچ رہی ہیں کہ اشرافیہ سخت خوف کا شکار ہو رہی ہے اور اس کی بھرپور کوشش ہے کہ کسی طرح وہ عدالتی اور عوامی احتساب کی زد سے بچ جائے۔

بورژوا سیاست کے حمام میں سب ننگے ہوتے ہیں اور سب کی نظر اقتدار کی کرسی پر ہوتی ہے لیکن اس فرق کے ساتھ کہ مڈل اور لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتیں اور سیاسی رہنما لوٹ مار کی اس سطح پر نہیں پہنچ پاتیں جہاں اشرافیہ کی جماعتیں اور اشرافیہ کی سیاسی قیادت پہنچ جاتی ہے کیونکہ مڈل اور لوئر مڈل کلاس میں تھوڑی بہت طبقاتی شرم و حیا ہوتی ہے اور بڑے ڈاکوؤں کے مقابلے میں چھوٹے چوروں کو غنیمت سمجھا جاتا ہے۔ پاکستانی عوام کی بدقسمتی یہ ہے کہ 70 سال میں مڈل اور لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والی ایماندار اور عوام دوست قیادت کو اقتدار میں آنے کا موقع نہیں ملا، یا نہیں دیا گیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سیاست اور اقتدار مستقل اشرافیہ کے ہاتھوں میں مرکوز رہا۔

آبادی کے حوالے سے پنجاب ملک کے تینوں صوبوں کی مجموعی آبادی سے بڑا صوبہ ہے اور ملک کی سیاسی طاقت اس صوبے کے ہاتھوں میں ہے لیکن عوام اس طاقت سے محروم ہیں یا کردیے گئے ہیں، اگر پنجاب کے عوام پنجاب کی سیاسی طاقت کو اپنے ہاتھوں میں لے لیں تو نہ صرف سیاست اور اقتدار پر سے اشرافیہ کا قبضہ ختم ہوسکتا ہے بلکہ چاروں صوبوں کے عوام بھی سیاست اور اقتدار پر سے اشرافیہ کا قبضہ ختم کراسکتے ہیں۔

اگر ایسا ہوتا ہے تو 70 سال سے محکومی اور اقتصادی استحصال سے اس ملک کے 20 کروڑ عوام نجات حاصل کرسکتے ہیں اور سیاست اور اقتدار پر ان کی بالادستی قائم ہوسکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے عوام کو رنگ و نسل قومیت کے حصار سے باہر آنا ہوگا اور طبقاتی بنیادوں پر متحد ہونا پڑے گا۔ جس کا کریڈٹ پنجاب کے عوام کو ملے گا۔

مقبول خبریں