جمہوریت کے ثمرات
عوام کے لیے بنیادی ضروریات زندگی ہی کو جمہوریت کے ثمرات مانا جاتا ہے۔
ہمارے وفاقی وزیر مملکت نے کہا ہے کہ جمہوریت کے ثمرات اب عوام تک پہنچنے شروع ہوگئے ہیں، اگر ایسا ہے تو یہ بڑی خوشی کی بات ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 'ثمرات' سے وزیر مملکت کا مطلب کیا ہے؟ عوام کی زندگی 70 سال سے جمہوریت کے ثمرات سے محروم رہے ہیں اگر ثمرات سے مراد عوام کی ضروریات زندگی ہے تو ضروریات زندگی سے عوام پچھلے 70 سال سے محرومی کا شکار ہیں۔
دوسرے ملکوں میں منتخب حکمران جمہوریت کے ثمرات سے مراد آٹا، تیل، چاول، گھی، گوشت، دودھ، سبزی، دالیں جیسی چیزیں لیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بجلی، گیس، پٹرول، سی این جی کو بھی ضروریات زندگی میں شامل کیا جاتا ہے اور حکمران ان چیزوں کی قیمتوں میں کمی کو جمہوریت کے ثمرات میں شمار کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ مختلف ٹیکسوں میں کمی کو ثمرات میں شمار کیا جاتا ہے۔
اگر جمہوریت کے ثمرات یہی ہیں تو معذرت کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ ان ثمرات میں سے کوئی ایک ثمر بھی ہمارے عوام تک نہیں پہنچ رہا، یعنی کسی ایک چیزکی قیمت میں بھی کمی نہیں دکھائی دیتی۔اس کے برخلاف ضروریات زندگی کی ہر چیز کی قیمتوں میں اضافہ ہی دیکھا جارہا ہے، اگر وزیر موصوف یا موصوفہ کا ثمرات سے مراد ضروریات زندگی کے علاوہ کوئی چیز ہے تو پھر اس کے بارے میں وضاحت کی ضرورت ہے۔ ہمارے حکمران عوام کی اس قسم کی خوشخبریاں آئے دن سناتے ہی رہتے ہیں۔ لیکن حقیقت بلکہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہ خوشخبریاں وزراء کے بیانات تک ہی محدود رہتی ہیں عملی زندگی سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
جمہوریت سے پہلے کے شاہانہ دور میں عوام کی ضروریات زندگی ان کا حق نہیں ہوتی تھیں، بلکہ نیک دل بادشاہ عوام کی ضروریات زندگی کا خیال رکھتے تو یہ ان کی عنایت ہوتی تھی۔اس عنایات سلطانی کے کلچر کو تبدیل کرنے کے لیے دنیا کے مفکرین نے جمہوریت کو متعارف کرایا تاکہ اختیارات شخص واحد کے ہاتھوں سے نکل کر عوام کے ہاتھوں میں آئیں اور ملکوں کا تو ہم نہیں کہہ سکتے لیکن ہمارے ملک میں جمہوریت کے باوجود عوام اختیارات سے محروم ہیں۔
جمہوریت میں عوام اختیارات الیکشن کے ذریعے اپنے نمایندوں کو دے دیتے ہیں، اس سسٹم کا نام جمہوریت ہے۔ عوام کے منتخب نمایندے قانون ساز اداروں میں جاکر عوام کے مفادات کے مطابق قانون بناتے ہیں اور ان ہی قوانین کے ذریعے عوام کی ضروریات زندگی عوام تک پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ شاہانہ دور میں ضروریات زندگی کی فراہمی کا تعلق بادشاہ کے صوابدید اور مہربانیوں سے تھا لیکن جمہوریت میں ضروریات زندگی کا حصول عوام کا حق ہوتا ہے۔
جمہوریت کے باوجود جمہوریت کے ثمرات یعنی ضروریات زندگی سے محرومی کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں جمہوریت سرے سے موجود ہی نہیں بلکہ جدید شاہوں کی حکمرانی کو جمہوریت کا نام دے دیا گیا ہے۔ جمہوریت کا مطلب ''عوام کی حکومت'' عوام کے لیے، عوام کے ذریعے ہوتا ہے۔ جمہوریت کے ان تین اصولوں میں سے صرف ایک اصول ہماری جمہوریت میں کار فرما ہے اور وہ اصول ہے ''عوام کے ذریعے عوام کی حکومت عوامل کے لیے'' ہماری جمہوریت میں سرے سے غائب ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا انتخابی نظام جن خطوط پر ترتیب دیا گیا ہے اس میں عوام کے نمایندے قانون ساز اداروں میں پہنچ ہی نہیں سکتے کیونکہ انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کروڑوں کے سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے اور بے چارے غریب طبقات جو ساری زندگی دو وقت کی روٹی کے لیے بھاگتے رہتے ہیں وہ قانون ساز اداروں میں پہنچنے کے لیے کروڑوں روپوں کے انتخابی اخراجات برداشت کرنے کے متحمل ہی نہیں ہوتے جو طبقات جمہوریت میں کروڑوں کی سرمایہ کاری کرتے ہیں وہی ''جمہوریت کے ثمرات'' سمیٹتے ہیں اور بے چارے غریب عوام روٹی روزی سے محتاج رہتے ہیں۔
عوام کے لیے بنیادی ضروریات زندگی ہی کو جمہوریت کے ثمرات مانا جاتا ہے مثلاً روٹی، کپڑا، مکان اور بنیادی ضروریات زندگی کو جمہوریت کے ثمرات کہاجاتا ہے لیکن ہماری شاہانہ جمہوریت میں عیش و عشرت کی زندگی کے لوازمات اور کروڑوں، اربوں کی لوٹ مار کو جمہوریت کے ثمرات کہا جاتا ہے۔
ستر سال سے اشرافیہ کا ایک چھوٹا سا طبقہ جمہوریت کے ثمرات سمیٹ رہا ہے اور اس ملک کے اکیس کروڑ عوام جمہوریت کے ثمرات سے محروم ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں انتخابات میں شرکت کے لیے عوام کو ساری سہولتیں حاصل ہیں، اس لیے عوام انتخابات میں حصہ بھی لیتے ہیں اور قانون ساز اداروں میں پہنچ جاتے ہیں۔ عوامی نمایندے جب قانون ساز اداروں میں جاتے ہیں تو فطری طور پر وہ عوام تک جمہوریت کے ثمرات پہنچاتے ہیں لیکن سرمایہ کار جب قانون ساز اداروں میں پہنچتے ہیں تو سود سمیت سرمائے کی واپسی ان کا بنیادی مقصد بن جاتا ہے اور عوام بے چارے جمہوریت کے ثمرات سے محروم رہ جاتے ہیں۔
اس کلچرکی ایک وجہ یہ ہے کہ قیام پاکستان کی جدوجہد میں اس ملک کا مراعات یافتہ طبقہ نہ صرف شامل ہو گیا بلکہ اس جد وجہد میں قائدانہ کردار ادا کرتا رہا اور یہ کردار اس طرح موروثی بن گیا کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی یہی طبقہ سیاست اور اقتدار پر قابض ہے اور سیاست اور اقتدار کو اپنا موروثی حق سمجھتا ہے اور آج ملک میں جمہوریت کے نام پر جو جنگ عدالتوں میں لڑی جارہی ہے یہ جنگ جمہوریت کی جنگ نہیں بلکہ موروثی اقتدار کو لاحق خطرات کے خلاف لڑی جانے والی جنگ ہے انتہائی بے حیائی سے اسے جمہوریت کی جنگ کا نام دیا جارہاہے۔
جمہوریت کے ثمرات میں آسودہ زندگی، تعلیم اور علاج کی سہولتیں انتخابات میں بلا تخفیف شمولیت قانون ساز اداروں تک رسائی شامل ہے۔ کیا اس ملک کے اکیس کروڑ عوام کو آسودہ زندگی نصیب ہے؟کیا اس ملک کے عوام کو تعلیم اور علاج کی سہولتیں حاصل ہیں؟ کیا اس ملک کے عوام کو انتخابات میں حصہ لینے کا حق اور قانون ساز اداروں تک رسائی کا حق حاصل ہے؟ ان سوالوں کے جوابات منفی ہی میں آتے ہیں۔ ایسی امتیازی، غیرمنصفانہ صورتحال میں یہ کہنا کہ جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچ رہے ہیں سرسر بد دیانتی اور جمہوریت دشمنی کے علاوہ کچھ نہیں۔