جعلی ڈگری والوں کیخلاف2روز میں کارروائی مکمل کی جائے سپریم کورٹ کا حکم

،الیکشن لڑنے والوں کو دیانتداری ثابت کرنا ہوگی، ووٹرز کوامیدوار کے کوائف کا علم ہونا چاہیے،عدالت


کاغذات نامزدگی ویب سائٹ پر ڈال دینگے، سیکریٹری الیکشن کمیشن، جعلی ڈگری کی تحقیقات مکمل نہ کرنیوالے افسروں کو بلائینگے، چیف جسٹس، زیرالتوا مقدمات کی تفصیل کل طلب فوٹو فائل

سپریم کورٹ نے گذشتہ انتخابات میں جعلی ڈگریوں پر منتخب ہونے والے افراد کیخلاف الیکشن کمیشن کو2 روز میں کارروائی مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے منگل کو چاروں صوبائی ہائیکورٹس اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار حضرات سے ضلعی عدالتوں میں جعلی ڈگریوں کے متعلق زیر سماعت مقدمات کی تفصیل بھی طلب کر لی۔ جعلی ڈگریوں سے متعلق عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو جسٹس گلزار احمد نے سوال اٹھایا کہجن امیدواروں نے 2008 کے الیکشن میں حصہ لیا، ان کی ڈگریوں کی جانچ پڑتال کا کیا بنا؟۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان نے بتایا کہ ڈگریوں کی تصدیق کیلیے ایچ ای سی سے رجوع کیا تھا جس نے 69 ڈگریوں کو جعلی، ناقص یا غلط قرار دیا۔

27ڈگریوں کو کلیئر کیا جبکہ34سابق ارکان اسمبلی کیخلاف مقدمات ڈی پی اوز کو بھیج دیے گئے، 8 کا معاملہ عدالت میں ہے۔ بی بی سی کے مطابق سیکریٹری الیکشن کمیشن نے بتایاکہ جعلی ڈگریوں پر صرف 2سابق ارکان پارلیمنٹ کیخلاف کارروائی کی گئی۔173 ارکان نے اپنی سندیں جمع نہیں کرائیں، اگر یہ 173 ارکان ان انتخابات میں حصہ لے بھی لیں اور کسی بھی موقعے پر ڈگریاں جعلی ہونے کی تصدیق ہوگئی تواْن کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ فلٹر لگا لیا ہے، غلط لوگ روک لیے جائیں گے، عوام میں شعور آگیا ہے کہ کس کو ووٹ دینا ہے۔

ووٹروں کو امیدواروں کے تمام کوائف اور معلومات سے آگاہ ہونا چاہیے۔ بی بی سی کے مطابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ اْمیدواروں کے کاغذات نامزدگی ویب سائٹ پر ڈال دیے جائیں گے۔ عدالت نے کہا کہ ایسے اقدامات ناگْزیر ہیں تاکہ وہ لوگ منتخب ہوکر آئیں جن پر کم از کم جعلی ڈگریوں سے متعلق الزامات نہ ہوں۔ آئی این پی کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ ووٹرز کو امیدوار کے بارے میں ہر چیز کا علم ہونا چاہیے' اب فلٹر لگا دیا ہے، غلط لوگ جانچ پڑتال میں رک جائیں گے، کسی کو شک نہ ہوکہ پارلیمنٹ میں سچے نمائندے نہیں۔



اس سے بڑھ کر عوامی اہمیت کا معاملہ کوئی نہیں، انتخابات میں ایماندار لوگوں کو سامنے آنا چاہیے۔ اسٹیٹ بینک سے امیدوارکے بارے میں جانچ پڑتال کرانا قابل تعریف ہے۔ اے پی پی کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا کہ جن افراد کو عدالت نے نااہل قرار دیا، ان کیخلاف کوئی کارروائی ہوئی نہ ہی کسی کو سزا ملی، الیکشن کمیشن اس سلسلے میں کچھ نہیں کر رہا، عدالت تحقیقات مکمل نہ کرنے والے پولیس افسران کو بھی بلائے گی۔ انتخابات میں حصہ لینے کے خواہش مندوں کو اپنی دیانتداری ثابت کرنا ہوگی۔ این این آئی کے مطابق چیف جسٹس نے ایچ ای سی کو ہدایت کی کہ وہ ایسا طریقہ کار وضع کرے۔

جس سے ڈگری کی جلد تصدیق ہوسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل19 کے تحت ہر شہری کو حق ہے کہ وہ آزادانہ طور پر اپنے امیدوار کا انتخاب کرسکے، ووٹر کے پاس کاغذات نامزدگی پر اعتراض کا حق ہے۔ آن لائن کے مطابق چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، اب انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی ہر طرح سے چھان بین ہوگی، جعلی ڈگری والوں کیخلاف اب تک کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ ۔

انھوں نے کہا کہ بہت ہوگیا، اب بدعنوان عناصر اسمبلیوں میں نہیں جانے دیں گے، جعلی ڈگری والوں نے قوم کیساتھ نہ صرف دھوکہ کیا بلکہ مینڈیٹ کا مذاق اڑایا، ایسے لوگ کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ اس موقع پر جمشید دستی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا الیکشن کمیشن نے استعفے کے پونے3سال بعد انھیں سنے بغیر کیس سیشن جج کو بھجوا دیا گیا ، دیگر ارکان نے بھی استعفے دیے، ان کیخلاف کارروائی نہیں کی گئی۔چیف جسٹس نے انھیں تسلی دی اور کہا 28مارچ کو الیکشن کمیشن کا جواب آنے دیں، دیگر ارکان کے ساتھ آپ کا معاملہ بھی دیکھیں گے۔

مقبول خبریں