انصاف کی جنگ کے 33 سال

وہ دھونس، دھمکیوں اور طعنوں کے باوجود اپنے قدموں پر کھڑا رہے۔


جواد گیلانی February 06, 2018
وہ دھونس، دھمکیوں اور طعنوں کے باوجود اپنے قدموں پر کھڑا رہے۔ فوٹو : فائل

ISLAMABAD: قران پاک میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے:''اے ایمان والو! تم انصاف پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے والے (محض) اللہ کے لیے گواہی دینے والے ہو جاؤ۔ خواہ (گواہی) خود تمہارے اپنے یا (تمہارے) والدین یا (تمہارے) رشتہ داروں کے ہی خلاف ہو، اگرچہ (جس کے خلاف گواہی ہو) مال دار ہے یا محتاج، اللہ ان دونوں کا (تم سے) زیادہ خیر خواہ ہے۔ سو تم خواہشِ نفس کی پیروی نہ کیا کرو کہ عدل سے ہٹ جاؤ (گے)، اور اگر تم (گواہی میں) پیچ دار بات کرو گے یا (حق سے) پہلو تہی کرو گے تو بیشک اللہ ان سب کاموں سے جو تم کر رہے ہو خبردار ہے۔''(سورہ النساء۔135)

یہ آیات کریمہ واضح کرتی ہیں کہ عدل وانصاف اللہ تعالی کو بہت محبوب ہے کیونکہ اسی کی بنیاد پر ایک مضبوط،ترقی یافتہ اور خوشحال معاشرے کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔بدقسمتی سے پاکستان میں عدل وانصاف کی فروانی عنقا ہے ۔عوام کوانصاف مل تو جاتا ہے مگر مختلف وجوہ کی بنا پر وہ بہت دیر سے ملتا ہے۔اس کی ایک مثال خواجہ عبدالسمیع کا مقدمہ ہے جو 33 سال تک مسلسل چلتا رہا۔

یہ 1974ء کی بات ہے جب خواجہ عبدالسمیع نے نئے نویلے بنے وفاقی دارالحکومت،اسلام آباد کے سیکٹر ای سیون میں دو کنال کا پلاٹ خریدا۔اس وقت ان کی عمر 31 برس تھی۔یہ پلاٹ انھوں نے48 ہزار روپے سے زیادہ کی رقم میں خریدا تھا۔وہ کراچی میں تجارت کرتے تھے اور اپنی جمع پونجی محفوظ کرنے کی خاطر انھوں نے یہ قدم اٹھایا تھا۔مگر خواجہ عبدالسمیع کے وہم وگمان میں نہیں تھا کہ وہ یہ پلاٹ خرید کر ایک بڑی مصبیت میں پھنس جائیں گے۔

ہوا یہ کہ پلاٹ خرید کر وہ اپنے روزمرہ کاموں میں مشغول ہو گئے۔1983ء میں وہ اہل خانہ کے ساتھ مری سیروتفریح کرنے آئے۔اسلام آباد سے گذرتے ہوئے انھوں نے سوچا کہ لگے ہاتھوں اپنا پلاٹ بھی دیکھ لیا جائے۔مگر وہاں پہنچے تو یہ دیکھ کر ان کی حیرت کی انتہا نہیں رہی کہ وہاں ایک مکان کی تعمیر جاری تھی۔مذید معلومات لینے پر افشا ہوا کہ ان کی غیر موجودگی میں دو وکلا نے پلاٹ پہ قبضہ کر لیا تھا۔وہ اس بات کے دعوی دار تھے کہ انھوں نے پلاٹ خواجہ عبدالسمیع ہی سے خریدا ہے۔

قانون کے مطابق عبدالسمیع نے اسلام آباد میں تعمیر وترقی کے سرکاری ادارے،سی ڈی اے سے رابطہ کیا ۔لیکن وہاں ان کی کوئی شنوائی نہ ہوئی۔حیران پریشان ہو کر انھوں نے پلاٹ واپس حاصل کرنے کی خاطر پہلا مقدمہ سنہ 1984ء میں دائر کر دیا۔اس میں سی ڈی اے کو بھی فریق بنایا گیا۔اس کے بعد یہ مقدمہ راولپنڈی کی مختلف عدالتوں میں چلتا رہا ۔ پھر اسلام آباد ہائی کورٹ بننے کے بعد اس کی سماعت وہاں جاری رہی۔خواجہ عبدالسمیع بتاتے ہیں''اس عرصے میں مختلف عدالتوں نے ان کے حق میں فیصلہ دیا تاہم بار بار حکم امتناعی مل جانے سے مقدمہ طوالت اختیار کر گیا۔''

آخر کار 2015ء میں ماہ اکتوبر میں عدالتِ عظمیٰ نے عبدالسمیع کے حق میں فیصلہ دے دیا اور تسلیم کیا کہ پلاٹ انہی کا ہے۔تاہم ابھی ان کا قانونی سفر ختم نہیں ہوا تھا۔اس کے بعد انھوں نے اپنی جائیداد کے قبضے کا مقدمہ پھر اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کیا ۔اس مقدمے کا فیصلہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کیا اور اس پر خاصی مشکلات کے بعد 2017ء میں عمل درآمد ہوا ۔دونوں مجرموں نے اس دوران پلاٹ پر گھر تعمیر کر لیا تھا۔جب فیصلہ ان کے خلاف ہوا تو مکان گرا دیا گیا۔

بوڑھے خواجہ عبدالسمیع کئی سال کی قانونی جدوجہد کے بعد مقدمہ جیت جانے پر خوشی سے زیادہ فخر محسوس کر تے ہیں۔ان کا کہنا ہے''مجھے فخر اس بات پر ہے کہ میں دھونس، دھمکیوں اور طعنوں کے باوجود اپنے قدموں پر کھڑا رہا۔میں مسلسل قبضہ مافیا سے لڑتا رہا اور بالآخر تین دہائیوں بعد اپنا پلاٹ واپس لے لیا۔''

اسلام آباد میں گھر بنا کر اس میں رہنے کی خوشی کراچی کے تاجر کو نصیب نہیں ہوئی لیکن اس دوران مختلف عدالتوں کے چکر لگاتے لگاتے وہ پاکستان کے عدالتی نظام کے ماہر ضرور بن گئے۔خواجہ عبدالسمیع کہتے ہیں''میرا خیال ہے، عدالتوں میں مقدمے جو کئی سال چلتے رہتے ہیں،اس خرابی میں قصور ججوں کا نہیں بلکہ قانون کا ہے۔پچھلے 33 برس کے دوران بہت سے ججوں نے میرا مقدمہ سنا لیکن مجھے کبھی محسوس نہیں ہوا کہ کسی جج نے پیسے لے کر میرے مقدمے کو طول دینے کی کوشش کی ہے۔ سب ایماندار جج تھے لیکن وکلا کی قانونی مو شگافیوں کے سامنے سب بے بس دکھائی دیتے تھے۔''

خواجہ عبدالسمیع اپنے طویل مقدمے کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید کہتے ہیں'' پوری قانونی جنگ کے دوران جج صاحبان نے کبھی بلواسطہ یا بلاواسطہ طور پر مجھ سے کوئی مطالبہ نہیں کیا لیکن میرا مقدمہ بار بار حکم امتناعی جاری کیے جانے کی وجہ سے طویل ہوتا چلا گیا۔''اس مقدمے کے دوران ان کی جائیداد پر غیر قانونی قبضہ کرنے والوں نے کئی بار انھیں ان کی جائیداد کی قیمت دے کر معاملہ ختم کرنے پر زور دیا تاہم عبدالسمیع کا کہنا تھا :

''تم نے ایسے شخص کی جائیداد پر قبضہ کیا ہے جس کو اللہ تعالی نے اس قابل بنایا ہے کہ وہ یہ مقدمہ لڑ سکے۔''

برسوں قبل خواجہ عبدالسمیع نے اہلیہ کے نام پر جو پلاٹ محض اڑتالیس ہزار روپے میں خریدا تھا،اب اس کی قیمت بیس سے پچیس کروڑ روپے کے درمیان ہے۔مگر انھیں اس پلاٹ کی مہنگی قیمت سے زیادہ دلچسپی نہیں۔خواجہ عبدالسمیع کا کہنا ہے: ''پورے مقدمے کے دوران میری خاندانی زندگی متاثر رہی۔ لیکن میں نے اس مقدمے کی پیروی کرنا صرف اس وجہ سے ترک نہیں کیا کہ میں قانون اور انصاف پر اپنے یقین و ایمان کو قائم ودائم رکھنا چاہتا تھا اور آخرکار کامیابی مجھے ہی ملی۔''