سیاسی جماعتوں کے منشور کہاں ہیں

آج الیکشن کروڑوں کا کاروبار بن چکا ہے، امیدوار الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کو بھی نظر انداز کرتے ہیں


Editorial February 07, 2018
آج الیکشن کروڑوں کا کاروبار بن چکا ہے، امیدوار الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کو بھی نظر انداز کرتے ہیں۔ فوٹو: فائل

BHAKKAR/MULTAN: جوں جوں آیندہ انتخابات قریب آرہے ہیں، ملکی سیاست بدستور تلاطم خیزہے، سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں میں بلیم گیم عروج پر ہے، اور ابھی تک کسی سیاسی جماعت نے مروجہ جمہوری روایات کے تحت پارٹی منشور جاری نہیں کیا، سینیٹ کے الیکشن میں کامیابی کے لیے سیاسی جوڑ توڑ کے ساتھ ساتھ چمک اور دولت کے بے تحاشا استعمال کی باتیں میڈیا پر ہورہی ہیں، بعض سیاسی مدبرین نے البتہ پیسہ بولتا ہے کی تھیوری کو مبالغہ آمیز قراردیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ کے انتخابات کو کلی طور پر پیسے کا کھیل تماشا بناکر پیش کرنا ایوان بالاکی تضحیک ہے، عوام کے فہمیدہ حلقے اس حقیقت سے ناواقف نہیں کہ انتخابات کے اخراجات عام آدمی کے تصور سے بھی بالاتر ہیں۔

آج الیکشن کروڑوں کا کاروبار بن چکا ہے، امیدوار الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کو بھی نظر انداز کرتے ہیں، بریف کیس پالیٹکس سے کوئی انتخاب مبرا نہیں رہا لیکن تمام تر خرابیوں کے باوجود کوشش یہی ہوتی رہی کہ انتخابات شفاف ہوں ان پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے، آج بھی جتنے دن باقی رہ گئے ہیں انتخابی اصلاحات کی طرف توجہ دیکر شفاف انتخابی عمل کے خواب کو شرمندہ تعبیر بنایا جاسکتا ہے۔

جس کے لیے سیاست دانوں کو اپنا جمہوری کردار ادا کرتے ہوئے اور منشور کو حتمی شکل دے کر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ شفاف الیکشن کے انعقاد کے لیے سنجیدہ ہیں، ملکی سیاست میں دولت کے بغیر اگرچہ کوئی الیکشن نہیں لڑ سکتا مگر سینیٹ کے ہر ممبر کی ساکھ، اس کی عزت نفس کو پیسے اور مالیاتی جور توڑ سے مشروط کرنا زیادتی ہے،اس لیے کوشش ہونی چاہیے کہ جلسے جلوسوں کا موسم اپنے شائستہ جمہوری جوبن پر رہے، تاحال مین اسٹریم تین بڑی سیاسی جماعتوں ،ن لیگ، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے جلسوں میں ایک دوسرے کے خلاف لفظوں کی گھن گرج جاری ہے، سابق صدر آصف علی زرداری نے لاہور موتی گیٹ دروازہ پر منعقدہ جلسے میں کہا کہ نواز شریف پر کڑی تنقید کی اورکہا کہ اس بار اسے چھوڑدیا تو اﷲ بھی معاف نہیں کریگا جب کہ مظفر آباد کے جلسے میں سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ ووٹ کو عزت نہ دی گئی تو پاکستان بیٹھ جائے گا، پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ نواز شریف کی نظر میں وزیراعظم کو کرپشن کی اجازت ہے ۔

یوں جلسوں کے ذریعے جو سیاسی بیانیے منشور کے شکل میں قوم کے سامنے آنا چاہیے تھا وہ جذباتی تقریر اورافسوس ناک ذاتی حملوں تک محدود ہے لہٰذا خدشہ ہے کہ پارٹی ترجیحات کے اعتبار سے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی معرکہ آرائی اصولاً ترک کی جانی چاہیے تاکہ سیاسی نظام میں تبدیلی کا عندیہ دیا جاسکے، کردار کشی،الزام تراشی اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا غلبہ الیکشن کی فضا کو پراگندہ ہونے سے نہیں بچا سکے گا۔ مخالفانہ تند وتیز بیانات کا سلسلہ بند ہونا لازمی ہے۔ادھر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان میں پیدا شدہ تنظیمی بحران سنگین ہوگیا ہے۔

جو گزشتہ روز اجلاس میں سینیٹ انتخابات کے تناظر میں تہلکہ خیز ثابت ہوا،امتحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے اپنے رکن کامران ٹیسوری کو رابطہ کمیٹی سے خارج کرتے ہوئے 6 ماہ کے لیے معطل کرنے کا اعلان کردیا۔متحدہ پاکستان کے سربراہ ڈاکتر فاروق ستار نے کہا ہے کہ وہ کسی طور پر بلیک میل نہیں ہونگے،ادھرخالد مقبول نے کہا کہ عامر خان نے الیکشن میں شرکت سے معذوری ظاہر کی جب کہ ایک اور رکن کو زبردستی کہا گیا کہ وہ دست بردار ہوجائیں تاکہ کامران ٹیسوری کا سینیٹر بننے کا نمبر آجائے، تحریک انصاف کے ترجمان نعیم الحق نے کہا ہے کہ ریحام کا بھارتی میڈیا کو انٹرویو حقائق کے منافی ہے، تحریک انصاف کی جانب سے کبھی کسی کو دھمکی نہیں دی جاتی، میں بھی بہت سے حقائق سے واقف ہوں مگر ریحام کے خلاف بات نہیں کروں گا۔

دریں اثناء پاکستان سمیت دنیا بھر میں پیر کو کشمیریوں سے یکجہتی کادن منایا گیا، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں جلسے، جلوسوں اور تقریبات کا انعقاد کیا گیا جس کے شرکاء نے مقبوضہ جموں وکشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضے اور نہتے کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی مذمت کی اور اقوام متحدہ و عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دلوانے اور مقبوضہ وادی میں مظالم رکوانے کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالے، ایوان صدر میں یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے صدر ممنون حسین نے کہا سرزمین کشمیر سے ابھرنے والی خالصتاً مقامی تحریک کو بدنام کرنے کے لیے بھارت ہمیشہ سے اوچھے ہتھکنڈے اختیار کرتا آیا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کشمیری ہمارے ہیں اور پاکستان کشمیریوں کا ہے۔

، ہم میں کوئی فرق نہیں، آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے ٹویٹ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یوم یکجہتی کشمیر پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ کشمیری عوام عالمی برادری کے جاگنے کا انتظار کررہے ہیں اور اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق استصواب رائے کے تحت اپنے مستقبل کا حل چاہتے ہیں، کشمیریوں کی جدوجہد کی منزل کامیابی ہے، انھیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت ملنا چاہیے۔ملک کی سیاسی اور مذہبی قیادت نے کشمیریوں سے بھرپور یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی اختلافات موجود ہیں لیکن مسئلہ کشمیر پر ہم سب اکھٹے ہیں۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر کیمیائی اسلحہ اور پیلٹ گنز کے استعمال کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری عوام70سالوں سے اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں اور ہزاروں جانیں قربان کر چکے ہیں۔ بہرحال سیاسی بساط پر نئے امکانات بھی پیدا ہوئے ہیں، سیاسی اتحاد اور نئی صف بندیوں کے اشارے مل رہے ہیں، سینئر پارلیمنٹرین مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ ووٹ کے تقدس اور جمہوریت کی بالا جدوجہد میں نوازشریف کا ساتھ دونگا۔ مبصرین کے مطابق بلوچستان میں سیاسی دھچکے کے باوجود امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ( ن) 18 سال بعد سینیٹ میں سب سے بڑی جماعت بن جائے گی۔ قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پارٹی پوزیشن کی بنیاد پر ایک محتاط اندازے کے مطابق اگر تمام ایم پی ایز پارٹی پالیسی کے مطابق 3 مارچ کو ووٹ دیں گے تو پاکستان مسلم لیگ (ن) کو 104 ارکان کی نشستوں میں سے 30 سے زائد نشستیں ضرور ملیں گی۔

آئینی رکاوٹ درپیش ہونے کے باعث سینیٹ میں فاٹا کی چارنشستوں پر انتخابات کا شیڈول تاحال جاری نہ ہوسکا۔ ادھرالیکشن کمیشن نے اسلام آباد کی دو نشستوں پر انتخابات کے لیے ایڈیشنل سیکریٹری (ٹریننگ ، ریسرچ اینڈ ایوالویشن) ظفراقبال حسین کوریٹرننگ افسرمقررکردیا ہے۔یاد رہے عدالت عظمیٰ، عدالت عالیہ اور نیب میں مقدمات کی سماعت جاری ہے، نواز شریف ، مریم نواز کے علاوہ سپریم کورٹ میں توہین عدالت کیس میں نہال ہاشمی کے بعد منگل کو طلال چوہدری پیش ہوئے ، دانیال عزیز آج پیش ہونگے،الیکشن کمیشن میں بھی کیسز چل رہے ہیں، کنٹرول لائن پر بھارتی اشتعال انگیزی جاری ہے، پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو پھر دفتر خارجہ طلب کیا، ادھر وزارت خارجہ نے الرٹ کردیا ہے کہ ''را'' گلگت میں سی پیک کو نشانہ بنا سکتی ہے۔سیاست دانوں کو احتیاط دامن گیر رہے، سو طوفان سر اٹھانے کو تیار ہیں۔کوشش کی جانی چاہیے کہ سیاسی استحکام،عدلیہ، مقننہ،انتظامیہ کے مابین مثالی ہم آہنگی قائم ہو، سیاست دام قوم سے اس عہد کی پاسداری کریں کہ آیندہ الیکشن سے پہلے ماحول سازگار ہوجائے گا۔ اس وعدے کو سیاست دان وفا کریں۔