وفاقی کابینہ کے اہم فیصلے

افغان حکومت کا طرز عمل دوستی اور مروت کے قطعی منافی ہے


Editorial February 08, 2018
افغان حکومت کا طرز عمل دوستی اور مروت کے قطعی منافی ہے۔ فوٹو: فائل

وفاقی کابینہ نے اپنے منگل کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے جن میں ملک بھر میں ادویات کی ریٹیل قیمتوں میں کمی کی منظوری دیدی جب کہ رواں سال افغان مہاجرین کی واپسی کے متعلق جامع پالیسی سمیت کئی اہم امور پر فیصلے موخر کردیے گئے۔ منگل کو وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ بہاولپور کے قیام اور ڈاکٹر شیخ اختر حسین کی بطور سی ای او ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی تقرری کی منظوری سمیت مختلف عدالتوں کے ججز کی تعیناتی کی منظوری بھی دی گئی۔

کوثر عباس زیدی کی انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد نمبر ایک کے جج کے طور پر تعیناتی جب کہ خواجہ وجیہہ الدین کو جج بینکنگ کورٹ پشاور تعینات کرنے، بینکنگ کورٹ پشاور کے جج محمد نسیم کی پشاور ہائیکورٹ واپسی اور پی ایس او اور پی پی ایل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبران کے تقرر کی منظوری دی گئی۔

علاوہ ازیں مقدمہ بازی لاگت ایکٹ 2017 کی یکم مارچ 2018 سے نفاذ کی منظوری دی گئی۔ یہ اجلاس کا نمایاں بل تھا جسے بے تحاشا عدالتی کارروائیوں اور مقدمات دائر کرنے کے رجحان اور کیسزکی مد میں سائلین پر پڑنے والے اخراجات کے سیاق وسباق میں منظور کیا گیا، اجلاس میں وزارت اطلاعات پاکستان اور تاجکستان ریڈیو کے درمیان تعاون کے ایم او یو کی منظوری بھی دی گئی۔ کابینہ اجلاس میں صوبائی حکومتوں پر زور دیا گیا کہ گنے کے کاشتکاروں کو رقم کی ادائیگی کی ذمے داری پوری کی جائے اور کاشتکاروں کو طے شدہ ریٹ کے مطابق ادائیگی کرائی جائے۔

میڈیا کے مطابق کابینہ کے 16 نکاتی ایجنڈے میں افغان مہاجرین کی واپسی کے متعلق پالیسی بھی شامل تھی۔ تاہم ماضی کے تجربات کی روشنی میں اس بار بھی افغان مہاجرین کے واپسی کا فیصلہ حیران کن طریقہ سے موخر کیا گیا اور حکومت یا سفران کی طرف سے اس بات کی کوئی ٹھوس وضاحت سامنے نہیں آئی کہ افغان مہاجرین کو ان کے وطن واپس بھیجنے کی راہ میں رکاوٹ کون سی بالادست قوتیں ہیں، اور بار بار افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع کا جواز کیا ہے، جب کہ وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا کے حکام کو بلاوجہ مشتعل افغان قیادت کے پاکستان مخالف بیانیہ کا فوری نوٹس لے کر اس مسئلہ کو حل کرنا چاہیے، صدر اشرف غنی کے الزامات اورحالیہ دھمکیوں سے پاکستان کی مہمان نوازی کا خوب صلہ دیا جارہا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ وزارت سیفران کی طرف سے پیش کردہ اس آئٹم میں رواں سال افغان مہاجرین کی واپسی کی پالیسی تجویز کی گئی تھی تاہم کابینہ کے ایک ممبر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ معاملہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان حکومتوں سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز سے مزید مشاورت کے لیے موخر کردیا گیا ہے۔ کوئی اس زلف پیچاں کی بابت یہ راز کھولنے پر تیار نہیں کہ مشاورت کیسی، کیا اتنی تباہ کاریوں، داخلی انتشار، دہشتگردی اور جرائم کے دراز سلسلوں کے باوجود ابھی مزید مشاورت کے لیے سیاسی فرہاد نہر کھودنے کی سوچیں گے جب کہ وفاقی حکومت قوم کو باور کرائے کہ اس سے پہلے گزشتہ بدھ کو کابینہ نے اپنے اجلاس میں افغان مہاجرین کے قیام میں 31 مارچ تک مزید 60 روز کی توسیع کردی تھی۔

ادھر قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ایکٹ 2012 کے تحت انسانی حقوق عدالت کے قیام، انٹرنیشنل ساؤرن بانڈ کے اجرا، ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن بہاولپور کو گرانٹ دینے اور اپیلٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو بنچ دوئم کراچی میں اکاؤنٹنٹ ممبران کی تقرری کا معاملہ بھی موخر کردیا گیا، حالانکہ عوام جانتے ہیں کہ جس مسئلہ کو حل نہیں کرنا اسے موخر یا کسی کمیٹی کے سپرد کردینا افضل ترین تدبیر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 30 لاکھ افغان مہاجرین 1979 میں وقفہ وقفہ سے افغانستان کے خلاف روسی جارحیت کے نتیجہ میں پاکستان آکر بسے ، یہ ایک بڑی انسانی نقل مکانی تھی، پھر افغانستان تاریخی اور مذہبی رشتوں کے ساتھ ساتھ قریبی ہمسایہ بھی تھا۔

گو کہ قیام پاکستان سے افغانستان نے کبھی پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا، مگر یہ جنرل ضیا کی خیر سگالی، مہربانی اور ملکی معیشت پر پڑنے والی افتاد کا آغاز تھا، افغان مہاجرین کی آمد سے ملک میں جگر سوز کلاشنکوف کلچر متعارف ہوا، اور رہی سہی کسر نائن الیون کے واقعہ نے پوری کردی، مادر وطن کو القاعدہ، طالبان اور نہ معلوم کون کون سی نادیدہ جہادی قوتوں اور ان کے دھڑوں نے اپنے نشانے پر رکھا، اگر مملکت خداداد ایٹمی صلاحیت کی حامل نہ ہوتی تو کچھ نہیں کہاجا سکتا کہ پاکستان کے دشمن اس سے کیا سلوک کرتے۔ اب بھی زمینی حقائق کی جستجو میں مصروف ملک کے سنجیدہ سیاسی حلقے افغان مہاجرین کی وطن واپسی کو دہشتگردی سے نمٹنے کی حکمت عملی میں اہم فیکٹر سمجھتے ہیں، افغان مہاجرین کی واپسی اس لیے ناگزیر ہے کہ فاٹا کے عوام نے بڑے عذاب سہے ہیں۔

گزشتہ چند برسوں میں افغان مہاجرین کیمپوں میں سرحد پار سے دہشتگرد آکر چھپتے رہے ہیں، حساس اداروں نے صوبائی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ امریکی ڈرون حملہ ان ہی افغان دہشتگردوں کے مہاجر کیمپ میں موجودگی کی آڑ میں ہوا، جس میں حقانی نیٹ ورک کے کمانڈروں کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی، حساس اداروں نے افغان طلبہ کی خیبر پختونخوا اور ملک کی دیگر جامعات اور کالجز میں منفی سرگرمیوں کی سختی سے جانچ پڑتال کی ضرورت پر زور دیا ہے، ارباب اختیار کو ادراک کرنا چاہیے کہ افغان مہاجر کارڈ پر غیر ملکی امداد اور اس میں غبن کے کئی راز ہائے سربستہ بھی ان کی وطن واپسی کے حکومتی فیصلہ اور سیاسی ارادہ کی پسپائی کا سبب بنے ہیں جب کہ ضرورت ٹھوس اور غیر متزلزل فیصلہ اور نتیجہ خیز اقدام کی ہے۔ خطے کی صورتحال تہلکہ خیز ہے۔

افغان حکومت کا طرز عمل دوستی اور مروت کے قطعی منافی ہے، پاکستانی دفتر خارجہ اور سیفران نے افغان قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان مہاجرین کو جلد بلا لے، لیکن جوابی ردعمل کے طور پر افغانستان نے آپریشن ضرب عضب کے دوران پاکستان سے افغانستان نقل مکانی کرنے والے ہزاروں خاندانوں (آئی ڈی پیز) کی واپسی روک دی ہے، ذرایع کے مطابق سیکڑوں خاندان فاٹا واپسی کے منتظر ہیں جب کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے مطابق 2 لاکھ29 ہزار 800 افراد آپریشن کے دوران نقل مکانی کرکے افغانستان کے صوبہ خوست میں پناہ گزیں ہیں، ادھر وفاقی حکومت کے اعلان کے باوجود فاٹا اصلاحات پر پیشرفت نہ ہوسکی، حکومت ذرایع ابلاغ کے لیے بریفنگ کا اہتمام تک بھی نہیں کرسکی، دو ماہ قبل آٹھ دسمبر کو وفاقی وزیرسیفران عبدالقادربلوچ اور سربراہ فاٹا اصلاحات کمیٹی سرتاج عزیز نے اعلان کیا تھا کہ ذرایع ابلاغ کو ہر ماہ فاٹا اصلاحات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی جائے گی، لیکن دو ماہ گزر گئے کوئی بریفنگ نہیں دی جاسکی۔

اب ضرورت راست اقدام کی ہے۔ وفاقی کابینہ کے فیصلوں پر عمل ہونا چاہیے، اسی طرح دواؤں کی قیمتوں میں کمی، گنا کاشتکاروں کو طے شدہ نرخ پر دینے اور افغان مہاجرین کی ہر قیمت پر واپسی کے فیصلوں کو قانون کی پشت پناہی حاصل ہو، سیاسی جماعتیں ملکی سالمیت کا ادراک کرتے ہوئے اپنے اختلافات ترک کریں۔ خدارا اس بار اہم فیصلے موخر نہیں ہونے چاہئیں۔