انسانوں کی تقسیم کا خطرناک کھیل

ہمارے جمہوری معاشروں میں جمہوریت کو ایک دیوی کا درجہ دے دیا گیا ہے


Zaheer Akhter Bedari February 08, 2018
[email protected]

دنیا میں ہزاروں دانشور ہیں ہزاروں مفکرین ہیں، ہزاروں فلسفی ہیں ، ہزاروں ادیب ہیں ، ہزاروں شاعر ہیں ، ہزاروں عالم ہیں جو آفاقی وژن رکھتے ہیں جو انسانی مسائل کو ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، یہودی، پارسی کی نظر سے دیکھتے ہیں نہ امریکی، روسی، چینی، برطانوی، جرمن، ہندوستانی، پاکستانی، عرب اور اسرائیلی کی نظر سے دیکھتے ہیں بلکہ انسان کی نظر سے دیکھتے ہیں اور انسانی جانوں کے زیاں پر کڑھتے ہیں آنسو بہاتے ہیں، لکھتے ہیں ،سوچتے ہیں لیکن دنیا میں انسانوں کا خون پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے۔

جنگوں کے عفریت انسانوں پر مسلط کیے جا رہے ہیں، جنگوں کی تباہ کاریوں سے بچنے کے لیے لاکھوں انسان مرد عورت اور معصوم بچے ترک وطن کرکے محفوظ ملکوں کی تلاش میں سمندروں کا خطرناک ترین سفر کر رہے ہیں جن کی کشتیاں سمندروں میں ڈوب رہی ہیں اور ہزاروں مرد عورتیں اور بچے سمندر کی نذر ہو رہے ہیں لیکن وہ منہ بند کیے بیٹھے ہیں۔ انفرادی طور پر سیاستدانوں کے مسلط کردہ ان عذابوں کے خلاف آواز بھی اٹھا رہے ہیں لیکن ان کی آواز سیاستدانوں کے نقاروں میں طوطی کی آواز بنی ہوئی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟

کشمیر میں بھی انسان رہتے ہیں فلسطین میں بھی انسان رہتے ہیں لیکن چونکہ ان کی شناخت مسلمانوں اور عربوں کی حیثیت سے کی جاتی ہے لہٰذا وہ ہندو اور یہودی شناخت رکھنے والوں کے مظالم کے شکار ہیں اور 70 سال سے مارے جا رہے ہیں، یہ شناختوں کا کھیل ہے جو اہل سیاست کھیل رہے ہیں ان پر لاکھوں انسانوں کے قتل لاکھوں پریشان حال تارکین وطن کے مسائل کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور وہ انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ انسانی شناختوں کے اس بہیمانہ کھیل میں مصروف ہیں۔

اسی قسم کا ایک کھیل کشمیرکی سرزمین پر 70 سالوں سے کھیلا جا رہا ہے اور اس کھیل میں بھی بنیادی کردار شناختوں کا ہی ہے۔ پاکستان اور ہندوستان کے حکمران ستر سال سے مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ لیکن یہ محترمین اس مسئلے کا حل اس لیے نہیں تلاش کر پا رہے ہیں کہ وہ اس مسئلے کا حل پاکستانی اور ہندوستانی ہندو اور مسلمان بن کر تلاش کر رہے ہیں اور جب تک وہ اس مسئلے کا حل تلاش نہیں کرسکتے جب تک وہ انسان بن کر اس مسئلے کا حل تلاش نہیں کریں گے۔

ہمارے جمہوری معاشروں میں جمہوریت کو ایک دیوی کا درجہ دے دیا گیا ہے اور یہ کالی دیوی جو جمہوریت اور مذہبی شناختوں کا آنچل ڈالے ہوئے ہے انسانوں کو ملک و ملت دین دھرم کے حوالوں سے تقسیم کرکے ایک دوسرے کا خون بہانے کا شیطانی کھیل کھیل رہی ہے ۔ لاکھوں انسانوں پر مشتمل فوجیں اس کھیل کی کھلاڑی بنی ہوئی ہیں اربوں ڈالر کا اسلحہ اس خونی کھیل میں استعمال ہو رہا ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں رات دن اسلحے کی فیکٹریاں کام کر رہی ہیں اور اربوں ڈالر کا اسلحہ تیار کرکے متحارب ملکوں کو فروخت کیا جا رہا ہے اور پسماندہ ملکوں کے حکمران عوام کو بھوکا مارکر عوام کا پیٹ کاٹ کر اسلحہ خرید رہے ہیں۔ فوجیں پال رہے ہیں اس مقدس کام کا جاری رہنا اسلحہ ساز فیکٹریوں کی ضرورت ہے اور اسلحے کی سپلائی اور فروخت کے لیے علاقائی جنگیں دین دھرم ملک و ملت کی تفریق ضروری ہے۔

پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے انڈونیشی صدر نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ''جمہوریت مسائل حل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے'' ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتا ہے۔ پاکستان میں بھی آج کل جمہوریت کا دور دورہ ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کی جمہوریتیں مسائل حل کرنے کا ذریعہ کیوں نہیں بن پا رہی ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ جمہوریت پر دین دھرم ملک وملت کی شناخت حاوی ہے اور یہ شناخت جب تک حکمرانوں کے پاؤں کی بیڑی بنی رہے گی مسئلہ کشمیر حل ہو ہی نہیں سکتا۔ اس پر سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ قومی مفادات کا پٹہ حکمرانوں کے گلے میں پہنا دیا گیا ہے لاکھوں افراد پر مشتمل فوج اربوں ڈالرکا اسلحہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے موجود ہے اور بالواسطہ طور پر سامراجی ملکوں کی اسلحے کی صنعتوں کی ترقی کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔

ہندوستان اور پاکستان کا شمار دنیا کے پسماندہ ترین ملکوں میں ہوتا ہے جہاں کے 50 فیصد سے زیادہ عوام غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ہر سال لاکھوں غریب بھوک سے مر رہے ہیں، ہر سال لاکھوں غریب علاج سے محرومی کی نذر ہو رہے ہیں، لاکھوں بچے دودھ اور معقول غذا سے محرومی کی وجہ جان سے جا رہے ہیں ہر سال لاکھوں خواتین دوران حمل و زچگی معقول غذا اور علاج کی سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے موت کا شکار ہو رہی ہیں اور ہمارے حکمران سروں پر قومی مفادات کا وزنی پٹارہ اٹھائے غریب عوام پر مسلط ان عذابوں سے نظریں چراتے ہوئے رواں دواں ہیں۔

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت، بھارت میں جشن آزادی منایا جا رہا ہے اور کشمیر کے عوام اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں۔ یہ شناختوں کی رنگا رنگی کا اعجاز ہے کہ جہاں بجتی ہے شہنائی وہاں ماتم بھی ہوتے ہیں۔ کشمیر کے شہروں شوپیاں اور پلوامہ میں تین کشمیریوں کے قتل کے خلاف ہڑتال ہے اور پورے مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ منایا جا رہا ہے۔ ''مقبوضہ کشمیر'' میں 70 ہزار کشمیری اب تک جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، اسی کشمیر کی وجہ سے اب تک بھارت اور پاکستان کے درمیان تین بڑی جنگیں ہوچکی ہیں اسی کشمیر کے تنازع کی وجہ سے یہ دونوں پسماندہ ترین ملک ایٹمی ملک بن چکے ہیں۔

بھارت کے سورما کہہ رہے ہیں کہ وہ پاکستان کی سرحدوں میں گھس کر فوجی کارروائی کریں گے جواب آں غزل کے طور پر پاکستانی حکمران فرما رہے ہیں کہ ایٹمی ہتھیار ہم نے نمائش کے لیے نہیں بنائے ہیں اگر بھارت نے کسی جارحیت کا مظاہرہ کیا تو ایٹمی ہتھیاروں سے اس کا استقبال کیا جائے گا۔ صرف دو کم طاقتور ایٹم بموں کا استعمال امریکا نے 1945 میں کیا تھا جس میں لاکھوں بے گناہ انسان ہلاک ہوگئے تھے آج کا ایٹمی ہتھیار 1945 کے ایٹمی ہتھیار سے سیکڑوں گنا زیادہ تباہ کن ہے۔ یہ خونیں کھیل اس لیے جاری ہے کہ انسانوں کو مختلف حوالوں سے تقسیم کرکے رکھ دیا گیا ہے اور جب تک یہ تقسیم موجود ہے یہ خونی کھیل جاری رہے گا۔

مقبول خبریں