الیکشن2013پر مہیب خطرات کے بادل چھائے ہیں خبر ایجنسی

آج پاکستان اتنا محفوظ نہیں جتنا الیکشن2008میں تھا، بے نظیر کی روح بے چین ہے


AFP March 28, 2013
آج پاکستان اتنا محفوظ نہیں جتنا الیکشن2008میں تھا، بے نظیر کی روح بے چین ہے فوٹو: فائل

پاکستان میں ایک دوسرے کے بدترین مخالف سیاستدان جو تنقید برائے تنقید کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے انتخابی مہم میں دہشت گردی سے بچاؤ کیلیے متحد ہوگئے ہیں۔

اے ایف پی نے بدھ کو اپنی رپورٹ میں بتایا کہ پاکستان ایسا ملک ہے جہاں جائز و ناجائز اسلحے کی افراط ہے، شہری علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی حد سے زیادہ نفری تعینات ہے،قدامت پسند قبائل ہیں،اسلامی شدت پسند ہیں، خوں آشام سیاسی اور نسلی رقابتیں ہیں، دہشت گردی کے خوف نے حزب اقتدار، حزب مخالف، قدامت پسند ہوں یا اصلاح پسندسب کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔دسمبر 2007میں بے نظیربھٹو کو 2008 الیکشن کی انتخابی مہم کے دوران خودکش حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا ۔

بے نظیر بھٹو کی روح مئی 2013 الیکشن کی انتخابی مہم کے حوالے سے بے چین ہے،بے نظیر بھٹو کے قتل کا اس وقت پیپلز پارٹی کو سیاسی فائدہ ہوا تھا۔ الیکشن 2008کی طرح الیکشن2013پر مہیب خطرات کے بادل چھائے ہوئے ہیں آج پاکستان اتنا محفوظ نہیں ہے جتنا الیکشن2008میں تھا۔ اہل تشیع اقلیت کے خلاف پرتشدد واقعات کا گراف انتہائی بلند ہوچکا ہے۔مذہبی انتہاپسندی اور عدم بردا شت کی صورتحال 5سال کے دوران مزید خراب ہوچکی ہے، طالبان اور بلوچ علیحدگی پسندوں کے حملوں کی تعداد بھی بڑھ چکی ہے۔

پاکستانی طالبان 5سال اقتدار میں رہنے والی ملک کی 3بڑی پارٹیوں پیپلز پارٹی، اے این پی اور ایم کیو ایم کو کھلی دھمکی دے چکے ہیں۔پیپلز پارٹی کے جواں سال چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خطرات کی وجہ سے صرف چند اجتماعات سے بذریعہ ٹیلی فون یا وڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔پیپلز پارٹی کے ترجمان قمر زماں کائرہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کیلیے سیکیورٹی خدشات ہیں وہ ہر جگہ نہیں جاسکتے۔ بلٹ پروف گاڑی کو سیاستدانوں نے اپنی لازمی ضرورت بنالیا ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے دفاتر پر سیکیورٹی کیلیے رکاوٹیں کھڑی کرنا معمول ہے۔



سیاسی جلسوں میں ڈائس پر بلٹ پروف شیشے کی موجودگی عام سی بات ہوگئی ہے۔پیر کو ن لیگ کے سربراہ نوز شریف نے ایک جلسے سے خطاب کیا تو اسٹیج کے اطرف خار دار تاروں کی باڑھ لگا ئی گئی اور جدید ہتھیاروں سے مسلح سیکڑوں سیکیورٹی اہلکار ان کی حفاظت کررہے تھے۔سابق صدر پرویز مشرف 4سال کی خودساختہ جلاوطنی گذار کرپاکستان پہنچے تو طالبان نے خودکش حملہ آوروں کا دستہ ان کو قتل کرنے کیلیے روانہ کردیا۔الیکشن 2008کی انتخابی مہم چلانے کیلیے کئی سال کی خودساختہ جلاوطنی کاٹ کر پاکستان پہنچنے پر استقبالیہ جلوس پر دہشت گرد حملے میں140سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

پرویز مشرف کی وطن آمد پران کی پارٹی آل پاکستان مسلم لیگ کا استقبالی جلسہ سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے منسوخ کردیا گیا سابق صدر نے ایئرپورٹ پر مختصر خطاب کیا اور انتہائی سرعت کے ساتھ ان کو ایئرپورٹ سے ہوٹل منتقل کردیا گیا اور ہوٹل پر سیکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔ پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری نے اسلام آباد می 3روزہ دھرنے کے دوران بلٹ پروف ٹریلر استعمال کیا۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ طالبان پشاور کے رہائشی علاقوں اور کراچی کے علاقوں کیلیے پہلے کی نسبت بڑا خطرہ بن گئے ہیں۔

اے این پی کے رہنما زاہد خان کا کہنا ہے کہ امن و امان کی وجہ سے کوئی پارٹی آزادانہ انتخابی مہم نہ چلاسکے تو انتخابات کے شفاف ہونے پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔ایم کیو ایم کے رہنما واسع جلیل کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے انتخابی مہم،نتائج اور ووٹنگ کی شرح متاثر ہوگی۔تحریک انصاف کے ترجمان شفقت محمود کا کہنا ہے کہ یہ ایک مشکل صورتحال ہے ہمیں الیکشن میں حصہ بھی لینا ہے اور سیکیورٹی کی فکر بھی کرنی ہے۔ ن لیگ کے ترجمان صدیق الفاروق نے موجودہ صورتحال کا مورد الزام پیپلزپارٹی کو ٹھہرایا اور کہا کہ پیپلز پارٹی دہشت گردی پر قابو پانے میں ناکام رہی، انھوں نے کہا کہ مجموعی صورتحا ل اتنی خراب نہیں ہے چند واقعات اگر ہوبھی گئے تو انتخابات متاثر نہیں ہوں گے۔