وزیراعلیٰ بننے پر نجم سیٹھی پرصحافی برادری کی کڑی تنقید

حکومتی عہدہ قبول کرناسیٹھی کو زیب نہیں دیتا، ماریانہ بابر،لابنگ کی، عارف نظامی.


INP March 28, 2013
اب سی آئی اے چیف آئندہ ن لیگ کی طرف سے گورنرکے امیدوار ہونگے ، طلعت حسین کا تبصرہ. فوٹو: فائل

امریکی حلقوں میں اثرورسوخ رکھنے والے پاکستان کے ممتاز صحافی اور تجزیہ نگار نجم سیٹھی کو پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کا عہدہ قبول کرنے پر صحافی برادری کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا ہے۔

سنیئر خاتون صحافی ماریانہ بابر نے ایک ٹی وی پروگرام میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ حکومتی عہدہ قبول کرنا صحافتی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے اور ایسا کرنا نجم سیٹھی کو زیب نہیں دیتا۔ جب ان سے کہا گیا کہ سیٹھی نے نگران وزیراعلیٰ کیلیے خود اپنا نام نہیں دیا بلکہ سابق حکمران جماعت کی جانب سے انہیں نامزد کیا گیا تھاتو ماریانہ بابر نے کہا اگر انھوں نے خود کو سرکاری عہدے کیلیے پیش نہیں کیا تو منع تو کرسکتے تھے۔

حکومتی معاملات میں عملی طور پر شریک ہونے سے صحافتی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور سنیئر جرنلسٹ کو قطعی ایسا نہیں کرنا چاہیئے۔ معروف تجزیہ کار عارف نظامی نے کہاکہ نجم سیٹھی کو نگران وزیراعلیٰ کا عہدہ ایسے ہی نہیں مل گیا، اس کیلیے انھوں نے لابنگ کی۔ اس موقع پر نجم سیٹھی نے خود پر کی جانے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں ان کی باتوں سے اتفاق نہیں کرتا کیونکہ یہ کوئی سیاسی عہدہ نہیں اور نہ میں کسی سیاسی جماعت کیلیے کام کررہا ہوں۔



انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ہم صحافی لوگ باہر بیٹھ کر حکومت پر تنقید کرتے ہیں، اگر سسٹم کو بہتر کرنے کا موقع ملا ہے تو اسے استعمال کرنا چاہیئے۔ آپ مجھے بتائیں کہ بطور نگران وزیراعلیٰ سسٹم کی بہتری کیلیے مجھے کیا اقدامات کرنے چاہئیں۔ ادھر پاکستانی صحافت میں معتبر سمجھے جانے والے طلعت حسین نے ٹویٹر پر سنگل لائن دلچسپ تبصرہ کیا کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے چیف جان برینن بھی آئندہ (ن) لیگ کی طرف سے گورنر پنجاب کے امیدوار ہوں گے۔ یاد رہے طلعت حسین کا شمار ان صحافیوں میں ہوتا ہے جو نجم سیٹھی کو صحافی تسلیم نہیں کرتے، اس کی وجہ ان کی امریکی حلقوں میں قربت نہیں بلکہ وہ انہیں سرمایہ دار اور گزشتہ ادوار میں بھی نگران حکومت کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ خیال رہے کہ پاکستان میں صحافی تنظیموں کی جانب سے وضع کردہ اصولوں کے مطابق کوئی صحافی سرکاری ملازمت نہیں کرسکتا اور نہ ہی کوئی حکومتی عہدہ قبول کرسکتا ہے، ایسا کرنے کی صورت میں قانونی طور پر وہ صحافی شمار نہیں کیا جاسکتا۔