قتل کی ایک واردات کتاب سے ٹیلی ویژن اسکرین تک

مصنفہ نے اُس دور کے بہت سے پہلوؤں کا نہایت باریک بینی اور خوبی سے احاطہ کیا ہے۔


February 10, 2018
مصنفہ نے اُس دور کے بہت سے پہلوؤں کا نہایت باریک بینی اور خوبی سے احاطہ کیا ہے۔فوٹو : فائل

1860ء کی ایک صبح مسٹر کینٹ پر قیامت گزر گئی۔ ان کا چار سالہ بیٹا Savile Kent گھر میں نہیں تھا۔ گھر میں تلاش کرنے کے بعد انھوں نے پولیس کو بیٹے کی گم شدگی کی اطلاع دے دی، بعد میں بچے کی لاش گھر کے باہر واقع ایک ٹائلٹ سے برآمد ہوئی۔ اس کا گلا کٹا ہوا تھا جب کہ قاتل نے سینے میں چُھرا بھی مارا تھا۔

مسٹر کینٹ کے مطابق صبح بچے کو بستر پر نہ پاکر جب وہ اسے تلاش کرنے کے لیے باہر نکل رہے تھے تو گھر کا ایک دروازہ کھلا ملا تھا۔ پولیس نے مسٹر کینٹ کی اس بات کو اہمیت ضرور دی، لیکن انھیں شک تھا کہ قاتل باہر سے نہیں آیا بلکہ گھر کا کوئی فرد ہی ہے۔ پولیس جائے وقوع سے شواہد اکٹھا کرنے کے بعد تفتیش شروع کرتی ہے۔ کینٹ فیملی اور گھر کے ملازمین سبھی تفتیش کے دائرے میں تھے۔

اس خاندان کے بارے میں جو ابتدائی معلومات پولیس کے سامنے تھیں، ان سے اس بات کو تقویت مل رہی تھی کہ قاتل گھر کا کوئی فرد ہے۔ دراصل خاندان کے سربراہ مسٹر کینٹ نے دو شادیاں کی تھیں۔ پہلی بیوی جو چار بچوں کی ماں تھی، اس کا انتقال ہو چکا تھا۔ ان چار بچوں کے علاوہ اس گھر میں مسٹر کینٹ کی دوسری بیوی اور ان کے تین چھوٹے بچے ساتھ رہتے تھے۔

کہا جاتا تھاکہ مسٹر کینٹ کی پہلی بیوی کا دماغی توازن ٹھیک نہیں تھا۔ قاتل کی تلاش کا معاملہ اسکاٹ لینڈ یارڈ کے تفتیشی محکمے کے افسر جاناتھن وِچر کے سپرد کر دیا گیا۔ وہ اس زمانے میں اپنے شعبے کے ایک قابل اور ذہین افسر سمجھے جاتے تھے اور کئی پیچیدہ اور پُراسرار کیسز حل کرچکے تھے۔

وِچر کا خیال تھا کہ یہ قتل بچے کی سولہ سالہ سوتیلی بہن نے کیا ہے۔ وہ اسے عدالت تک لے آیا، لیکن لڑکی کو بری کردیا گیا جس کے بعد وِچر کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اخبارات نے اس کے خلاف لکھنا شروع کر دیا اور اپنے ڈپارٹمنٹ میں بھی اسے مخالفت کا سامنا تھا۔ تاہم اس قتل کے پانچ سال بعد لڑکی نے ایک پادری کے ساتھ پولیس اسٹیشن جاکر اعترافِ جرم کر لیا۔ اسے بیس سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ رہائی کے بعد وہ آسٹریلیا چلی گئی جہاں نرسنگ کی تربیت حاصل کی اور باقی زندگی جذام کے مریضوں کی دیکھ بھال اور خدمت میں گزار دی۔

اسی قتل کی واردات پر کیٹ سمرسکیل نے ایک کہانی بُنی جو لندن میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتابوں میں شامل رہی۔ برطانوی مصنفہ سمرسکیل ڈیلی ٹیلی گراف میں ادبی صفحے کی مدیر رہ چکی ہیں اور یہ ان کی دوسری کتاب ہے جسے سیمیویل جونسن پرائز بھی دیا گیا۔ سمرسکیل 1965میں برطانیہ میں پیدا ہوئیں۔ صحافت میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اسی شعبے میں عملی زندگی کا آغاز کیا۔ انھوں نے زندگی کے مختلف ادوار جاپان اور چلی میں گزارنے والی یہ مصنفہ ان دنوں لندن میں سکونت پزیر ہیں۔

''دی سسپِیشنز آف مسٹر وِچر'' کیٹ سمرسکیل کی ایسی تخلیق ہے جو صرف تجسس اور مہم جوئی پر مبنی نہیں بلکہ تاریخی واقعات اور اس دور کے طرزِ زندگی اور معاشرتی حالات کا احاطہ بھی کرتی ہے۔ بعد میں اسی کہانی کو ٹیلی ویژن کے لیے ڈرامائی شکل دی گئی، لیکن ناقدین کے نزدیک اس کتاب کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ مصنفہ نے اُس دور کے بہت سے پہلوؤں کا نہایت باریک بینی اور خوبی سے احاطہ کیا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کہانی کے ذریعے اس وقت کی زندگی، لوگوں کے خیالات اور طرزِ زندگی کے ساتھ معیشت کی ایک بھرپور تصویر سامنے آتی ہے۔ یہ کہانی انیسویں صدی کے ایک انتہائی پُراسرار اور سنسنی خیز کیس کی تفصیلات سامنے لانے کے ساتھ اس دور کے سماجی حالات اور ایک خاندان کی ذاتی زندگی کو بیان کرتی ہے۔ مزید یہ کہ انھوں نے اس کیس اور اس سے منسلک خاندان سے تفتیش کے ادب پر اثرات کو بھی مدنظر رکھا۔ مصنفہ نے اس قتل کی واردات اور وِچر کے تفتیشی طریقۂ کار پر قلم اٹھانے کے ساتھ ساتھ انگریزی ادب میں ایسے موضوع پر کہانیوں کے آغاز سے متعلق معلومات بھی دل چسپ پیرائے میں بیان کی ہیں۔