دفتر خارجہ کی بریفنگ

پاکستان کے لیے ضروری ہوگیا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن خراب نہ ہونے دے۔


Editorial February 11, 2018
پاکستان کے لیے ضروری ہوگیا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن خراب نہ ہونے دے۔ فوٹو : فائل

KARACHI: پاکستان کے دفتر خارجہ نے گزشتہ روز اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں مختلف ایشوز کے حوالے سے باتیں کی ہیں۔ پاکستان نے واضح کیا کہ ہر ملک کو خلائی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کا حق حاصل ہے لیکن یہ پرامن مقاصد کے لیے ہونی چاہیے، ا س سے اسلحہ کی دوڑ شروع نہیں ہونی چاہیے۔

پاکستان خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ کے خلاف ہے لیکن افواج پاکستان ملک کے دفاع کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں گی۔کشمیر میں کنٹرول لائن کے حوالے سے دفتر خارجہ نے بتایا کہ بھارتی فوج نے مختصر مدت میں 190 بار کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کی۔ بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب بھی کیا گیا لیکن بھارت کی جارحیت پھر بھی جاری ہے۔ پاکستان نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ انھیں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کھڑا ہونا چاہیے۔

دفتر خارجہ نے یہ بھی واضح کیا کہ سی پیک پر بھارتی مداخلت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے جس کا واضح ثبوت کلبھوشن یادیو ہے۔ افغانستان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ افغان سرزمین پرافغانوںکے زیرِانتظام مفاہمت سے ہی امن ممکن ہے اور پاکستان بھی یہی سمجھتاہے کہ افغان مسئلے کابہترین حل سیاسی حل ہی ہے، حزب اسلامی اور افغان حکومت کے درمیان بات چیت خوش آئند ہے۔

پاکستان کے بھارت اور افغانستان کے ساتھ مسائل کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں،لیکن حالیہ ایک دو برسوں میں یہ خاصے سنگین ہو گئے ہیں۔ سی پیک پاکستان کی معاشی خوشحالی کے لیے انتہائی اہم ہے لیکن اس منصوبے کو نقصان پہنچانے کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔

یوں تو کئی ملک اس منصوبے کے خلاف ہیں جن میں امریکا اور ایک دو مسلم ملک بھی شامل ہیں لیکن بھارت نے تو اپنے عزائم ظاہر کردیے ہیں، اس کا علم عوامی جمہوریہ چین کی قیادت کو بھی ہے کیونکہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے چین میں ہونے والی ون بیلٹ ون روڈ کانفرنس کا بائیکاٹ کیا تھا اور اس کی وجہ بھی سی پیک منصوبہ ہی تھا۔کلبھوشن نے بھی بہت سے رازوں کو بے نقاب کیا ہے۔

پاکستان کے صوبے بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت بھی موجود ہیں۔مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا تو اب دنیا بھر کو علم ہے، بھارت نے حالیہ برسوں میں کشمیریوں پر بے پناہ مظالم ڈھائے ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی بغیر کسی وقفے کے جاری ہے۔ افغانستان کا منفی کردار بھی سب کے سامنے ہیں۔افغانستان کی حکومت پاکستان کو نقصان پہنچانے والی ہر سازش کا حصہ رہی ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی جو وارداتیں ہو رہی ہیں، ان کا بنیادی سبب بھی افغانستان کی پالیسیاں ہی ہیں۔

پاکستان کی شمال مغربی سرحد بھی اب غیر محفوظ ہو گئی ہے۔افغان حکمران امریکا اور مغربی ممالک کو بھی پاکستان کے بارے میں مسلسل گمراہ کررہے ہیں، بھارت تو پہلے ہی پاکستان کا مخالف ہے، اس میں افغانستان کی آواز شامل ہونے سے پاکستان کے لیے مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔

پچھلے دنوں ایسی خبریں بھی آئیں کہ بھارت خلائی ٹیکنالوجی کو دفاعی مقاصد کے لیے بھی استعمال کرے گا، یہ اطلاعات یقیناً تشویشناک ہیں۔بھارت نے اس خطے میں اسلحے کی دوڑ شروع کررکھی ہے۔ وہ امریکا اور اسرائیل سے اسلحہ لے رہا ہے۔

امریکا کے ساتھ اس نے سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا معاہدہ کررکھا ہے، روس سے بھی وہ اسلحہ لے رہا ہے، اب خلا کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی خبریں بھی آنا شروع ہوگئی ہیں، یہ اطلاعات پاکستان کے لیے تشویشناک ہیں، پاکستان اس خطے میںاسلحہ کی دوڑ کا مخالف ہے لیکن جب بھارت کے عزائم یہ ہوں کہ وہ پورے جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ بحر ہند پر حکمرانی چاہتا ہے تو پھر خطے کے دیگر ممالک کو تشویش میں مبتلا ہونا فطری امر ہے۔

پاکستان کے لیے ضروری ہوگیا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن خراب نہ ہونے دے۔لہٰذا ضروری ہوگیا ہے کہ پاکستان بھی خلائی ٹیکنالوجی میں کام کرے، اس مقصد کے لیے افواج پاکستان کو ہر قسم کے وسائل فراہم کیے جانے چاہیں۔جہاں تک افغانستان میں قیام امن کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں پاکستان کی پالیسی واضح ہے۔

پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے،پاکستان نے اس سلسلے میں اپنا کردار بھی ادا کیا ہے لیکن افغانستان کی حکومت وہ کچھ نہیں کرسکی جو اسے کرنا چاہیے تھا۔ اب بھی امریکا کوشش کررہا ہے کہ طالبان اور افغانستان کی حکومت کے درمیان معاملات طے ہوجائیں، اگر ایسا ہوجاتا ہے تو یہ اچھی بات ہے اور پاکستان اس کی حمایت کرتا ہے لیکن امریکا کو چاہیے کہ وہ افغانستان کے ان گروپوں کو اعتماد میں لے جو اصل طاقت ہیں، امریکا کے پالیسی سازوں کو یہ حقیقت تسلیم کرلینی چاہیے کہ افغانستان میں امن کی راہ پاکستان سے ہی نکلے گی،امریکا پاکستان کے مسائل کو سمجھے اور محض ڈومور کی گردان کرنے کے بجائے زمینی حقائق کے مطابق پالیسی تشکیل دے، اس طریقے سے ہی جنوبی ایشیا اور افغانستان میں قیام امن کی راہ ہموار ہو گی۔