مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں پاکستان زندہ باد کے نعرے

آج بھی اگر مقبوضہ وادی میں آزادانہ انتخابات کرا دیے جائیں تو بھارت نواز حلقوں کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑے۔


Editorial February 12, 2018
آج بھی اگر مقبوضہ وادی میں آزادانہ انتخابات کرا دیے جائیں تو بھارت نواز حلقوں کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑے۔ فوٹو: فائل

مقبوضہ کشمیر اسمبلی اجلاس کے دوران پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔ ہفتہ کو مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے ہونے والے اجلاس کے دوران بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی)کے ارکان نے مقبوضہ وادی کے سنجوان آرمی کیمپ پر ہونے والے حملے کے معاملے پر ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے پاکستان مخالف نعرے بازی کی جس پر جموں کشمیر نیشنل کانفرنس کے رکن اکبر لون نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا دیے۔ اس حوالے سے اکبر لون کا کہنا تھا کہ وہ سب سے پہلے مسلمان ہیں، وہ بی جے پی ارکان کی جانب سے پاکستان مخالف نعروں پر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا دیے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ جموں کے علاقے سنجوان میں فوجی کیمپ پر ہونے والے حملے کے دوران دو فوجی افسر ہلاک اور چار اہلکاروں سمیت 9زخمی ہو گئے۔ بھارتی میڈیا نے بغیر ثبوت حملے کا الزام جیش محمد پر لگا دیا، انڈین سرکاری ہینڈ آؤٹ کے مطابق بھارتی فوج نے تین میں سے دو حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا جنہوں نے فوجی یونیفارم پہن رکھی تھی۔

مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں پہلی بار پاکستان زندہ باد کے نعرے لگے' نعرے لگانے والے شخص اکبر لون کا تعلق بھارت نواز جماعت نیشنل کانفرنس سے ہے جس کے سربراہ فاروق عبداﷲ ہیں مگر جب اسمبلی میں بی جے پی ارکان نے پاکستان مخالف نعرے لگائے تو اکبر لون سے یہ سب کچھ برداشت نہ ہو سکا اور انھوں نے جواباً پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا کر یہ ثابت کر دیا کہ اگرچہ کشمیریوں کو بھارتی فوج نے بندوق کی نوک پر غلام بنا رکھا ہے اور وہاں پر نام نہاد الیکشن کروا کر بھارت نواز حکومت بھی قائم کر دی جاتی ہے مگر کشمیریوں کے دل اور جذبات پاکستان کے ساتھ ہیں اور انھیں جب بھی موقع ملتا ہے وہ اپنے ان جذبات کا بھرپور اظہار کرنے سے قطعی نہیں گھبراتے۔

یہ صورت حال اس امر کی غماز ہے کہ آج بھی اگر مقبوضہ وادی میں آزادانہ انتخابات کرا دیے جائیں تو بھارت نواز حلقوں کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑے اور کشمیریوں کا ووٹ پاکستان ہی کے حق میں نکلے گا۔ بھارت کا یوم آزادی ہو یا یوم جمہوریہ مقبوضہ وادی پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھتی اور چاروں طرف پاکستانی پرچم لہراتے دکھائی دیتے ہیں' کشمیری بھارتی فوج کی گولیوں اور ظلم و ستم کی پروا نہ کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آتے اور پاکستان کے ساتھ اپنی بھرپور محبت کا اظہار کرتے ہوئے یہ ثابت کرتے ہیں کہ بندوق کے زور پر انھیں غلام تو بنا لیا گیا ہے مگر کوئی بھی طاقت ان کے دلوں سے پاکستان کی محبت کو نہیں نکال سکتی اور جب بھی انھیں موقع ملا تو وہ پاکستان کا حصہ بننے میں دیر نہیں لگائیں گے۔

مقبوضہ کشمیر کے 2014ء میں ہونے والے انتخابات میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ہر ممکن کوشش کی کہ کسی نہ کسی طرح وہاں بی جے پی کی حکومت بن جائے' انھوں نے انتخابات جیتنے کے لیے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کیا مگر انتخابات میں بی جے پی کو شکست ہوئی اور وہاں پی ڈی پی نے اپنی حکومت بنائی جس کی اس وقت وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی ہیں۔

بھارتی فوج کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبانے کے لیے ظلم و ستم کا ہر حربہ استعمال کر چکی ہے' کبھی سرچ آپریشن کے نام پر بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو گھروں سے اٹھا کر مار دیا جاتا اور کبھی ان کے گھروں کو آگ لگا دی جاتی اور کبھی پیلٹ گن کا استعمال کر کے ان کی آنکھوں کی روشنائی چھین لی جاتی ہے۔

بھارتی حکام بھی پریشان ہیں کہ اتنی قربانیاں دینے کے باوجود کشمیریوں کا جذبہ حریت ماند نہیں پڑا اور آج بھی وہ بھارتی فوج کے سامنے سینہ تان کر آزادی کے نعرے لگاتے نظر آتے ہیں۔ کشمیری نوجوانوں کے ساتھ ساتھ اب طالبات بھی سڑکوں پر نکل کر آزادی کے نعرے لگاتی اور پاکستانی پرچم لہراتی ہیں۔ جوں جوں بھارتی مظالم بڑھتے جا رہے ہیں کشمیریوں کی شمع حریت اتنی ہی تیز اور فروزاں ہوتی چلی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی قراردادوں میں واضح موجود ہے کہ وہاں کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دیا جائے، اقوام متحدہ نے زبانی کلامی تو کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کی بات کی مگر کبھی کشمیریوں کو ان کا یہ حق دینے کے لیے متحرک کردار ادا نہیں کیا۔ اگر اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں مخلصانہ طور پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے فعال کردار ادا کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ مسئلہ حل نہ ہو سکے۔