متحدہ قومی موومنٹ دھڑوں میں بٹ گئی

اسٹبلشمنٹ اورکچھ نادیدہ قوتیں پسندوناپسند کی بنیاد پر ایسا کھیل کھیلتی ہیں


Editorial February 13, 2018
اسٹبلشمنٹ اورکچھ نادیدہ قوتیں پسندوناپسند کی بنیاد پر ایسا کھیل کھیلتی ہیں۔ فوٹو: فائل

کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ جوگزشتہ تین دہائیوں سے واضح اکثریت سے ہر الیکشن جیتتی آئی ہے اورکراچی سمیت حیدرآباد، میرپورخاص اور سکھر سے بھی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی رہی ہے۔

ایسی شہری نمایندہ جماعت میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل اس قدر بڑھ جائے گا کہ اس کے کنوینر فاروق ستارکو ہٹا کر ایک گروپ رابطہ کمیٹی کا خالد مقبول صدیقی کو نیا کنوینر چن لے گا، فاروق ستار جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرکے دل کی بھڑاس نکال رہے ہوں گے اور پوری رابطہ کمیٹی کو تحلیل کردیں گے۔ کارکن اور بلدیاتی نمایندے گومگوکی کیفیت سے دوچار ہیں کس طرف جائیں،کس طرف نہ جائیں ۔کس کا ساتھ دیں کس کا ساتھ چھوڑیں۔ پارٹی سربراہ اور رابطہ کمیٹی کی چپقلش سینیٹ الیکشن کے ٹکٹ تقسیم کرنے پر سامنے آئی تھی۔

ایک دوسرے پر الزامات بھی عائدکیے گئے اورطنزکے تیر بھی چلائے گے،کچھ رہنماؤں کی آنکھوں سے آنسو بھی رواں ہوئے، شدت سے اتحاد قائم رکھنے کی خواہش اور نوید بھی سنائی گئی، لمحہ بہ لمحہ صورتحال بدلتی رہی، منانے کی بھی بے انتہاء کوششیں ہوئیں، لیکن اس کے باوجود متحدہ قومی موومنٹ ایسی بکھری جیسے خزاں رسیدہ پتے ۔ تقریبا دوسال سے جو کڑا وقت ایم کیو ایم پرآیا ہے وہ اس پہلے کبھی نہیں آیا تھا،کیونکہ قائد تحریک کی مکمل گرفت تھی پارٹی پر،تنظیم ایک بند ڈھانچے پر مشتمل تھی جس میں اختلاف کی گنجائش نہیں تھی ۔ قائد کی سیاست پر پابندی کے بعد ڈھیروں ایم این اے اور ایم پی اے پارٹی چھوڑکر پاک سرزمین پارٹی بھی شامل ہوگئے اور اب متحدہ قومی موومنٹ پاکستان بھی مزید دودھڑوں میں بٹ گئی ہے ۔

سیاسی جماعتوں کی مضبوطی اور موجودگی جمہوریت کو مستحکم کرتی ہے لیکن بدقسمتی سے اسٹبلشمنٹ اورکچھ نادیدہ قوتیں پسندوناپسند کی بنیاد پر ایسا کھیل کھیلتی ہیں کہ سیاسی پارٹیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہیں، نئی دھڑے بندیاں وجود میں آتی ہیں، جو انتہائی نقصان دہ عمل ہے، بلکہ جمہوریت کش قدم ہے ۔ جنرل الیکشن صرف چند ماہ کی دوری پر ہیں ، ایسے میں متحدہ قومی موومنٹ کی موجودہ قیادت کو فہم وفراست اور تدبرکا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ذاتی اختلافات اور مفادات کو بھلا کر پارٹی کو متحد رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ آنے والے انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ لے سکیں ۔ یہ فیصلہ عوام کو ووٹ کے ذریعے آزادانہ طور پر کرنے دیں کہ وہ کس کو منتخب کرتے ہیں ، کیونکہ عوام کے ووٹ اور فیصلے کا احترام ہی جمہوریت کے تسلسل میں معاون ثابت ہوگا۔