رَمُوزِ حَیات

نعمان الحق  جمعرات 15 فروری 2018
اگر ہم نے ہر بار ایک ہی پَتھر سے ٹھوکر کھانی ہے تو ہم حیوان سے بھی بدتر ہیں۔
فوٹو: انٹرنیٹ

اگر ہم نے ہر بار ایک ہی پَتھر سے ٹھوکر کھانی ہے تو ہم حیوان سے بھی بدتر ہیں۔ فوٹو: انٹرنیٹ

محرومی و ناشکری، ارتقاء، محبت اور نفرت، علمیت پسندی، ہم اور ہمارا شر، کیڑے مکوڑے، بے حسی اور حساسیت، رشتے، تڑپ اور اطمینان جیسے عنوانات میں پوشیدہ رموزِ حیات… آپ کی توجہ کےلیے:

1۔ محرُومی و ناشُکری

کِسی چیز کا مُیَسّر نہ ہونا ہی محرُومی نہیں کہلاتا
محرُومی تو یہ بھی ہے کہ پاس موجُود نعمت کا ادراک نہ ہو
محرُومی تو یہ بھی ہے کہ نعمت کا ادراک ہو لیکن اُس کی قَدر نہ کی جائے
جو شخص کہتا ہے میرے پاس کھونے کو کُچھ نہیں، وہ اِس دُنیا کا سب سے ناشُکرا اِنسان ہے
جِس شخص کو اپنے پاس موجُود نعمتیں تلاش کرنی پڑیں، وہ اِس دُنیا کا سب سے ناشُکرا اِنسان ہے
محرُوم تو وہ ہے جس کے پاس کُچھ نہیں
جبکہ اِس دُنیا میں کوئی شخص محرُوم نہیں
اپنے پاس موجُود نعمتوں کو پہچانیں، یہ تنہائی میں غَور کرنے سے ہو گا
اپنے پاس موجُود نعمتوں کی قَدر کریں، یہ خُود سے کَمتَر کو دیکھنے سے ہو گا
اپنی نعمتوں میں اِضافہ کرنے کی کوشش کریں، یہ محنت اور حِکمت سے ہو گا
دوسروں کی نعمتوں میں اِضافے کےلیے کوشش کریں، یہ اِخلاص و قُربانی کے جَذبے سے ہو گا
احساسِ محرُومی تقابل سے پیدا ہوتا ہے، حالانکہ تقابل سے عَمل کی تحریک بھی تو جَنم لے سکتی ہے لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے
آپ بھی احساسِ محرُومی کا شکار تو نہیں؟

2۔ اِرتقاء

اگر ہم گُزرتی عُمر کے ساتھ اپنے طرزِ عَمل میں مَثبت تبدیلیاں نہیں لا رہے تو ہم اِنسان نہیں حیوان ہیں
کیونکہ اِنسان تو خُود کو مُسَلسَل بدَلتا ہے، جبکہ حیوان پہلی سانس سے آخری سانس تک ایک ہی رَوِش پر چلتا ہے
مَثبت تبدیلی یہ ہے کہ اِنسان اَپنی غَلطیوں کی نِشاندَھی کرتا جائے اور دھِیرے دھِیرے انہیں دُہرانے سے باز آ جائے، تاکہ اُس کا حال اُس کے ماضِی سے بہتر ہو اور اُس کا مُستَقبل اس کے حال سے بہتر ہونے کی اُمِید ہو
لیکن اگر ہم نے ہر بار ایک ہی پَتھر سے ٹھوکر کھانی ہے،
بار بار ایک ہی سوراخ سے ڈَسے جانا ہے اور ایک ہی حَرکت سے بار بار نُقصان اُٹھانا ہے، تو ہم حیوان نہیں بلکہ اس سے بھی بَدتر ہیں؛ کیونکہ ایسا تو حیوان بھی نہیں کرتے۔
تَرقّی چاہتے ہیں تو غَلطیوں سے سبق سِیکھیں کہ غَلطیوں سے بڑا کوئی اُستاد نہیں ہوتا۔ اِس اُستاد کی قَدر کیجئے۔

 

3۔ مُحَبّت اور نَفرَت

صِرف مُحَبّت ہی قُربانی نہیں مانگتی
قِیمت نَفرَت کرنے کی بھی چُکانی پَڑتی ہے
مُحَبّت میں قُربانی تو لوگ خُوشی کےلیے دیتے ہیں
لیکن نَفرَت کی قِیمت نَجانے کِس شوق میں اَدا کرتے ہیں؟
حالانکہ نَفرت میں نہ کُچھ حاصل ہوتا ہے نہ کُچھ حاصِل ہونے کی اُمِید ہوتی ہے
لہذا نَفرت کرنا چھوڑ دیجیے
صِرف مُحَبّت کیجیے
صِرف مُحَبّت
سَب سے۔

4۔ عملیت پسندی

جو آپ چاہتے ہیں، وہ مُمکِن نہیں
اور جو مُمکِن ہے، وہ آپ چاہتے نہیں
اگر ایسا ہے تو سَمَجھ لیں کہ
یا آپ ہاتھ پہ ہاتھ دھَرے بیٹھے ہیں، یہ کاہلی ہے
یا آپ بِلاوَجہ ضِد پَر اَڑے ہیں، یہ ہَٹ دھَرمی ہے
یا کسی شدید خوَاہِش کے ہاتھوں مجبُور ہیں، یہ کمزوری ہے
یا آپ قناعَت کرنے کو تیّار نہیں، یہ ناشُکری ہے
یا پھر “آپ کیلیے کچھ بھی نامُمکِن نہیں” جیسے گُمراہ کُن موٹیویشنل جُملے کے سحر میں گِرفتار ہیں
یہ پانچوں چیزیں آپ کو عَملیّت پسَند (practical) بننے سے روک رہی ہیں
وَقت، توانائی اور وسائل بچائیں، کوئی دَرمیانی راستہ نکالیں اور آگے بڑھ جائیں کہ زِندگی ہَر لَمحہ آگے بڑھنے کا نام ہے
ورنہ رُکے ہوئے پانی میں بدبُو اور کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں، جبکہ غلط جگہ پر زور لگانے سے پَتھر کبھی نہیں سِرکتے
نوٹ: اِس دُنیا میں واقعی سَب کُچھ مُمکِن ہے، لیکن ضرُوری نہیں کہ سب کُچھ ہمارے ہاتھوں ہی مُمکِن ہو۔

 

5۔ ہَم اور ہمارا شَر

اَکثَر لوگ ہمارے شَر سے دُور بھاگتے ہیں
اور ہَم سَمَجھتے ہیں کہ وہ ہَم سے بھاگ رہے ہیں
نیک نِیتی کے ساتھ مَتوازَن رَویہ اِختیار کیجیے، لوگ آپ کے قَریب ہو جائیں گے۔

6۔ کِیڑے مکوڑے

جب دُوسرے انسانوں کو کیڑے مکوڑے سَمجھنے والا مُتکَبّر اِنسان خُود کیڑوں مکوڑوں کا رِزق بن جانے والا ہے تو تَکَبّر کیسا؟

7۔ دَرد، بے حِسی اور حَساسِیت

دَرد کیا ہے؟
یہ محض احساس کا نام ہے، اور کُچھ نہیں
حِسیں مَر جائیں تو دَرد مِٹ جاتا ہے
عظیم لوگ اپنی ذات کے بارے میں بے حِس ہوتے ہیں، اور دوسروں کے بارے میں حَسّاس ہوتے ہیں
جبکہ گھٹیا لوگ دوسروں کے بارے میں بے حِس ہوتے ہیں اور اپنے بارے میں حَسّاس ہوتے ہیں
کیا آپ دُوسروں کے بارے میں حَسّاس ہیں؟

 

8۔ رِشتے

غَم تو تَنہا بھی کَٹ جاتے ہیں، لیکن خُوشیاں اکیلے کبھی نہیں منائی جاسکتیں
ہمیں بہرحال رِشتوں کی ضرُورت ہوتی ہے، خواہ ٹُوٹے پھُوٹے شِکستہ اور ناخالِص ہی کیوں نہ ہوں
لہٰذا رِشتوں کی قَدر کیجیے
لیکن اصُولوں اور وَقار کا سَودا کبھی نہ کیجیے، کہ یہ دونوں چیزیں غَم اور خُوشی سے بَالاتَر ہوتی ہیں۔

 

9۔ مُجھے ہَنسی آتی ہے

مُجھے ہَنسی آتی ہے جَب لوگ
اَپنے تَساہَل کو قَناعَت کہتے ہیں
مجبُوری کو صَبر ظاہِر کرتے ہیں
مَصلحَت کے نام پر بُزدلی کرتے ہیں
مُفاہمَت کی آڑ میں بے غیرت بن جاتے ہیں
عِزتِ نَفس بچاتے ہوئے اَنا کو تَسکِین پہنچاتے ہیں
اور اَپنی اَکڑ کو خُوداعتمادی بنا کر پیش کر دیتے ہیں
مُجھے ہَنسی آتی ہے اُن لوگوں پر جو زِندگی بھر خُود کو دھوکہ دیے جاتے ہیں حالانکہ دھوکہ تو دُوسروں کو دینے کی چِیز ہے۔

 

10۔ تَڑَپ اور اِطمینان

کونسا اِطمینان ڈھُونڈتے پھِرتے ہو؟
وہ اِطمینان؟ جو اِنسان کو
ذہنی طَور پر اَپاہج بنا دیتا ہے
عَملی طَور پر مَعذُور کر دیتا ہے
جَذباتی طَور پر بے حِس کر دیتا ہے
اور اُس کی تخلِیقی صلاحیتیں کھا جاتا ہے
اَرے زِندگی تو بذاتِ خُود تَڑَپ کر تَڑَپ سے پیدا ہوتی ہے، اِس میں اِطمینان کہاں؟
تُو مادِیَت میں اِطمینان کیسے پا سکتا ہے کہ وہاں تَقابل بے چین کیے رَکھتا ہے
تُو تَصَوّف میں اِطمینان کیسے پا سکتا ہے کہ وہاں عِشقِ حقیقی بیقرار کیے رکھتا ہے
تُمہاری گہری نِیند تُمہاری غَفلت ہے
تمہارا سکون تمہاری بے مَقصدِیَت ہے
اِطمینان تو صِرف زِندہ لاشوں کو ہوتا ہے
اگر تم زِندہ اِنسان ہو تو تُمہیں تَڑَپنا ہو گا
اَپنے لیے،
اَپنوں کےلیے
دُوسروں کےلیے،
مُلک و قَوم کےلیے،
بَنِی نَوع اِنسان کےلیے،
تَڑپو اگر تُم زِندہ ہو۔۔۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

نعمان الحق

نعمان الحق

بلاگر سوشل میڈیا سے رغبت نہیں رکھتے جب کہ پیشے کے لحاظ سے الیکٹریکل انجنئیر ہیں۔ آپ اُن سے بذریعہ ای میل بھی رابطہ کرسکتے ہیں۔ [email protected]



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔