غزل کا دور پھر واپس آئے گا غلام علی

غلام علی کا کہنا ہے کہ انھیں بھارت اور پاکستان دونوں ہی ممالک سے برابر کا پیار ملا


Net News March 30, 2013
غلام علی کا کہنا ہے کہ انھیں بھارت اور پاکستان دونوں ہی ممالک سے برابر کا پیار ملا.

مشہور غزل گلوکار غلام علی کا کہنا ہے کہ جیسے آندھی، طوفان کے بعد ایک بار پھر سکون ہوتا ہے اسی طرح سے آج کی شور شرابے والی موسیقی کا دور جب ختم ہوگا تو ایک بار پھر سے غزلوں اور کلاسیکل گائیکی کا دور آئے گا اور اس بات کو کوئی نہیں جھٹلا سکتا۔

انھوں نے کہا کہ 'اب اس کتاب کے ذریعے میں اپنے چاہنے والوں میں اور زیادہ زندہ رہوں گا کیونکہ اس کتاب سے وہ مجھے ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ یاد ہے تو آباد ہے، بھولا ہے تو برباد ہے۔اس بات چیت میں غلام علی نے اپنے بچپن کے دنوں، اپنے والد اور اپنے استاد بڑے غلام علی خاں کا بھی ذکر کیا۔پاکستان کے سیالکوٹ ضلع کے ایک چھوٹے گاؤں میں پیدا ہونیوالے غلام علی نے بتایا کہ ان کے والد، بڑے غلام علی کے زبردست مرید تھے اور ان سے متاثر ہو کر انھوں نے ان کا نام غلام علی رکھا۔

انھوں نے کہا، 'ابتدا میں دس بارہ سال تک گائیکی کے بعد کہیں جا کر مجھے تھوڑی جان پہچان ملی۔ انیس سو چونسٹھ ، پینسٹھ میں میری غزلیں تھوڑی ہٹ ہو گئیں۔ پھر 70 کی دہائی میں میری کچھ فلمی غزلیں ہٹ ہوئیں تو میرے والد نے کہا کہ فلمی نغمے تو کوئی بھی گا سکتا ہے تم وہ گاؤ جس میں ماہر ہو۔ میں خوش ہوں کہ میں نے زیادہ فلمی گیت نہیں گائے کیونکہ اس میں پھر کچھ بھی گانا پڑتا۔

غلام علی کا کہنا ہے کہ انھیں بھارت اور پاکستان دونوں ہی ممالک سے برابر کا پیار ملا اور دونوں ہی جگہ ہر عمر کے لوگ انھیں چاہتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کے پاس وقت بہت کم ہے شاید اس لیے لوگ غزل نہیں سنتے لیکن وہ سنہرا دور ایک بار پھر ضرور لوٹے گا۔غلام علی نے بتایا کہ وہ مشہور ستار نواز پنڈت روی شنکر، استاد اللہ رکھا خان، مہدی حسن اور اپنے عزیز دوست آنجہانی جگجیت سنگھ کی گائیکی کے مداح ہیں۔

مقبول خبریں