ٹیبل ٹینس میں بھی چین کی بادشاہت قائم تمام گولڈ میڈلز پر قبضہ مکمل

مینز ٹیم فائنل میں جنوبی کوریاآئوٹ کلاس،اسٹیو گیورڈیٹ نے سوئٹزرلینڈکے لیے88 برس بعدگھڑسواری میں طلائی تمغہ جیتا.


AFP/Sports Desk August 09, 2012
گھڑسواری انفرادی جمپنگ فائنل میں سوئٹزرلینڈ کے اسٹیو گیورڈیٹ رکاوٹ عبور کر رہے ہیں (فوٹو ایکسپریس)

بیڈمنٹن کے بعد ٹیبل ٹینس میں بھی چین نے اپنی بادشاہت قائم رکھتے ہوئے کلین سوئپ مکمل کر لیا، چینی پلیئرز تمام ایونٹس کے گولڈ میڈلز لے اُڑے۔ اسٹیو گیورڈیٹ نے سوئٹزرلینڈ کیلیے88برس بعدگھڑسواری میں طلائی تمغہ جیت لیا۔

گیمز کے 12ویں روز آخری اطلاعات آنے تک چین نے 35 گولڈزکے ساتھ میڈلز ٹیبل پر اجارہ داری قائم رکھی،اسکے مجموعی75 تمغوں میں 21 چاندی اور 19 کانسی کے ہیں، امریکا 30 گولڈز کے ساتھ 71 میڈلز اپنے نام کرچکا، 19سلور اور 22 برانز بھی ان کے ایتھلیٹس نے جیتے ہوئے ہیں، برطانیہ 22 گولڈاور مجموعی طور پر48 میڈلز لے کر تیسرے نمبر پر براجمان ہے۔

تفصیلات کے مطابق بدھ کو چین نے مینز ٹیم ٹیبل ٹینس کے فائنل میں جنوبی کوریا کو3-0 سے آئوٹ کلاس کرتے ہوئے گولڈ میڈل جیت لیا، یوں چینی پلیئرز نے اس کھیل کے تمام چاروں تمغے اپنی جھولی میں ڈال لیے،چین نے چار برس قبل بیجنگ گیمز میں بھی چاروں ٹیبل ٹینس طلائی تمغے اپنے نام کیے تھے۔

بدھ کو پہلے سنگلز میں ورلڈ نمبر2 ما لونگ نے جنوبی کورین حریف ریو سینوگمن کو 11-6،11-6،11-6 اور 11-4 سے ٹھکانے لگایا، دوسرے سنگلز میں سنگلز چیمپئن ژانگ جائیک نے جو سائیوک کو 11-9،5-11،11-6 اور 11-8 سے زیر کیا، ڈبلز میں چینی پلیئرز ژانگ اور وانگ ہائو نے کورین حریفوں ریو سینوگمن اور جو سائیوک کیخلاف 11-4،11-8 اور 11-6 سے کامیابی حاصل کی۔

جرمنی نے ہانگ کانگ کو 3-1 سے پچھاڑ کر کانسی کا تمغہ پایا۔گھڑسواری کے لانگ جمپ انفرادی مقابلوں میں اسٹیو گیورڈیٹ نے سوئٹزرلینڈکیلیے88 برس بعد طلائی تمغہ حاصل کیا، اسٹیو نے چار برس قبل اسی ایونٹ میں اپنے ملک کیلیے برانز میڈل جیتا تھا، نیدرلینڈز کے گیرکو شورڈز نے چاندی جبکہ آئرش گھڑسوار سیان اوکونر نے کانسی کا تمغہ پایا،ٹیم جمپنگ ایونٹ میں برطانوی فتح میں شامل رہنے والے نک اسکیٹون چھٹے نمبر پر رہے۔

جبکہ بیجنگ میں گولڈ میڈل جیتنے والے کینیڈا کے ایرک لیمیز بُری طرح ناکام ثابت ہوئے۔آسٹریلوی کشتی رانوں ناتھن اوٹریج اور ایان جینسن نے مینز 49 ای آر میں گولڈ میڈل قبضے میں کرلیا، یہ ان مقابلوں میں آسٹریلیا کا دوسرا سونے کا تمغہ بنا، نیوزی لینڈ کے پیٹر برلنگ اور بلیئر ٹیوک نے چاندی کے تمغے کو گلے کی زینت بنایا، ان کی کامیابی کے ساتھ ہی کیویز نے مجموعی اولمپکس میڈلز کی سنچری بھی مکمل کرلی جبکہ حالیہ گیمز میں نیوزی لینڈ کے 10 تمغے ہوگئے۔

کینوئے اسپرنٹ میں ہنگری نے بالادستی قائم کری، ویمنز ٹیم ایونٹ K4 ، 500 میٹر اسپرنٹ ٹائٹل ہنگری نے جیتا جبکہ مینز کے2 ہزار میٹر میں بھی ہنگری کے روڈلف ڈومبی اور رونالڈ کوکینی نے گولڈ میڈل حاصل کیا۔مینز کینوئے سنگلز میں جرمنی کے سباستین برینڈل فاتح رہے جبکہ مینز کایاک سنگلز میں ناروے کے لارسن ایرک ویراس نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔

الجیریا کے توفیق مخالوفی نے ڈس کوالیفکیشن سے بچنے کے بعد مینز اولمپک 1500 میٹر ریس میں سونے کا تمغہ جیتا، انھوں نے 1500 میٹر ریس میں زبردست کم بیک کرتے ہوئے بازی پلٹی اور مقررہ فاصلہ 3 منٹ 34.08 سیکنڈز میں طے کیا، امریکا کے لیونل مینزانو نے سلور میڈل پایا، ان کا ٹائم 3:34.79 سیکنڈز رہا۔

مراکش کے عبدل اتائی ایگیودر نے 3:35.13 سیکنڈز کے ساتھ برانز میڈل قابو میں کیا۔150کے جی ویٹ لفٹنگ میں ایران کے بہداد سلیم کردیسیابی نے سونے کا تمغہ جیتا جبکہ ان کے ہموطن ساجد انوشیروانی نے دوسری پوزیشن کیساتھ سلور میڈل اپنے نام کیا، روس کے البیگوف نے کانسی کے میڈل پر اکتفا کیا۔