اولمپکسسارہ عطارپہلی خاتون سعودی رنر بن گئیں

تاریخ میں پہلی بار سعودی عرب کی طرف سے میگا ایونٹ کھیلنے والی دو خواتین ایتھلیٹس کی فہرست میں اپنا نام شامل کرالیا۔


Sports Desk/AFP August 09, 2012
800میٹرزہیٹ میں سب سے آخری نمبرپرآئیں،شائقین نے خوب حوصلہ افزائی کی، فوٹو فائل

KARACHI: سارہ عطار اولمپک گیمز میں سعودی عرب کی نمائندگی کرنے والی پہلی ٹریک اینڈ فیلڈ خاتون رنر بن گئیں۔ انھوں نے یہ اعزاز بدھ کو 800 میٹرز ہیٹ مقابلوں میں شرکت کرکے حاصل کیا۔8 ایتھلیٹس کی اس دوڑ میں وہ آٹھویں نمبر پر رہیں تاہم تاریخ میں پہلی بار سعودی عرب کی طرف سے میگا ایونٹ کھیلنے والی دو خواتین ایتھلیٹس کی فہرست میں اپنا نام شامل کرالیا۔

وہ گذشتہ روز ہیٹ مقابلے کیلیے ٹریک پر پہنچیں تو سر سفید رومال سے ڈھکا جبکہ انھوں نے پوری آستنیوں کی گرین ٹی شرٹ اور بلیک ٹرائوزر پہنا ہوا تھا، اس وقت درجہ حرارت 19 سینٹی گریڈ تھا، ایسے میں انھیں دیکھ کر 80 ہزار تماشائیوں نے گرمجوشی کا مظاہرہ کیا جس پر سارہ نے ہاتھ ہلاکر بھرپور انداز میں جواب دیا ۔

انھوں نے مقررہ مسافت 2 منٹ 44.95 سیکنڈز میں طے کی جبکہ اس ہیٹ مقابلے کی فاتح کینیا کی جینتھ جیپسکوجئی نے 800 میٹرز کا فاصلہ 2 منٹ 1.04 سیکنڈز میں مکمل کیا۔ یاد رہے کہ رواں میگا ایونٹ میں سعودی عرب کی ایک جوڈوکا وجدان علی سراج عبدالرحیم شہرخانی نے بھی شرکت کی تھی،اس سے قبل اولمپک گیمز میں نمائندگی کیلیے سعودی عرب سے خواتین ایتھلیٹس کو بھیجے جانے کا رواج نہیں تھا۔

دریں اثنا میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سارہ نے کہا کہ میرے لیے اولمپک گیمز میں شرکت ایک ناقابل فراموش تجربہ ہے۔