آئی پی ایلچنئی سے میچز منتقل نہ کرنے پر ٹیمیں ناخوش

سری لنکن نیشنلسٹ پارٹی نے کرکٹرز سے ایونٹ کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کردی۔


Sports Desk March 30, 2013
سری لنکن نیشنلسٹ پارٹی نے کرکٹرز سے ایونٹ کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کردی۔ فوٹو: فائل

آئی پی ایل میں شریک فرنچائزز نے چنئی سے میچز منتقل نہ کرنے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

کئی ٹیمیں گورننگ کونسل کے اس فیصلے سے ناخوش ہیں، حکام نے سری لنکن پلیئرز کی شرکت پر ہونے والے مظاہروں کے پیش نظر انھیں چنئی میں کھیلنے سے روک دیا ہے، دیگرٹیموں کو بھی اپنے سری لنکن پلیئرز سے وہاں میچز کے موقع پر محروم رہنا پڑے گا، واضح رہے کہ آئی پی ایل میں ماضی میں بھی ملکی حالات کے پیش نظر وینیوز تبدیل کیے جاتے رہے،2009 کا تو پورا ایڈیشن ہی بھارت میں عام انتخابات کے پیش نظر جنوبی افریقہ منتقل کردیاگیا تھا۔

اسی طرح 2010 میں سیمی فائنلز بنگلور سے ممبئی منتقل کردیے گئے تھے،2010 میں ہی دکن چارجرز کو اپنے ہوم میچز حیدرآباد، دکن کے باہر کھیلنا پڑے تھے،اس وقت وہاں پر تیلنگانہ کے معاملے پر احتجاج ہورہا تھا، اگرچہ آئی پی ایل گورننگ کونسل کا فرنچائزز کو ہر فیصلے میں شامل کرنا لازم نہیں تاہم ذرائع کے مطابق ٹیمیں موجودہ صورتحال میں فکرمند ہیں۔

5

دوسری جانب سری لنکا کی نیشنلسٹ پارٹی نے ملکی کرکٹرز سے آئی پی ایل کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کردی، نیشنل بدھسٹ کونسل اور جاتھیکا ہیلا ارومیاکے نمائندوں نے بھارتی لیگ کا بائیکاٹ کرنے کے لیے پٹیشن سری لنکا کرکٹ کی گورننگ باڈی کے حوالے کردی۔

اس میں کہا گیا ہے کہ تامل ناڈو کے سیاستدانوں نے سری لنکن کرکٹرز کے آئی پی ایل میچز کیلیے اپنی ریاست میں آنے پر پابندی لگادی ہے، ہمیں اپنے پلیئرز کی قدروقیمت کا احساس ہے، اگر وہاں پر انھیں کوئی انجری پیش آ گئی تو یہ ہمارے ملک کا بڑا نقصان ہوگا، اس لیے ہم اپنے پلیئرز سے کہتے ہیں وہ بھارت نہیں جائیں، انھیں پیسوں سے زیادہ اپنی حفاظت کے بارے میں سوچنا چاہیے۔