رضا حسن انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کے لیے پُرعزم

انجریز کھیل کا حصہ ہیں، کیریئر ختم ہونے کے خدشات نہیں تھے، پاکستانی اسپنر۔


Sports Reporter March 30, 2013
انجریز کھیل کا حصہ ہیں، کیریئر ختم ہونے کے خدشات نہیں تھے، پاکستانی اسپنر. فوٹو: اے ایف پی/فائل

رضا حسن فٹنس بحال ہونے کے بعد ایک بار پھر انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کیلیے پُرعزم ہیں۔

نوجوان لیفٹ آرم اسپنر کا کہنا ہے کہ انجریز کھیل کا حصہ ہیں، کیریئر ختم ہونے کے خدشات نہیں تھے، چیمپئنز ٹرافی میں ملک کی نمائندگی کا موقع ملا تو شاندار کارکردگی سے ٹیم کی فتوحات میںاہم کردار ادا کرنے کی کوشش کروں گا۔ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رضا حسن نے کہا کہ کمر میں تکلیف شروع ہوئی تو معمولی سمجھا، ایم آر آئی سے صورتحال واضح ہوئی کہ انجری کو نظر انداز کرنا خطرناک ہوگا۔

 

8

علاج کے دوران ڈاکٹرز نے8ہفتے آرام کا مشورہ دیا تھا، میں نے ہدایت پر عمل کرنے کے بعد ہی اب میدان کا رخ کیا، ایک سوال پرانھوں نے کہا کہ کسی مرحلے پر کیریئر ختم ہوجانے کے خدشات نہیں تھے،انجریز کھیل کا حصہ ہیں،کئی پلیئرز مشکل مرحلوں سے گذرنے کے بعد بھی طویل عرصے تک میدانوں میں بہترین کارکردگی دکھاتے رہے ہیں، رضا حسن نے کہا کہ قومی ٹوئنٹی20 کرکٹ ٹورنامنٹ میں فٹنس آزمانے اور صلاحیتیں دکھانے کا بھرپور موقع ملا۔

ملکی سطح کے مقابلوں میں سینئر کھلاڑیوں کے مقابل پرفارم کرنے سے اعتماد میں بے پناہ اضافہ ہوگیا، چیمپئنز ٹرافی میں ملک کی نمائندگی کا موقع ملا تو اچھی کارکردگی سے فتوحات میں اہم کردار ادا کرنے کی کوشش کروں گا۔ سعید اجمل اور عبد الرحمان جیسے کامیاب اسپنرز کی موجودگی میں قومی ٹیم کیلیے منتخب ہونے کے امکانات پر رضا حسن نے کہا کہ میں صرف بہتر سے بہتر پرفارم کرنے پر توجہ مرکوز رکھتا ہوں،نتائج اور موقع ملنا مقدر کی بات ہے۔