دہشتگردی مشترکہ کوششوں سے ہی ختم کی جا سکتی ہے

پاکستان پوری دنیا پر بار بار یہ واضح کر رہا ہے کہ اس کا ریاستی سطح پر دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔


Editorial February 19, 2018
پاکستان پوری دنیا پر بار بار یہ واضح کر رہا ہے کہ اس کا ریاستی سطح پر دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ فوٹو: فائل

لاہور: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جرمنی میں 54ویں تین روزہ ''میونخ سیکیورٹی کانفرنس'' سے خطاب میں پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف آپریشنز' اقدامات' قربانیوں اور خطے کی حقیقی تصویر پوری دنیا کے سامنے اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ وہ فخر سے کہتے ہیں پاکستان میں دہشتگردوں کا کوئی کیمپ نہیں، افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے پاکستان میں حملے ہورہے ہیں، جہاد کو انتہا پسندی کے فروغ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، ہم وہ کاٹ رہے ہیں جو40سال پہلے بویا۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا کردار مثالی ہے، اس نے بے پناہ قربانیاں دیں، دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان بنایا، تمام مکاتب فکر کے علما نے مذہب کے نام پر کی جانے والی دہشت گردی کے خلاف فتویٰ دیا ہے، خود پر قابو رکھنا بہترین جہاد ہے لیکن جہاد کو انتہا پسندی کے پرچار کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، پوری دنیا سے نوجوانوں کو جہاد کے لیے استعمال کیا گیا، اس انتہا پسندی کو جہاد نہیں، انتہا پسندی ہی کہنا چاہیے۔

جہاد کا حکم دینے کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے، پاکستان میں مقیم 27لاکھ افغان مہاجرین کی واپسی سے دونوں ممالک میں سیکیورٹی صورت حال بہتر ہوگی اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے تمام ممالک کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جہاد کے تصور کو انتہا پسندی کے ساتھ نتھی کرنے کے تصور کی نفی کرتے ہوئے پوری دنیا پر واضح کر دیا کہ جہاد کا اختیار کسی ایک گروہ کو نہیں بلکہ ریاست کو ہے اور اگر کوئی گروہ اپنے تئیں کسی کارروائی میں ملوث ہے تو ریاست کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

جنرل باجوہ نے ماضی کی حکومتی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بالکل صائب کہا کہ ہم وہ کاٹ رہے ہیں جو 40سال پہلے بویا تھا۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ 40سال قبل وضع کی گئی پالیسیوں اور بیانیہ کا خمیازہ آج پوری قوم داخلی اور خارجی سطح پر بھگت رہی ہے۔ اس بیانیہ میں امریکا ماسٹر مائنڈ تھا مگر بڑی ہوشیاری سے وہ اس گرداب سے نکل گیا اور الزامات کا تمام ملبہ پاکستان پر ڈال دیا۔

پاکستان پوری دنیا پر بار بار یہ واضح کر رہا ہے کہ اس کا ریاستی سطح پر دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں' دہشت گردی کی جو بھی وارداتیں ہو رہی ہیں اس کے پیچھے نامعلوم اور بے شناخت لوگ ہیں' پاکستان متعدد بار یہ واضح کر چکا ہے کہ اس کے ہاں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کے ڈانڈے افغانستان میں موجود دہشت گردوں سے جا ملتے ہیں۔

اب ایک بار پھر جنرل باجوہ نے پوری دنیا پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں، خفیہ ایجنسیاں بھی داعش کے افغانستان میں پنجے گاڑنے کی تصدیق کر رہی ہیں، پاکستان میں گزشتہ برسوں میں 130 حملوں میں سے 123 افغانستان سے کیے گئے۔

دہشت گردی کے خلاف کیے گئے اقدامات کے بارے میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ وہ داعش کو پاکستان میں داخلے سے روکنے میں کامیاب ہوئے، افغان بارڈر کے ساتھ بائیو میٹرک سسٹم نصب کیا گیا، دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا، پاکستان میں نفرت انگیز تقاریر اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خلاف اصلاحات کی گئیں' پاکستان کا امن افغانستان میں امن کی ضمانت ہے، خطے میں امن کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کی زمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہو، تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

امریکا' بھارت اور افغانستان ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں' اپنے اس گھناؤنے کھیل میں اب انھوں نے برطانیہ اور فرانس کو بھی شامل کر لیا ہے۔

پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر کی جانے والی ان سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ناگزیر ہے کہ تمام پاکستانی سفیروں کو متحرک کیا جائے جو مختلف سیمینار' اجلاس اور واک کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف کی گئی پاکستانی کوششوں اور قربانیوں کو اجاگر کریں اور دنیا کو بتائیں کہ دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی جنگ پاکستان لڑ رہا اور اس وقت ایک سازش کے تحت اسے دہشت گردی سے نتھی کیا جارہا ، پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور وہ پورے خطے میں امن قائم کرنے کے لیے ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہے لیکن اس کے مخالف اس کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے دہشت گردی کے خاتمے کا حل بھی بیان کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کو مشترکہ کوششوں سے شکست دی جاسکتی ہے۔ دنیا کو جنرل قمر جاوید باجوہ کے اس نکتے پر غور کرنا چاہیے۔