پاکستان ٹھوس ایکشن پلان پر توجہ دے

حکومتی حلقوں نے اسے پاکستان کے حق میں بہتر کہا ہے


Editorial February 25, 2018
حکومتی حلقوں نے اسے پاکستان کے حق میں بہتر کہا ہے . فوٹو : فائل

ISLAMABAD: فرانس کے دارالحکومت پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے اجلاس میں پاکستان کا نام دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔ میڈیا کے مطابق پیرس میں ایک ہفتے جاری رہنے والے ایف اے ٹی ایف کا اجلاس اختتام پذیر ہوا تاہم اجلاس میں پاکستان کے خلاف کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا اور پاکستان کو دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے مزید وقت دیا گیا ہے۔

حکومتی حلقوں نے اسے پاکستان کے حق میں بہتر کہا ہے مگر تجزیہ کاروں اور ملک کے سیکیورٹی مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹاسک فورس سے نامزدگی ہٹانے کا معاملہ اتنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ اس کے لیے دہشت گردوں کے ماسٹر مائنڈز اور سہولت کاروں کے خلاف آل آؤٹ وار جیسی کارروائی کرنا ہوگا اور اس موثراور ارباب اختیار کو اس مہلت پر خواب خرگوش کے مزے لوٹنے سے بھی اجتناب کرنا ہوگا کیونکہ جن قوتوں نے پاکستان کو دست تہہ سنگ بناکر اجلاس میں بلایا ہے، اب وہ ٹھوس ایکشن پلان کا منتظر رہے گا، اس ''بیش قیمت'' مہلت کا موجودہ امریکی دباؤ کے پیش نظر جائزہ لیا جانا چاہیے۔

جس میں ترجمان وائٹ ہاؤس راج شاہ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پیش رفت سے مطمئن نہیں ہیں اور ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ امریکا نے پاکستان کے اقدامات کے حوالے سے احتساب کیا ہے، دریں اثنا پنٹاگان کی جانب سے جاری ہونیوالے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا کے بارے میں نئی امریکی حکمت عملی پاکستان کے پاس علاقائی سلامتی کے احترام کا ایک بہترین موقع ہے اور اس سلسلے میں ہم پاکستان کے اقدامات کو خوش آیند کہیںگے۔ان پیغامات میں مضمر خطرات کا حکمراں اور سیکیورٹی ادارے فوری ادراک کریں، پاکستان نے امریکا کو دو ٹوک الفاظ میں بتا دیاہے کہ تعلقات باہمی اعتماد اور احترام کے ماحول میں ہی آگے بڑھ سکتے ہیں، امریکا خود بھی بھارتی دباؤ سے نکلے، امریکا نے حالیہ مہینوں میں متعدد یکطرفہ اقدامات کیے۔

جس سے تعلقات متاثر ہوئے، اب اعتماد کی بحالی کا انحصار امریکا پر ہے۔ لہٰذا پاکستان کے لیے اس ایکشن پلان کو قابل عمل، کشش انگیز اور قائل کردینے کی مہارت آمیز اقدامات کی نتیجہ خیزی سے جوڑنا ہوگا تاکہ جون میں پاکستان اس شکنجہ سے مکمل طور پر نہ صرف نکل جائے بلکہ دہشت گردوں کی مالی معاونت، منی لانڈرنگ کا گمراہ کن اور شر انگیز الزام عالمی برادری کے ایجنڈہ سے حرف غلط کی طرح مٹ جائے، ظاہر ہے یہ کام جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، پاکستان کو دہشت گردی سے متعلق اپنی پوری حکمت عملی کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا۔

ادھر عالمی میڈیا میں گردش کرنے والی رپورٹس کے باوجود ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کا نام ان ممالک کی فہرست میں شامل نہیں کیا جومنی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی معاونت سے باز رہنے میں ناکام رہے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کی جاری فہرست میں ایتھوپیا، عراق، سربیا، سری لنکا، شام، ٹرینڈاڈ اینڈ ٹوباگو، تیونس، واناواتو اور یمن کے نام شامل ہیں جب کہ اجلاس کے دوران زیر بحث آنے والے بہتر کارکردگی کے حامل ممالک کے نام بھی جاری کیے گئے تاہم ان ممالک میں بھی پاکستان کا نام شامل نہیں ہے۔ دریں اثناء وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے ایف اے ٹی ایف کا اعلامیہ جاری ہونے سے پہلے بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈا کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیے جانے کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا لہٰذا سرکاری بیان تک کسی بھی قسم کی قیاس آرائیوں میں نہیں پڑنا چاہیے ۔

جب کہ پاکستان کا نام واچ لسٹ میں ڈالنے کے خلاف پاکستان کے حق میں کھڑا ہونے پر ترکی کا شکریہ ادا کیا ہے ۔ پاکستان کو اس بات کا بھی یقین ہے کہ سعودی عرب اور چین دوسری ووٹنگ میں امریکی دباؤ کی مزاحمت کریں گے ، وزارت دفاع کی جانب سے آگاہ کیا گیا ہے کہ ممبران پر ایف اے ٹی ایف اجلاس کی کارروائی پر تبصرہ کرنے کی ممانعت ہے ، مگر بھارت اس پابندی کو خاطر میں نہیں لایا چنانچہ اس ضمن میں پاکستان نے پروپیگنڈہ کرنے پر بھارت کے خلاف ایف اے ٹی ایف کو شکایت کی ہے کہ بھارت نے قبل از وقت ہی پاکستان کا نام گرے ممالک میں شامل کرنے کا ڈھنڈورا پیٹا تھا۔

بہرحال یہ خوش آیند بات ہے کہ پاکستان نے گرے لسٹ میں شامل کرنے کی غرض سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس میں امریکا اور برطانیہ کی جانب سے تحریک پیش کرنے پر سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف اور آئی سی آر جی کی رپورٹوں کا انتظار ہے، واضح رہے غیر ملکی میڈیا میں یہ بے بنیاد تاثر بھی دیا گیا کہ پاکستان نے سعودی عرب میں فوجی دستے اسلامی ملٹری اتحاد کے لیے نہیں بلکہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس اجلاس میں متحدہ عرب امارات کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے بھیجے ہیں، حالانکہ بھارتی وزیراعظم کے یو اے ای میں غیر معمولی استقبال کا مقصد ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو دباؤ میں لانے کی بھونڈی بھارتی سفارتکاری تھی۔ اس وقت پاکستان کے لیے سفارتکاری کی مہارت ناگزیر ہے، دہشت گردوں کی فنڈنگ کے الزام کو دھونے کے لیے تین ماہ کا عرصہ ایک چیلنج سے کم نہیں۔