تاپی گیس پائپ لائن منصوبہ خوشحالی کا ضامن

بلاشبہ تاپی منصوبہ خطے کی ترقی و خوشحالی میں معاون ثابت ہوگا


Editorial February 25, 2018
بلاشبہ تاپی منصوبہ خطے کی ترقی و خوشحالی میں معاون ثابت ہوگا ۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ تاپی گیس پائپ لائن منصوبہ سے خطے کے کروڑوں عوام کی اقتصادی و سماجی حالت کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی، خطہ میں امن کے فروغ میں بھی اس کا ایک کردار ہوگا۔ وزیراعظم پاکستان نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کے روز مغربی افغانستان کے تاریخی شہر ہرات میں پاکستان، ترکمانستان،افغانستان،بھارت گیس پائپ لائن منصوبہ کے تحت بجلی، آپٹک فائبر و دیگر منصوبوں کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب میں کیا۔

بلاشبہ تاپی منصوبہ خطے کی ترقی و خوشحالی میں معاون ثابت ہوگا جب کہ اس منصوبہ اور اس سے جڑے دیگر منصوبوں کی بدولت رکن ممالک کے مابین تاریخی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ پاکستان خطے میں امن و ترقی کا علمبردار ہے، افغانستان کے ساتھ تعلقات میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر اس منصوبہ کی افادیت افغان حکمرانوں پر بھی یہ واضح کرے گی کہ پاکستان کی حکومت اور عوام سے بڑھ کر کوئی بھی افغانستان میں امن و استحکام کا خواہاں نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہرات میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے افغان عوام کو اردو زبان میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام افغانستان میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے پرعزم ہیں، افغان عوام کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کی کامیابی ہماری کامیابی ہے۔

آپ کی ترقی ہماری ترقی ہے اور افغانستان میں امن پاکستان میں امن کے برابر ہے۔ واضح رہے کہ 10 ارب ڈالر مالیت کے تاپی منصوبے کے تحت 1800 کلومیٹر طویل پائپ لائن کے ذریعے ترکمانستان سے قدرتی گیس افغانستان، پاکستان اور بھارت کو فراہم کی جائے گی، توقع ہے کہ یہ منصوبہ 2019 میں مکمل ہوگا جس سے پاکستان کو یومیہ 1325 ملین مکعب فٹ قدرتی گیس حاصل ہوگی۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ تاپی گیس پائپ لائن منصوبہ خطے کے قدیم روابطہ بحال ہونے کا تاریخی موقع ہے کیونکہ اس منصوبہ میں کئی پڑوس ریاستیں باہم منسلک ہیں، اس منصوبہ سے خطے میں مجموعی طور پر خوشحالی آئے گی۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں گیس کی کمی پر قابو پالیا گیا ہے اور ملک میں گزشتہ 4 سال میں بجلی کی پیداوار میں 10 ہزار میگاواٹ سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، سی پیک حقیقت کا روپ دھار چکی ہے اور گوادر بندرگاہ وسطی ایشیا سمیت خطے کے ملکوں کو سہولت فراہم کرے گی۔ ایسے میں تاپی منصوبہ کو بھی بروقت اور کامیابی سے ہمکنار کیا جانا چاہیے، تاکہ اس کے ثمرات سے بھی قوم فیض یاب ہوسکے۔