پرفارمنس دکھاؤ یا گھر جاؤ سلیکٹرز کا سینئرز کو واضح پیغام

شعیب ملک،آفریدی،عمرگل اور کامران پر بھی تلوار لٹکتی رہے گی(ذرائع)ناقص فارم کے سبب یونس خان کوڈراپ کیا،اقبال قاسم۔


Sports Reporter/Abbas Raza April 02, 2013
اسکواڈ میں تجربہ کار اور نوجوان کھلاڑی شامل ہیں، پریذیڈنٹ کپ میں کارکردگی کاجائزہ لے کر15پلیئرز کا اعلان کریں گے فوٹو: فائل

پرفارمنس دکھاؤ یاگھر جاؤ ، یونس خان کو ڈراپ کرکے سلیکٹرز نے دیگر سینئرز کو بھی واضح پیغام دے دیا۔

حتمی اسکواڈ کا اعلان ہونے تک شعیب ملک، شاہدآفریدی،عمرگل اور کامران اکمل پر بھی تلوار لٹکتی رہے گی، اس حوالے سے چیف سلیکٹر اقبال قاسم کا کہنا ہے کہ چیمپئنز ٹرافی کیلیے ابتدائی 30 رکنی اسکواڈ میں تجربہ کار اور نوجوان کھلاڑی شامل ہیں، سابق کپتان کی گذشتہ چند میچز میں ناقص فارم کے سبب ڈراپ کرنے کا مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔

انھوں نے کہا کہ حتمی اسکواڈ کا اعلان کرنے میں ایک ماہ سے زائد وقت باقی ہے، پریذیڈنٹ کپ میں تمام کرکٹرز کی کارکردگی پر نظریں ہوں گی جس کے بعد ہی 15رکنی ٹیم کا اعلان کیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق انگلینڈ میں جون کے پہلے ہفتے شروع ہونے والے چیمپئنز ٹرافی کیلیے پاکستان نے 30ممکنہ کھلاڑیوں کی فہرست جاری کرتے ہوئے یونس خان کو ڈراپ کرنے کا مشکل فیصلہ کیا، سابق کپتان نے گذشتہ 20 ون ڈے اننگز میں 22.11 کی اوسط سے 420 رنز بنائے، اس میں صرف 3 نصف سنچریاں شامل تھیں۔

کی کیریئر ایوریج 31 بھی قابل رشک نہیں، تجربہ کار بیٹسمین 250 ون ڈے میچز میں 6 سنچریاں ہی اسکور کرپائے ہیں۔دوسری طرف دیگر سینئرز کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان موجود ہے، شعیب ملک میں بھی ماضی جیسا دم خم نظر نہیں آرہا، انھوں نے کچھ عرصے کے دوران 18.70 کی اوسط سے 318 رنز جوڑے، ایک بار بھی 50کا ہندسہ نہ عبور کرپائے،انھوں نے آخری مرتبہ 40 سے زائد رنز کی اننگز 2009 میں کھیلی جب بھارت کے خلاف 128رنز ان کے نام کے آگے درج ہوئے۔



شاہد آفریدی کو دورئہ بھارت کے ون ڈے اسکواڈ سے ڈراپ کرنے کے بعد جنوبی افریقہ میں بطور بولر شامل کیا گیا مگر ایک بھی وکٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے، ٹوئنٹی 20 کے بہترین بولر عمر گل ون ڈے اور ٹیسٹ مقابلوں میں ایک عام سے پلیئر نظر آنے لگتے ہیں ، کارکردگی میں عدم تسلسل سے ان کا کیس بھی کمزور ہوگیا، کامران اکمل نے بیٹنگ میں قدرے بہتر فارم دکھائی مگر وکٹ کیپنگ میں مشکل ترین کیچ پکڑنے اور آسان ترین مواقع گنوانے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

دوسری طرف سینئرز کی وجہ سے ہی گذشتہ 20 اننگز میں 36.35کی اوسط سے 7ففٹیز سمیت 618 رنز بنانے والے عمر اکمل کی ٹیم میں جگہ نہیں بنتی،ذرائع کا کہنا ہے کہ اب حتمی اسکواڈ کا اعلان ہونے تک سینئرز پر بھی تلوار لٹکتی رہے گی۔

دریں اثنا یونس خان کے سوا دیگر سینئرز کو ڈراپ نہ کیے جانے کے سوال پر چیف سلیکٹر اقبال قاسم نے کہا کہ ابتدائی 30 رکنی فہرست تجربہ کار اور نوجوان کھلاڑیوں کا مجموعہ ہے، یونس خان کی گذشتہ چند میچز میں ناقص فارم کو دیکھتے ہوئے مشکل فیصلہ کرنا پڑا، حتمی اسکواڈ کا اعلان کرنے میں ایک ماہ سے زائد کا وقت باقی ہے، پریذیڈنٹ کپ میں سینئرز اور اُبھرتے ہوئے نوجوان کھلاڑی سب شرکت کر رہے ہیں،تمام کرکٹرز کی کا رکردگی پر نظریں ہوں گی جس کے بعد ہی 15رکنی ٹیم کا اعلان کریں گے، انھوں نے کہا کہ سینئر ہو یا جونیئر ڈومیسٹک مقابلوں فارم اور فٹنس ثابت کرنے والوں کو ہی فائنل اسکواڈ میں جگہ ملے گی۔

ذرائع کے مطابق صرف یونس خان کے بارے میں سخت فیصلہ کرکے دیگر سینئرز کو کھلا پیغام دیدیا گیاکہ پرفارمنس دکھاؤ یا پھر گھر جاؤ کیونکہ تجربات کیلیے اب زیادہ وقت نہں بچا۔ عمر اکمل، احمد شہزاد، حارث سہیل اور عمر امین میں یونس خان کا خلا پُر کرنے کیلیے سخت مقابلہ ہوگا۔

آل راؤنڈرز میں شاہدآفریدی اور شعیب ملک کو حماد اعظم اور انور علی کا چیلنج درپیش ہے، پیسرز میں سے احسان عادل اور اسد علی سینئر عمر گل کی پوزیشن خطرے میں ڈال سکتے ہیں، کامران اکمل کو محمد رضوان کی جانب سے چیلنج کا سامنا ہے۔ یاد رہے کہ انگلینڈ میں شیڈول چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کا پہلا میچ 4 جون کو ویسٹ انڈیز ،دوسرا 10 تاریخ کو جنوبی افریقہ اور تیسرا 15 جون کو بھارت کے خلاف ہو گا۔