80 لاکھ تک کی جائیداد کو ودہولڈنگ چھوٹ دینے کی تجویز

ٹرانسفرپرفائلرزکیلیے1،نان فائلرکیلیے2 فیصد، فکسڈٹیکس ریجیم کودوبارہ بجٹ کا حصہ بنایا جائے، آباد کی جانب سے بجٹ تجویز


Ehtisham Mufti March 03, 2018
نئے انویسٹرسے 3سال تک آمدن ذرائع نہ پوچھے جائیں،آبادکی بجٹ سفارشات۔ فوٹو : فائل

ملک میں گھروں کی قلت دور کرنے، تعمیراتی لاگت میں کمی اور سرمایہ کاری کا حجم بڑھانے کے لیے ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) نے ملک میں 80 لاکھ روپے تک کی مالیت کی جائیدادوں کو ودہولڈنگ ٹیکس کی چھوٹ دینے کی تجویز دے دی ہے۔

آباد کی جانب سے وفاقی حکومت کوارسال کردہ بجٹ تجاویز میں کہا گیا ہے کہ ودہولڈنگ ٹیکس 80 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی جائیدادوں پرعائد کیا جائے جبکہ پراپرٹی ٹرانسفر پرفائلرز کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح1 فیصد جبکہ نان فائلر کے لیے2 فیصد کی جائے۔

بجٹ تجاویز میں کہا گیا ہے کہ مالی سال2018-19 میں تعمیراتی شعبے کے لیے فکسڈ ٹیکس ریجیم کو دوبارہ بجٹ کا حصہ بنایا جائے اور یکم جولائی2018 سے منظور ہونے والے تعمیراتی منصوبوں پر فکسڈ ٹیکس ریجیم کو لاگو کیا جائے جبکہ اس سے قبل کی مدت میں منظور ہونے والے منصوبوں کویہ صوابدید دی جائے کہ وہ اس ریجیم میں آنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

تجاویز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تعمیراتی شعبے کے لیے آن لائن فکسڈ ٹیکس ریجیم کے نفاذ سے تعمیراتی شعبے سے وصول ہونے والے ٹیکسوں کے حجم میں نہ صرف کئی گنا اضافہ ہوجائے گا بلکہ ٹیکس دھندہ اور وصول کنندگان کے درمیان براہ راست رابطے کے مواقع ختم ہونے سے کرپشن کے دروزاے بند ہوجائیں گے۔

آباد نے دعویٰ کیا ہے کہ پیچیدہ ٹیکس نظام اور فریقین کے درمیان روابط کی وجہ سے صرف تعمیراتی شعبے میں ایف بی آر کو ریونیو کی مد میں سالانہ 2.5 ارب روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ فکسڈ ٹیکس ریجیم کے نفاذ سے اسکوائر فٹ کے تناسب سے ٹیکسوں کی وصولیوں کے باعث ملک گیر سطح پر یہ ڈیٹا مرتب کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں کتنی اراضی ڈیولپ ہوگئی ہے اور یہ ڈیٹا ہاؤسنگ پالیسی اورمتعلقہ مالیاتی اداروں کے لیے بھی کارآمد ہوگی۔

بجٹ تجاویز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کے حجم کو بڑھانے کے لیے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اوروہ مقامی سرمایہ کار جو تعمیراتی شعبے میں پہلی مرتبہ سرمایہ کاری کرنے کے خواہاں ہیں انہیں یہ ترغیب دی جائے کہ ان کی جانب سے لگائے جانے والے سرمائے کے ذرائع کے بارے میں 3 سال تک استفسار نہ کیا جائے۔

آباد نے اپنی تجاویز میں تعمیراتی شعبے کے بنیادی خام مال اسٹیل کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی اور ایڈیشنل ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تجویز پر عمل درآمد کے نتیجے میں تعمیراتی لاگت میں 15 فیصد کی کمی ہوجائے گی اور اس سہولت سے اپنا گھر تعمیر کرنے والے شہری استفادہ کرسکیں گے۔

بجٹ تجاویز میں کہا گیا ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومتیں باہمی مشاورت کے ساتھ ملک میں جائیدادوں کی ویلیوایشن کے تین نظام ختم کرکے ایک یکساں ویلیوایشن سسٹم متعارف کرائیں جبکہ پراپرٹی پراسٹیمپ ڈیوٹی، رجسٹریشن چارجز، کیپیٹل ویلیوٹیکس اورٹاؤن ٹیکس کی مجموعی شر ح سیل ڈیڈ کی مالیت کا صرف1 فیصد تک محدود کیا جائے۔

مقبول خبریں