یہ ہے آپ کی پی آئی اے
پی آئی اے کے صرف 21 طیارے اڑ رہے ہیں جب کہ 9 طیارے زیر مرمت اور 6 کے فالتو ضروری پرزے ہی موجود نہیں۔
جن پاکستانیوں کا ملک سے باہر آنا جانا رہتا ہے وہ جانتے ہیں کہ کسی انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر پی آئی اے کا جہاز دیکھ کر ان کے اداس مسافر دل کی کیا کیفیت ہوتی ہے۔ ملک سے باہر ہماری قابل فخر نشانی ایک مدتوں تک یہی ائیر لائن رہی۔ ہماری عالمی پہچان۔ دنیا کی چار پانچ بڑی فضائی کمپنیوں میں سے ایک اور اس کمپنی کے جہاز نہیں ان کو چلانے والے بھی ان کے ساتھ اڑتے تھے۔
کراچی میں بیٹھے ہوئے اس کمپنی کے سربراہوں کے دل کا چین پرواز میں مصروف یہی جہاز ہوا کرتے تھے، ان کی زندگی یعنی ان کی عزت اور نام کے محافظ۔ شاید ان جہازوں کے ساتھ یہی دل کا لگاؤ تھا کہ جب اس کمپنی کے ایک سربراہ نے دیکھا کہ اس کے ملک کے اندر اس کے ائیر پورٹ پر اس کا جہاز اغوا کر لیا گیا ہے تو وہ جان پر کھیل گیا اور جہاز واگزار کرا لیا۔ یہ نور خان تھے اور اس خوبصورت واقعہ کی تفصیل میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں۔ ان سے پہلے ائیر مارشل اصغر خان تھے جو پاکستان فضائیہ کو دنیا بھر میں ایک ماڈل ائیر فورس بنانے کے بعد اس کاروباری ادارے میں آئے لیکن پاکستان ائیر فورس کے ان دونوں سربراہوں کے لیے پی آئی اے محض کوئی کاروباری ادارہ نہیں تھا قومی عزت اور پہچان تھا۔
پاکستان کی طرح اس ادارے کو بھی حالات اور کاروباری رابطوں نے اس لحاظ سے منفرد بنا دیا کہ اسے حج اور عمرہ کی باقاعدہ پروازوں کا تحفہ دیا، دنیا جہان میں پھیلے ہوئے لاکھوں پاکستانی الگ جو پی آئی اے کے جہاز میں بیٹھ کر ہی گویا پاکستان پہنچ جاتے تھے، اپنی تمام بد نظمی اور ہڑبونگ کے ساتھ جو کسی بھی دوسری ائیر لائن میں نہیں چل سکتی تھی۔ پی آئی اے برس ہا برس تک اپنے مسافر پاکستانیوں کی دلجوئی کرتی رہی اور گھر پہنچنے سے پہلے ہی انھیں گھر میں بٹھاتی رہی لیکن یہ پیار و محبت اور قومی فخر کے تمام قصے ہماری آنکھوں کے سامنے جمہوری انتقام کی نذر ہو گئے۔
حکمرانوں کی ہمہ گیر کرپشن نے قومی زندگی کا کوئی گوشہ بھی محفوظ نہ رہنے دیا۔ تڑپے ہیں مرغِ قبلہ نما آشیانے میں والا مضمون ہو گیا۔ یوں تو ملک کا کوئی شعبہ بھی اس ہمہ گیر کرپشن سے محفوظ نہ رہا لیکن مواصلات کے ذریعوں کی بربادی سے لاکھوں پاکستانی دن رات متاثر ہونے لگے۔ ریلوے ختم ہوئی اور پھر پی آئی اے کی باری آ گئی، کبھی کوئی پاکستانی حکومت آئی تو اس دکھی اور برباد قوم کو پتہ چلے گا کہ اس کے ساتھ کیا سلوک ہوتا رہا۔ ہمارے کراچی کے رپورٹر برادرم طفیل احمد نے پی آئی اے کی بربادی اور اس کے اسباب کی ایک ہلکی سی جھلک دکھائی ہے۔ بتایا ہے کہ اس ادارے کو اب 155 ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔
صرف 21 طیارے اڑ رہے ہیں جب کہ 9 طیارے زیر مرمت اور 6 کے فالتو ضروری پرزے ہی موجود نہیں۔ مرے کو مارے شاہ مدار اس ادارے کے ملازمین بھی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں ،کوئی 25 فی صد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے، ابھی بورڈ نے اس کی منظوری نہیں دی، شاید اس لیے کہ وہ یہ اضافہ کہاں سے ادا کرے۔ اب آپ اس خبر کی کچھ تفصیلات پڑھ لیں۔ الیکشنوں میں آپ ایسی خبریں پسند نہیں کرتے لیکن یہ تو ہمارے آپ کی روز مرہ کی خبر ہے، دوبارہ پڑھ لیجیے کہ گزشتہ چار برسوں میں یعنی جمہوری حکومت میں ہمارے ساتھ کیا ہوتا رہا ہے۔ چار برسوں میں 3 چیئرمین اور 4 ایم ڈی تبدیل کر دیے گئے لیکن مالی خسارے پر اب تک قابو نہ پایا جا سکا۔
پاکستانی روپے کی قدر میں کمی ہونے کے باعث قرضوں کی ادائیگی کی رقم میں 40 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے' ڈیڑھ گھنٹے کے سفر میں کھانا بند کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔ فضائی بیڑے میں نئے طیاروں کی خریداری کے لیے 4 ٹینڈرز کیے گئے مگر طیارے نہیں خریدے جا سکے، اس طرح 5 نئے طیاروں کی خریداری کا منصوبہ بھی سرد خانے کی نذر ہو گیا' سابقہ حکومت نے طیاروں کی خریداری کے لیے عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور رقم فراہم نہیں کی۔
قومی ایئر لائن کے ذرایع کے مطابق پی آئی اے نے ماضی میں جو طیارے خریدے تھے، اس وقت فی ڈالر پاکستانی 50 روپے کے مساوی تھا تاہم پاکستانی روپے کی قدر میں مزید کمی سے قومی ایئر لائن کو قرضوں کی ادائیگی میں 40 فیصد سے زائد ادا کرنا پڑ رہا ہے' ذرایع نے بتایا کہ قومی ایئر لائن کو طیاروں کی مد میں ایک ارب ڈالر ادا کرنے ہیں علاوہ ازیں اے ٹی آر اور 777 طیاروں پر 565 ملین ڈالر کا قرضہ بھی واجب الادا ہے۔ قومی فضائی کمپنی کو سال 2005 میں 4 ارب 40 کروڑ روپے خسارے کا سامنا تھا جو دسمبر 2011 میں26 ارب 8 کروڑ روپے تک پہنچ گیا جب کہ پی آئی اے کے قرضے 155 ارب روپے تک پہنچ گئے۔
ذرایع کے مطابق ادارے میں مجموعی طور پر 20 ہزار ملازمین کام کر رہے ہیں' ان ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے کے اعلان کیا گیا تھا، یہ اعلان ادارے میں کام کرنے والی مختلف ایسوسی ایشنوں کے دباؤ پر کیا گیا تھا اور اس سلسلے میں انتظامیہ نے باہمی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط بھی کیے تھے لیکن تنخواہوں میں اضافے کی منظوری بورڈ نے نہیں دی۔
واضح رہے کہ قومی ایئر لائن کی مالی صورتحال دیکھتے ہوئے شاہین ایئر لائن انتظامیہ نے اپنے فضائی بیڑے میں 22 طیارے شامل کر لیے ہیں، اس کے مقابلے میں پی آئی اے کے پاس 19 جہاز اڑان کے قابل ہیں۔ دریں اثناء ترجمان کے مطابق اس وقت 6 جہاز اڑان کے قابل نہیں دیگر جہاز مرمتی مراحل (چیکس) پر ہیں۔ ادارے کو خسارے کا سامنا ہے تاہم موجودہ انتظامیہ خسارے پر قابو پانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے اور نئے روٹس ترتیب دیے جا رہے ہیں۔
پی آئی اے کی تباہی کی یہ ایک سرسری سی جھلک ہے، ایسے ہی موقعوں پر کہا جاتا ہے کہ وقت دعا ہے لیکن کرپٹ لوگوں کو نہ کسی کی بددعا لگتی اور نہ ہی کسی کی لعنت و ملامت کا کوئی اثر ہوتا ہے۔ بس کسی ایسے بے رحم کا انتظار ہے جو کشتوں کے پشتے لگا دے۔ نئی خبریں یہ ہیں کہ موجودہ انتظامیہ حالات کو بہتر کرنے اور جہازوں کو پھر سے اڑانے کے لیے سرتوڑ کوشش کر رہی ہے، پوری قوم کی دعائیں اور خواہشیں ان کے ساتھ ہیں۔