تھر شعبہ صحت کی زبوں حالی اور ترقی کے دعوے

سندھ میں تعلیم و صحت کے 290 منصوبوں میں سے 70 پر کام شروع ہی نہ کیا جاسکا۔


Editorial March 06, 2018
سندھ میں تعلیم و صحت کے 290 منصوبوں میں سے 70 پر کام شروع ہی نہ کیا جاسکا۔ فوٹو: فائل

صوبہ سندھ کے پسماندہ ترین علاقے تھر میں وبائی امراض و غذائی قلت سے بچوں کی اموات کا سلسلہ نہ رک سکا، مزید چار بچے دم توڑ گئے جب کہ سول اسپتال ذرایع کے مطابق گزشتہ ماہ فروری میں 43 بچے ہلاک ہوئے تھے۔

یہ امر افسوسناک ہے کہ تھر میں ایک عرصہ سے جاری غذائی بحران اور وبائی امراض کی خبریں میڈیا پر نشر ہونے کے باوجود صوبائی حکومت کی جانب سے وقتی اور لاحاصل اقدامات کیے گئے، غذائی قلت دور کرنے کے لیے بھیجی گئی گندم کے ذخیرے ضایع ہوگئے جب کہ ایمبولینسیں ذاتی استعمال میں لائے جانے کی اطلاعات میڈیا پر نشر کی گئیں، جس کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔

اطلاعات ہیں کہ مٹھی شہر کے سول اسپتال میں دواؤں کی شدید قلت ہے، حتیٰ کہ ڈرپس بھی موجود نہیں، محکمہ صحت اور ضلع انتظامیہ نے سول اسپتال کی طرف سے توجہ ہٹالی ہے۔ شعبہ صحت و شعبہ تعلیم کی زبوں حالی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، عالمی اداروں کی رپورٹس بھی مذکورہ شعبوں میں پاکستان کی رینکنگ نچلے درجوں پر ظاہر کررہی ہیں۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک ان دونوں شعبوں کی طرف خاص دھیان دیتے ہیں لیکن ہمارے ملک میں اس کے برعکس عمل ہورہا ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ سندھ حکومت کو بجٹ کی کمی کا سامنا رہا ہو، کچھ عرصہ پیشتر آنے والی رپورٹس میں واضح ہوچکا ہے کہ ہر سال کروڑوں روپے کے ترقیاتی فنڈز استعمال نہ ہونے کے باعث لیپس ہوجاتے ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ سندھ میں تعلیم و صحت کے 290 منصوبوں میں سے 70 پر کام شروع ہی نہ کیا جاسکا۔ سندھ حکومت نے بجٹ ہونے کے باوجود خرچ نہیں کیا۔ گزشتہ دنوں گورنر سندھ محمد زبیر قحط زدہ تھر کے شہر مٹھی کے دورے پر تھے، جہاں ایک تقریب میں انھوں نے کہا کہ ملک کو درپیش تمام تر بنیادی مسائل کا حل معیاری تعلیم کے فروغ میں ہے، ہمیں اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ پرائمری تعلیم پر بھی توجہ دینی ہوگی۔

گورنر سندھ کا کہنا کہ 'اگر صوبائی حکومت چاہے تو وفاق مدد کرنے کو تیار ہے' خوش آیند ہے۔ کہا تو جاتا ہے کہ تھر کے حالات اب تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں، لیکن عملی پیشرفت بھی نظر آنی چاہیے، تھر میں بچوں کی اموات کا سلسلہ روکنا ہوگا۔

دنیا میں پسماندہ ترین علاقوں کی ترقی اور صحراؤں کوموسم کے مطقبق نخلستان میں بدلنے کی کئی زندہ مثالیں موجود ہیں، اگر حکومت چاہے تو پاکستان کے صحرا میں بھی انفرا اسٹرکچر پھیلا کرجدید شہر آباد کرسکتی ہے۔ صائب ہوگا کہ تھر کی خوشحالی کے لیے راست اقدامات کیے جائیں، جدید انفرااسٹرکچر کی تعمیر اور صحت و تعلیم کے شعبوں پر توجہ دے کر تھر کو ترقی سے ہمکنار کیا جاسکتا ہے۔