بلوچستان پاکستان کی ترقی کا زینہ

تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مناسب اور وسیع مواقع فراہم کرنے سے وہاں ترقی کا عمل تیز ہو گا۔


Editorial March 06, 2018
تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مناسب اور وسیع مواقع فراہم کرنے سے وہاں ترقی کا عمل تیز ہو گا۔ فوٹو: فائل

صدر مملکت ممنون حسین نے اتوار کو گورنر ہاؤس سبی میں بلدیاتی کنونشن اور سبی میلے کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کو دوسرے صوبوں کے برابرترقی دینے کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے، سی پیک کے مغربی روٹ میں ایک انچ کی بھی تبدیلی نہیں کی گئی اس منصوبے کا سب زیادہ فائدہ بلوچستان کے عوام کو ہوگا، سبی میلے میں لوگوں کی شرکت امن وامان کی بہتری کی واضح مثال ہے، اس وقت بلوچستان میں وفاقی حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے مختلف منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔

ان منصوبوں کی تکمیل سے بلوچستان کے عوام کے معیار زندگی میں واضح تبدیلی آئے گی۔ بلوچستان کے نوجوانوں کو جدید ٹیکنیکل اور فنون کے شعبوں کے لیے تیارکرناہوگا تاکہ سی پیک سے استفادہ کیا جاسکے۔

ادھر چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے متحدہ عرب امارات اور سوئس حکومت کے تعاون سے گوادر میں تعمیر ہونے والے ڈی سیلینائزیشن پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے،پا ک فوج بلوچستان میں سماجی اور اقتصادی ترقی کے لیے بھر پور کردار ادا اور معاونت کریگی،خوشحال بلوچستان پروگرام اہمیت کا حامل منصوبہ ہے جس سے صوبے میں پسماندگی کے خاتمے اور ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی، بلوچستان کی معاشی ترقی کا سب سے زیادہ فائدہ یہاں کے مقامی لوگوں تک پہنچنا چاہیے۔

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا لیکن ترقی کی دوڑ میں سب سے پسماندہ صوبہ ہے' یہاں کے لوگوں کو یہ شکایات رہی ہیں کہ وفاقی حکومت نے ان کی ترقی کے لیے وہ متحرک اور جاندار کردار ادا نہیں کیا جو وہ دوسرے صوبوں میں کر رہی ہے۔ ہر حکومت نے بلوچستان کی ترقی کی باتیں تو کیں مگر یہاں جو منصوبے شروع کیے گئے وہ مقامی لوگوں کی ترقی اور خوشحالی میں کوئی انقلاب برپا نہیں کر سکے۔

موجودہ حکومت کو اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے یہی وجہ ہے کہ اس نے یہاں بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبے شروع کر رکھے ہیں' صدر مملکت ممنون حسین نے اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے مختلف منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں جن کی تکمیل سے بلوچستان کے عوام کے معیار زندگی میں واضح تبدیلی آئے گی۔

سی پیک منصوبے سے سب سے زیادہ فائدہ گوادر اور بلوچستان کے شہریوں کو پہنچے گا۔ گوادر میں ایک عرصے سے پانی کی قلت کی شکایات کی جا رہی تھیں اب وہاں اس مسئلے کو بھی حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے' چیف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور سوئس حکومت کے تعاون سے گوادر میں تعمیر ہونے والے ڈی سیلینائزیشن پلانٹ سے مقامی آبادی کو 44لاکھ گیلن پانی ہر روز فراہم کیا جائے گا جب کہ منصوبے سے 88لاکھ گیلن پانی ہر روزفراہم کیا جا سکتا ہے' یہ پلانٹ چھ سے آٹھ ماہ کی قلیل مدت میں مکمل ہو گا اور اس سے گوادر میں پانی کی قلت دور ہونے سے مقامی لوگوں کو دور دراز علاقوں سے پانی لانے کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پس منظر میں وہاں کے شہریوں کی غربت اور جہالت کا بڑا دخل ہے' شرپسند عناصر اس صورت حال سے فائدہ اٹھا کر چند مقامی نوجوانوں کو بہکانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں' اس صورت حال کے تدارک کے لیے ناگزیر ہے کہ بلوچستان میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں' شہریوں کو تعلیم' صحت' پینے کے صاف پانی کی فراہمی' سیوریج کے بہتر نظام سمیت روز گار کے وسیع مواقع فراہم کیے جائیں۔ ترقیاتی منصوبوں میں مقامی لوگوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانے سے ان شکایات کا ازالہ بھی ہو جائے گا کہ وفاقی حکومت مقامی لوگوں کو نظر انداز کر کے غیرمقامی لوگوں کو ان پر مسلط کر رہی ہے۔

تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مناسب اور وسیع مواقع فراہم کرنے سے وہاں ترقی کا عمل تیز ہو گا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق بلوچستان کی ترقی کی راہ میں سرداری، قبائلی اور جاگیرداری نظام حائل ہے جب تک اس کا خاتمہ نہیں کیا جاتا وہاں کے لوگوں کی زندگی میں بنیادی تبدیلی لانا مشکل امر ہے،لہٰذا وفاقی حکومت کو اس جانب بھی غور کرنا چاہیے۔ بلوچستان میں چھپے قدرتی ذخائر سے فائدہ اٹھا کر نہ صرف صوبے کی پسماندگی کا خاتمہ کیا بلکہ پورے ملک میں معاشی انقلاب لایا جا سکتا ہے۔ ناگزیر ہے کہ بلوچستان کے شہریوں کو وعدوں اور نعروں کا لالی پاپ دینے کے بجائے حقیقی معنوں میں وہاں ترقی کے عمل کو تیز کیا جائے۔