یہ سب اس وقت تک ہوتا رہے گا
ہم نے ابتدا میں نشان دہی کردی تھی کہ سامراجی ملکوں کے منصوبہ سازوں نے ایسے ماہرین اور ایجنٹ رکھے ہوئے ہیں۔
کرۂ ارض پر سات ارب سے زیادہ انسان بستے ہیں، ان کی قومیت، مذہب، زبان، رنگ ، نسل،کلچر، رہن سہن سب الگ الگ ہیں، ان میں جو چیزیں مشترک ہیں وہ غربت ، بھوک ، افلاس ، بیماری، بے روزگاری، بے علمی، جہل ، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کی ضرورت کی ہر چیز پیدا کرنے والوں میں جو چیزیں مشترک ہیں کیا ان انسانوں میں ان مجبوریوں، ان ناداریوں کا احساس بھی مشترک ہے، کیا یہ انسان سوچتے ہیں کہ وہ غریب کیوں ہیں؟
وہ بھوکے کیوں ہیں، وہ مفلس کیوں ہیں، انھیں ساری زندگی بیماریاں کیوں گھیرے رہتی ہیں، وہ بے روزگاری کا شکار کیوں رہتے ہیں، جہل ان کا مقدرکیوں ہے، علم سے وہ کیوں محروم ہیں، اگر وہ ان عذابوں پر ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، یہودی، بدھ، پارسی بن کر سوچنے کے بجائے انسان بن کر سوچنے لگیں تو یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ وہ ان عذابوں سے چھٹکارا پالیںگے لیکن مختلف حوالوں سے ان کی تقسیم کو اس قدر گہرا کردیاگیا ہے کہ وہ اس تقسیم کے دلدل سے باہر نکل ہی نہیں سکتے۔
ان کے مسائل ان پر مسلط ان عذابوں کا سب سے بڑا سبب یہی ہے کہ وہ مختلف حوالوں سے تقسیم ہیں، ان مظلوموں کی تعداد دنیا کی کل آبادی کا نوے فی صد حصہ ہے، اس کے برخلاف وہ دو فی صد حصہ ہے جو دنیا کی مجموعی دولت کے 80 فی صد سے زیادہ حصے پر قابض ہے۔
اول تو یہ 90 فی صد عوام ان مصائب کو قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کرلیتے ہیں، اس لیے ان کے طبقاتی دشمن ان کی نظروں سے اوجھل بھی رہتے ہیں اور محفوظ بھی رہتے ہیں۔ یہ ظالمانہ سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور اسے بدلنے کی شعوری کوشش نہ کی گئی تو یہ سلسلہ اگلی صدیوں تک جاسکتا ہے۔
ہر سال دنیا کے دولت مند ترین انسانوں کی فہرست شایع ہوتی ہے، ان دولت مند ترین انسانوں کے قبضے میں دنیا کی 80 فی صد سے زیادہ حصہ ہے ۔جب 90 فی صد انسانوں کو ان پر ہونے والے ظلم، ان کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کا ادراک ہوگیا تو یہ 90 فی صد انسان دو فی صد ظالموں کی تکہ بوٹی کردیںگے۔ اس انجام سے دو فی صد ظالمان کو بچانے کے لیے سرمایہ دارانہ نظام کے دانشوروں، مفکروں نے ریاست کا ادارہ قائم کیا، پھر قانون سازی کی جس میں نجی ملکیت کے لا محدود حق کو آئینی اور قانونی تحفظ فراہم کیا گیا۔ ان جابرانہ قوانین پر عمل در آمد کے لیے ادارے بنائے گئے ، جن کے مقاصد میںبنیادی مقصد سرمائے کی حفاظت ہے۔
اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تمام اداروں کی تنخواہ عوام کے پیسے سے ادا کی جاتی ہے۔ یہ ہے وہ سرمایہ دارانہ نظام جس کو اس کے سرپرست فطری اور دنیا کے لیے ناگزیر نظام کہتے ہیں، انفرادی سطح کے اس استحصال کے علاوہ ایک مربوط و منظم نظام قومی سطح پر متعارف کرایا گیا سرمایہ دارانہ نظام کے مفکرین نے قومی مفاد کا ایک فلسفہ متعارف کرایا اس قومی مفاد کے تحفظ کے لیے لاکھوں افراد پر مشتمل فوجیں بنائیں، اربوں روپوں کے اسلحے سے انھیں مسلح کیا گیا۔ اپنے ماہرین کے ذریعے علاقائی اور قومی تنازعات پیدا کیے گئے متحارب فریقین کو اربوں روپوں کا اسلحہ خریدنے پر مجبور کردیاگیا ، عوامی اور قومی استحصال کے اس نظام کو سرمایہ دارانہ نظام کہاجاتا ہے۔
تقسیم ہند سے پہلے ہندوستان میں ہندو اور مسلمان ایک ہزار سال تک مل جل کر رہے نہ ہندو مذہب کو کوئی خطرہ لاحق ہوا نہ اسلام کوکوئی خطرہ لاحق ہوا لیکن انگریزوں نے ایسے حالات پیدا کیے کہ کٹر مذہبی طاقتوں نے مذہبی منافرت کی آگ بھڑکائی اس آگ میں کہاجاتا ہے 22 لاکھ انسان جل گئے کیونکہ انھیں انسان سے ہندو اور مسلمان بنادیا گیا تھا۔ انگریزوں نے اپنے مستقبل کے مفادات کے تحفظ کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان مسئلہ کشمیر حل طلب چھوڑ دیا اور انسان سے ہندو اور مسلمان بننے والے کشمیر کے مسئلے پر اس قدر ٹچی بن گئے کہ تین بڑی جنگیں لڑی جن میں اسلحہ ترقی یافتہ مغربی ملکوں کا استعمال ہوا۔
ان جنگوں میں جہاں ہندوستان اور پاکستان کے عوام کا جانی نقصان ہوا وہیں سرمایہ دارانہ ملکوں کا اربوں کا اسلحہ ان جنگوں میں استعمال ہوا، سامراجی ملک ہمیشہ ایک تیر سے دو شکار کرتے ہیں جانی نقصان ہندوستان اور پاکستان کا ہوا اربوں کا اسلحہ مغربی ملکوں کا استعمال ہوا۔
کشمیر کا مسئلہ ختم نہیں ہوا اس مسئلے کی وجہ سے جہاں دونوں ملکوں نے دفاعی قوت میں اضافہ کیا وہیں ایٹمی ہتھیار بناکر برصغیر کے سر پر اس طرح لٹکادیے کہ کوئی بھی ہنگامی صورتحال کوئی بھی غیر عاملانہ اور جذباتی فیصلہ اس خطے میں ایٹمی آگ بھڑکاسکتا ہے۔
مسئلہ کشمیر کی وجہ سے 70 ہزار کشمیری اب تک شہید ہوچکے ہیں اور شہادتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک ہزار سال تک بھائیوں کی طرح رہنے والوں کو ایک دوسرے کا جانی دشمن بنادیاگیا، دونوں ملکوں کے 50 فی صد سے زیادہ عوام غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں لیکن مسئلہ کشمیر پر ایک دوسرے پر بندوقیں تانے رہتے ہیں۔ یہ سب کیوں ہوا انسانوں کو ہندوستانی، پاکستانی، ہندو، مسلمان بنانے کی وجہ سے ہوا۔
اسی طرح فلسطین کا بھی حشر نشر کردیاگیا۔ لاکھوں فلسطینی در بدر ہوگئے، ہزاروں مارے گئے اور اب تک مارے جارہے ہیں۔ اسرائیل کو امریکا اور اس کے اتحادیوں نے خطے کا چوہدری بنادیا ہے جو عربوں کی اجتماعی فوجی طاقت سے زیادہ طاقتور ہے اسرائیل کو ایٹمی ملک بناکر ایران کے لیے خطرہ پیدا کردیاگیا۔ ایران جب اس اسرائیلی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کرنے لگا تو مغربی ملکوں نے اس کا دانہ پانی بند کردیا۔
مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کو طاقتور بناکر عرب ملکوں کو جنگ کے خوف میں اس طرح مبتلا کردیاگیا کہ عرب ملک اربوں ڈالرکا اسلحہ خرید رہے ہیں اور ترقی یافتہ مغربی ملکوں کی اسلحے کی صنعت دن دونی رات چوگنی ترقی کررہی ہے وہ اربوں ڈالرکا سرمایہ جو عوام کے معیار زندگی کو بڑھانے پر خرچ کیا جاسکتا تھا ہتھیاروں کی خریداری پر خرچ ہورہاہے۔
ہم نے ابتدا میں نشان دہی کردی تھی کہ سامراجی ملکوں کے منصوبہ سازوں نے ایسے ماہرین اور ایجنٹ رکھے ہوئے ہیں جو علاقائی اور مذہبی تنازعات پیدا کرتے ہیں اور قوموں کو ایک دوسرے سے لڑواتے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد فتحیاب ملکوں نے جن ملکوں کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کیا ان میں کوریا اور جرمنی ہیں، جرمنی نے دوبارہ متحد ہوکر سامراجی سازشوں کو ناکام بنادیا۔
کوریا کو جنوبی کوریا سے اس قدر خوف زدہ کردیاگیا ہے کہ وہ اپنے تحفظ کے لیے ایٹمی ہتھیار بنارہا ہے اور خطے کے لیے ایٹمی خطرات پیدا کررہا ہے۔ یہ سب اس لیے ہورہا ہے کہ انسانوں کو قوموں میں بانٹ دیا گیا ہے اور یہ سب اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک انسان قوموں میں بٹ کر ایک دوسرے کے دشمن بنے رہیںگے۔