ملک کی پیچیدہ سیاسی صورت حال

سینیٹ کے الیکشن ہو چکے ہیں لیکن ان الیکشن کو بھی متنازع بنایا جا رہا ہے


Editorial March 08, 2018
سینیٹ کے الیکشن ہو چکے ہیں لیکن ان الیکشن کو بھی متنازع بنایا جا رہا ہے۔ فوٹو: فائل

ملک کی سیاسی صورت حال خاصی پیچیدہ نظر آ رہی ہے۔ ادھر انتظامی اعتبار سے دیکھا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے امور مملکت ایک جگہ جامد ہو چکے ہیں۔ ایک جانب اعلیٰ عدلیہ میں مختلف کیسز چل رہے ہیں' سینیٹ میں ہونے والی تقاریر ہیں' دوسری جانب نیب کی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر مسلسل الزام تراشی کر رہی ہیں اور سینیٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے الزامات سامنے آ رہے ہیں' کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی جانب سے مسلسل کارروائیاں ہو رہی ہیں' عالمی سطح پر بھی بعض ایسی تبدیلیاں اور صف بندیاں ہو رہی ہیں' جو پاکستان کے لیے قابل توجہ ہونی چاہئیں۔ بھارت کے امریکا کے ساتھ تعلقات گو ایک طرح سے اسٹرٹیجک اتحاد کی صورت اختیار کر چکے ہیں لیکن بھارت مشرق وسطیٰ میں بھی اپنا اثرورسوخ بڑھا رہا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھارت کے تعلقات بہت گہرے ہو چکے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ بھارت اسرائیل کے ساتھ بھی اپنے تعلقات بہت زیادہ بڑھا چکا ہے' اس حوالے سے ایک نئی پیش رفت یہ بھی سامنے آئی ہے کہ سعودی عرب نے بھارتی ایئر لائن کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت بھی دے دی ہے۔ ادھر ایران کے ساتھ بھی بھارت کے تعلقات غیرمعمولی حد تک آگے بڑھ چکے ہیں' چاہ بہار بندر گاہ کا آپریشنل کنٹرول بھارت کے پاس آ چکا ہے' اس طرح بھارت کے لیے افغانستان اور وسط ایشیا تک تجارت کا روٹ میسر آ چکا ہے۔ یہ وہ منظرنامہ ہے جو پاکستان کے ارد گرد تشکیل پا رہا ہے' لیکن ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کے پالیسی ساز اس منظرنامے میں اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے میں دلچسپی نہیں لے رہے' ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے پاکستان نے صرف چین کو ہی اپنی خارجہ اور اقتصادی پالیسی کا مرکز بنا رکھا ہے اور اسی نقطے پر سارا کچھ کیا جا رہا ہے۔

پاکستان اس وقت خارجہ پالیسی کے اعتبار سے غیرمتعلق نظر آ رہا ہے' ہم امریکا کے اتحادی بھی نہیں رہے' نیٹو کے ساتھ بھی ہمارا تعلق واجبی سا رہ گیا ہے' ایران بڑی تیزی کے ساتھ بھارت کے ساتھ اقتصادی تعلقات میں بندھتا چلا جا رہا ہے' ایران کے پالیسی ساز شاید یہ سمجھ رہے ہیں کہ بھارت عالمی سطح پر ان کے لیے مدد گار ثابت ہو سکتا ہے خاص طور پر امریکا کے ساتھ ایران کی جو محاذ آرائی ہے' اسے کم کرنے میں بھارت بہتر کردار ادا کر سکتا ہے' ممکن ہے ایسا ہی ہو' ہر ملک کو اپنی خارجہ پالیسی تشکیل دینے کا اختیار حاصل ہے اور وہ اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر تعلقات کی صف بندی کرتا ہے' افغانستان کا مسئلہ تو سب کے سامنے ہے، اب وہاں پر جو پیش رفت ہو رہی ہے' اس میں پاکستان کا کوئی رول ہے یا نہیں' اس بارے میں ہمارے پالیسی ساز ہی بہتر بتا سکتے ہیں لیکن بظاہر ایسا نظر آ رہا ہے جیسے افغانستان میں لڑنے والے گروہ جنھیں ہم طالبان کا نام دیتے ہیں' وہ بھی براہ راست امریکا اور افغانستان کی حکومت کے ساتھ رابطے میں آ گئے ہیں۔

اچھی بات ہے اگر افغانستان کے جنگجو گروپ امن کے لیے کوئی فیصلہ کرتے ہیں لیکن اس میں پاکستان کو اپنے مفادات کا تحفظ ضرور کرنا چاہیے۔ روس کے ساتھ جہاں تک تعلقات کی بات ہے تو اس میں اتنی زیادہ گرم جوشی نظر نہیں آ رہی۔ روایتی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان اور روس کے تعلقات کبھی ایک حد سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ ایسے حالات میں ضروری تو یہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی استحکام ہو' سیاسی اعتبار سے مستحکم پاکستان ہی عالمی امور میں اپنا کردار متعین کر سکتا ہے' سیاسی اور انتظامی اعتبار سے ڈانواں ڈول ملک اپنی پالیسیوں میں تسلسل برقرار نہیں رکھ سکتا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے قربانیاں دی ہیں اسے ان سطور میں بیان کرنے کی ضرورت اس لیے نہیں ہے کہ انھیں سب تسلیم کرتے ہیں۔

امریکا اور مغربی ممالک بھی پاکستان کے مثبت کردار کو تسلیم کرتے ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دینے اور نقصان اٹھانے کے باوجود پاکستان کے بارے میں یہ تاثر آج بھی موجود ہے کہ یہاں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں موجود ہیں' ہمارے سوچنے والی بات یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے' اس میں قصور وار کون ہے' پاکستان اس وقت مشکل حالات سے دوچار ہے' ایک جانب پاکستان پر آج بھی دہشت گردی کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے اور دوسری جانب اگر ہم اندرون ملک اپنی سیاسی صورت حال کو دیکھتے ہیں تو وہاں بھی مایوسی کے گہرے بادل چھائے نظر آتے ہیں۔ ملک میں ٹکراؤ کی کیفیت ہے' سیاست اور اداروں کے درمیان اختلافات مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں' ملک میں قیاس آرائیوں اور افواہوں کا بازار گرم ہے۔

سینیٹ کے الیکشن ہو چکے ہیں لیکن ان الیکشن کو بھی متنازع بنایا جا رہا ہے' بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ سیاسی لیڈر شپ ہی یہ الزامات عائد کر رہی ہے کہ ایم پی اے اور ایم این اے حضرات فروخت ہوئے ہیں' پہلے اس قسم کے الزامات غیرسیاسی حلقے ضرور لگاتے تھے یا سیاست میں موجود وہ چھوٹے چھوٹے گروپ الزامات لگاتے تھے جو خود الیکشن جیتنے کے قابل نہیں ہوتے لیکن اس بار ٹاپ سیاسی لیڈر شپ نے بھی ایسے الزامات عائد کیے ہیں' اب سمجھ نہیں آتی کہ اس قسم کے الزامات سے جمہوریت کی خدمت ہوئی ہے یا جمہوریت کو نقصان پہنچا ہے۔

اس پیچیدہ اور مبہم صورت حال کا جاری رہنا ملک اور جمہوریت کے لیے کسی طور خوش آیند نہیں ہے' جہاں اداروں کو بھی سوچنا چاہیے وہاں سیاسی قیادت کی ذمے داری کہیں زیادہ ہے۔ جمہوریت کے لیے فہم و فراست' دور اندیشی اور تدبر لازمی چیز ہے' سیاست ان اوصاف سے خالی ہو گی تو اس کا نتیجہ انتشار اور افتراق کی صورت میں ہی برآمد ہوگا' ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کے تمام اسٹیک ہولڈرز موجودہ صورت حال سے نکلنے کے لیے صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔