ملکی سیاسی موسم اور معاشی منظرنامہ

مشیر خزانہ نے کہا کہ رواں سال ترقی کی شرح6 فی صد رہے گی جو دس سال کی بلند ترین سطح ہے


Editorial March 09, 2018
مشیر خزانہ نے کہا کہ رواں سال ترقی کی شرح6 فی صد رہے گی جو دس سال کی بلند ترین سطح ہے ۔ فوٹو: فائل

یہ ایک حیرت انگیز حقیقت ہے کہ عالمی اقتصادی صورتحال کے نقشہ میں پاکستان کی معیشت ایک گھومتا ہوا صحرائی بگولہ ہے جس کی منزل اور ہیئت کے بارے میں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ملکی معیشت کبھی ایک سوالیہ نشان بن جاتی ہے اور کبھی عالمی ریٹنگ ادارے اس کی معاشی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہیں جب کہ بعض ماہرین اقتصادیات ملکی معیشت کے مستقبل کے بارے میں '' پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ'' کے فلسفہ پر یقین رکھے ہوئے ہیں، لیکن فہمیدہ حلقوں کو ادارہ جاتی بے سمتی ، سیاسی تناؤ اور تشویش ناک معاشی و سماجی اشاریوں پر تشویش ہے۔

ان کے ملکی جمہوری نظام کو لاحق خدشات کے حوالہ سے شدید تحفظات ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ گزشتہ روز آ ئی ایم ایف نے پاکستان کے بجٹ اور بیرونی خسارے کو معیشت کے لیے درپیش بڑا چیلنج قرار دیا ۔ میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق واشنگٹن میں آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ اور پاکستانی وفد کے درمیان پوسٹ پروگرام مذاکرات ہوئے جس میں عالمی مالیاتی ادارے کے بورڈ نے شرح تبادلہ میں ایڈجسٹمنٹ کو خوش آیند قرار دیا۔ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کے مطابق قلیل مدت میں پاکستانی معیشت کے لیے ترقی کرنے کا ماحول موافق ہے، بجلی کی بہتر ترسیل، سی پیک سرمایہ کاری، زرعی شعبے کی بحالی اور خرچ کرنے کا رجحان معاشی نمو کی بہتری کی وجہ ہے۔ تاہم آئی ایم ایف نے شرح تبادلہ میں ایڈجسٹمنٹ کو خوش آیند قراردیتے ہوئے کہا کہ یہ لچک بیرونی خسارہ کم کرنے اور مسابقت بڑھانے میں مدد فراہم کرے گی۔

ایگزیکٹو بورڈ کے مطابق پاکستان کا بجٹ اور بیرونی خسارہ معیشت کو درپیش بڑے چیلنجز ہیں، زرمبادلہ ذخائر میں کمی اور مالی خسارہ وسط مدت میں معیشت کو درپیش بڑے خدشات ہیں۔ بورڈ کے مطابق گئے برس کی مالی بے قاعدگیاں، مانیٹری پالیسی اور سی پیک درآمدت اس خرابی کی بڑی وجوہات ہیں جو وسط مدت میں معیشت کے لیے بڑے خدشات ہیں۔ بورڈ نے تجویز کیا کہ اتھارٹیز کو پالیسیوں پر دوبارہ توجہ دینا ہوگی۔ آئی ایم ایف بورڈ نے آمدنی بڑھا کر جاری خسارے سے پیدا ہونے والی صورتحال کو قابو کیا جانا تجویز کیا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کے بورڈ کے مطابق پاکستان میں معاشی نمو 5.6 فیصد اور مہنگائی قابو میں رہے گی۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ پر ایک نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ کا تجزیہ روپے کی قدر میں کمی سے قبل لکھا گیا ہے، آئی ایم ایف بھی پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ کو سراہ رہا ہے جب کہ فروری 2018 کے اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ جاری خسارے میں کمی ہونا شروع ہوگئی ہے۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ رواں سال ترقی کی شرح6 فی صد رہے گی جو دس سال کی بلند ترین سطح ہے۔ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ فروری میں درآمدات 4 ارب 41 کروڑ ڈالر تھی جو فروری 2018میں8 فیصد اضافے سے4 ارب 71کروڑ ڈالر رہی ہے۔ ان سرکاری معروضات کے سیاق و سباق میں اقتصادی ماہرین کی غلط معاشی پالیسیوں پر تنقید بھی ہورہی ہے، ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت نے غربت کے خاتمہ، روزگار کی فراہمی، سمیت عوام کو جمہوری ثمرات کے لالی پاپ تو بہت دیے مگر جن سہولتوں اور ریلیف کی ضرورت تھی وہ ناپید رہیں۔

خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کے دن نہیں پھرے، اور عام آدمی کے لائف اسٹائل میں تبدیلی نہیں آئی، مہنگائی نے متوسط طبقے کے کس بل نکال دیے ہیں،7 کروڑ افراد غربت و افلاس کا شکار ہیں جب کہ بیروزگاری، فرسٹریشن، دولت کے ارتکاز، کرپشن ، قانون کی بے بسی اور مافیاازم کا وائرس غیر انسانی جرائم کا باعث بنا ہے،ان اطلاعات کو بھی جھٹلانا ممکن نہیں کہ موجودہ حکومت نے اپنے دور اقتدار میں 276کھرب غیر ملکی قرضہ لیا جب کہ دو ماہ قبل مزید 9کھرب روپے غیر ملکی قرض لے کر ملک کے بچے بچے کو مقروض اور اداروں کو گروی رکھ دیا گیا ہے، لوگ استدلال پیش کرتے ہیں کہ سودی قرضوں سے ملک میں کوئی تبدیلی یا عوامی خوشحالی نہیں بلکہ نت نئے مسائل اور مشکلات و بحرانوں میں اضافہ ہوا ہے۔

ایک زمانہ تھا کہ جمہوری اور آمرانہ حکومتیں خود انحصاری کے دعوے کرتی تھیں، کشکول توڑنے کی ڈینگیں ماری گئیں، مگر آج بھی ملکی معیشت کھربوں کے گردشی قرضوں میں جکڑی ہوئی ہے، ایک اطلاع کے مطابق پاکستان نے ایک ارب ڈالرکاغیرملکی تجارتی قرضہ حاصل کرنے کے لیے ایک چینی مالیاتی ادارے سے مذاکرات شروع کردیے ہیں۔ حالیہ اندرونی تشخیص سے پتہ چلتا ہے کہ روایتی قرض دہندگان سے آمدنی بجٹ تخمینوں سے بہت کم ہوجائیگی۔ واضح رہے ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے پہلے سے ہی ایک سال میں بڑے اقتصادی اشارے میں خرابی کی وجہ سے ادائیگی کی پالیسی کے قرضوں کے توازن کو700ملین ڈالرز سے پہلے ہی برقرار رکھا ہے۔

یہ امر بھی قابل غور ہے کہ ملک میں غیر یقینی صورتحال کے باعث حصص کی تجارت کی غیر واضح سمت، غیرملکیوں کی فروخت کی پالیسی سے متاثر ہو کر پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں بدھ کو بھی اتار چڑھاؤ کے بعد مندی کے بادل چھائے رہے جس سے انڈیکس کی43700 ،43600 اور43500 پوائنٹس کی 3 حدیں بیک وقت گرگئیں، مندی کی وجہ سے65.75 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی جب کہ سرمایہ کاروں کے مزید 63 ارب9 کروڑ71 لاکھ41 ہزار67 روپے ڈوب گئے۔ ادھر چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین کا کہنا ہے کہ بجلی و پانی کی قلت پر قابو پانے کے لیے واپڈا بہت سے منصوبوں پر کام کررہا ہے، انھوں نے کہا کہ پاکستان کی پہلی نیشنل واٹر پالیسی جلد پیش کردی جائے گی۔

جس سے پانی کی قلت پر قابو پانے میں مدد ملے گی، پاکستان کے مسائل کا حل وسائل میں چھپا ہے جنھیں بروئے کار لانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جارہے ہیں، 2050 میں پاکستان کی آبادی 30 کروڑ سے تجاوز کرجائے گی لہٰذا ہمیں مستقبل کے لیے آج ہی منصوبہ بندی کرنا ہو گی ، پاکستان پانی کی قلت کے حوالے سے پندرہویں نمبر پر ہے، واضح رہے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے فیصلوں پر علمدرآمد کے لیے قائم خصوصی کمیٹی نے وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ریکوریوں کے حوالہ سے آڈٹ اعتراضات کے حوالہ سے ریمارکس میں کہا ہے 20، 20 سال سے ریکوریوں کی صورتحال افسوس ناک ہے یہ ریاست کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے ، پنجاب و سندھ میں بعض کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت کسانوں کو مکمل ریلیف دینے میں ناکام ہو چکی ہے، کسانوں کو گنے کا صحیح ریٹ نہ ملنے پر کسان 70روپے فی من مارکیٹ میں فروخت کرنے پر مجبور ہے۔

یاد رہے ابھی زیادہ دن نہیں گزرے کہ پیرس میں فائنل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف) کے اجلاس میں دہشتگردوں کو فنڈز کی فراہمی اور اس کی حمایت کے الزام میں پاکستان گرے لسٹ میں ہے ، اسے تین ماہ کی مہلت ملی کہ ایکشن پلان پیش کر کے اپنی پوزیشن بہتر بنائے ورنہ ملکی معیشت پر اس واچ ڈاگ ادارے کی کاری ضرب پڑنے والی ہے۔ مزید برآں چیئرمین پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری زبیر موتی والا کے اس انکشاف پر بھی ارباب اختیار توجہ دیں کہ کابل میں بھارتی معاشی ریشہ دوانیوں کے باعث پاکستان کا مارکیٹ شیئر گھٹ کر 50 فی صد ہوچکا ہے جب کہ پاک افغان تجارتی حجم جو 2.7 بلین ڈالر تھا اب کم ہوکر1.2بلین ڈالر رہ گیا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ سیاست دان ملکی معیشت وتجارت کے تلخ حقائق کو بھی اپنے ایجنڈہ اور انتخابی منشور میں شامل کریں کیونکہ زندگی صرف سیاست نہیں کچھ اور بھی ہے۔