افغانستان قیام امن کے لیے کوششیں تیزکرنے کی ضرورت

افغانستان میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوششوں کے ساتھ ان پر امریکی حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے


Editorial March 09, 2018
افغانستان میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوششوں کے ساتھ ان پر امریکی حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے. فوٹو: فائل

افغانستان میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوششوں کے ساتھ ان پر امریکی حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ افغانستان کے علاقے کنڑ میں کالعدم تحریک طالبان کے ٹھکانے پر ڈرون حملہ کے نتیجے میں 20 خودکش حملہ آور مارے گئے، جب کہ افغانستان میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں ایک کمانڈر سمیت 4 طالبان ہلاک ہوگئے۔خبر کے مطابق ڈرون حملے میں ٹی ٹی پی کے سربراہ مولانا فضل اﷲ کا بیٹا عبداﷲ بھی ہلاک ہوگیا۔ اس حملے میں غازی کیمپ کا سربراہ اور باجوڑ ایجنسی کا کمانڈر گل محمد بھی مارا گیا، خودکش حملہ آوروں کو تربیت دینے والا کمانڈر یاسین بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہے۔

گزشتہ برس 17 نومبر کو افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداﷲ عبداﷲ نے واشنگٹن میں پہلی بار اعتراف کیا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان افغانستان میں موجود ہے اور افغان حکومت کی شرپسندوں سے جاری لڑائی کے باعث ملک میں پیدا ہونے والی غیر مستحکم صورتحال کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ دوسری جانب افغانستان میں قیام امن کی خواہش پاکستان کی طرح خطے کے دیگر ممالک بھی رکھتے ہیں، کیونکہ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ خطے میں امن و امان کے مستقل قیام کے لیے خطے میں جاری تنازعات اور ممالک کے اندرون خانہ معاملات میں بھی قیام امن کو ترجیح دی جائے۔ افغانستان ایک عرصے سے جس آگ میں جل رہا ہے اس ضرورت ہے کہ خطے کے وسیع تر مفاد میں افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کو تیز کیا جائے۔ اس سلسلے میں ازبکستان نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں قیام امن کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

یہ کوشش قابل ستائش ہے کہ ازبکستان افغانستان میں قیام امن کے لیے ایک کانفرنس کا انعقاد بھی کررہا ہے جس میں دنیا بھر سے اعلیٰ سفارتکار شریک ہوں گے۔ ازبکستان کی کوشش ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات کے لیے ایک نئے مقام کا انتخاب کیا جائے تاہم یہ واضح نہیں کہ 26 اور 27 مارچ کو ازبکستان میں ہونے والی اس کانفرنس میں طالبان کے نمایندے شریک ہوں گے یا نہیں۔ علاوہ ازیں امریکا کا کہنا ہے کہ افغانستان کے استحکام میں مدد دینے کے حوالے سے پاکستان انتہائی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے واشنگ میں ایک پس پردہ میڈیا بریفنگ کے دوران کہا ہم حکومت پاکستان کے ساتھ تعلقات کی ابتدا کے مرحلے میں ہیں، ابھی اعلیٰ سطح کے تبادلوں کا سلسلہ ہوگا، اس ضمن میں پاکستان کی سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ واشنگٹن میں ملاقاتیں کرنے والی ہیں۔ امریکی عہدیدار کے مطابق فوجی اور سویلین چینلز دونوں کی جانب سے انتہائی اہم مکالمہ ہونے والا ہے۔ پاکستان ایک عرصے سے افغانستان میں قیام امن کے لیے اپنی مقدور بھر کوششیں کررہا ہے لیکن پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کے باوجود افغان حکومت کی جانب سے کبھی سراہا نہیں گیا۔ دوسری جانب امریکا کا رویہ بھی معاندانہ ہے۔ صائب ہوگا کہ خطے کے مفادات کے پیش نظر پاکستان کی کاوشوں کو سراہا جائے۔