آزاد امیدواروں پر مہربانی

بنیادی ضرورت سینیٹ کے دوسرے انتخابی مرحلہ کے شفافیت کی ہے۔


Editorial March 10, 2018
بنیادی ضرورت سینیٹ کے دوسرے انتخابی مرحلہ کے شفافیت کی ہے۔ فوٹو : فائل

سینیٹ انتخابات کا انعقاد بلاشبہ جمہوری پیش رفت کا استعارہ بنا ہے لیکن جس چیز نے اسے منفرد اور غیرروایتی تجربہ اور سیاسی جوڑتوڑ کا دلکش سیناریو عطا کیا ہے وہ کامیاب آزاد امیدواروں کے در دل پر دستک دینے کا والہانہ جوش وخروش اور بے تاب تمنا ہے اور حیرت ہے کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ حمایت حاصل کرنے کے لیے پیپلز پارٹی، ن لیگ اور پی ٹی آئی کی قیادت اپنے پورے وفد کے ساتھ آزاد امیدواروں کے پاس پہنچے ہیں، غالباً سیاسی معرکہ آرائی سے پیدا شدہ فری ریسلنگ کے ایسے ماحول میں سینیٹر بننے کے ریٹ بھی بڑھے ، انفرادی رابطے، ان سے اوپن آفر کے قصے مشہور ہیں۔

ادھر سینیٹ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمن منتخب کرانے کے لیے سربراہ تحریک انصاف عمران خان نے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے تحریک انصاف کی سینیٹ کی 13 سیٹیں وزیر اعلیٰ بلوچستان کے حوالے کرکے ماحول مزید گرما دیا ہے، مبصرین کاکہنا ہے کہ پی پی اور پی ٹی آئی نے بلوچستان کارڈ کے استعمال اور دیگر چھوٹی پارٹیز کے سینیٹرز کو ملا لیا تو ن لیگ کے لیے اپنا چیئرمین لانا مشکل ہوجائیگا، جب کہ ن لیگ کا دعویٰ ہے کہ اس نے مطلوبہ اکثریت حاصل کرلی ہے۔

نوازشریف نے کمال مہارت سے میاں رضا ربانی کی اس بار پھر سے حمایت کی جب کہ آصف زرداری بوجوہ رضا ربانی کے دوبارہ چیئرمین سینیٹ بننے کے فیصلے سے معذرت کرچکے اور ان کی جنبش ابرو سے پی پی کے پارٹی ترجمان فرحت اللہ بابر سے عہدہ بھی چھن گیا ہے، وہ دونوں اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانات اور جمہوریت و پارلیمنٹ کی بالادستی، اس کے تقدس اور دیگر مقتدر اداروں کی عدم مداخلت پر اصرار کرتے رہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اس بار سینیٹ چیئرمین بلوچستان سے لیا جائے۔ تجزیہ کاروں کا موقف ہے کہ اصولی طور پر یہ پیغام خوشگوار ہے مگر جب وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں ہر قیمت پر ن لیگ کے چیئرمین کا راستہ روکنا ہے تو اصولی اور نظریاتی سیاست اور پارلیمانی روح اپنی اخلاقی بنیاد سے ہٹ جاتی ہے، کیونکہ ایوان بالا میں بلوچستان کی نمایندگی ڈپٹی چیئرمین کرتے آئے ہیں اور اس بار سینیٹ چیئرمین بلوچستان سے منتخب کرانے کی کوشش خیر سگالی پر مبنی ہے یا شورش و احساس محرومی کے شکار صوبہ کے عوام کو کشادہ دلی اور سیاسی وسیع المشربی کے جذبہ کے تحت ایسی پیشکش ہو رہی ہے تو اسے بھی قابل تحسین سمجھا جانا چاہیے تاہم ن لیگ قیادت اور سیاسی حلقے اسے ایک ایسی تاجرانہ ڈیل کی تکمیل کا نام دیتے ہیں جس میں دوسروں پر کرپشن کے الزامات لگانے والے خود شفاف انتخابی عمل کی خلاف ورزی میں ملوث نظر آتے ہیں۔

بہرحال عمران نے بلوچستان ہاؤس اسلام آباد میں بلوچستان کے وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو سے ملاقات کی جب کہ سینیٹ کی 13 سیٹوں کی پیشکش کے بعد وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ خان صاحب نے دل بڑا کر کے ہماری حمایت کا کہا، اب زرداری صاحب کو اختیار دیا ہے، انھیں قائل کریں گے کہ چیئرمین سینیٹ بلوچستان سے ہو۔ حاصل بزنجو کو وہ نواز شریف کی ٹیم کا بندہ سمجھتے ہیں۔

ہاں پی ٹی آئی اور پی پی دونوں چیئرمین سینیٹ کے لیے مسلم لیگ(ن) کا راستہ ہر صورت میں روکنے پر کمربستہ ہیں۔ادھر سینیٹ کے 52 نو منتخب ارکان کے حلف اور چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کے لیے صدارتی حکم نامہ جمعرات کو سینیٹ کو موصول ہو گیا ہے، صدارتی حکم نامہ کے مطابق ارکان کے حلف اور چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے سینیٹر سردار یعقوب ناصر کو پریزائیڈنگ آفیسر مقرر کیا گیا ہے، 12 مارچ کو اجلاس صبح دس بجے ہوگا۔

بارہ بجے تک حلف اور پارلیمانی رہنماؤں کے تہنیتی بیانات کے بعد اجلاس کاغذات نامزدگی کی وصولی اور جانچ پڑتال کے لیے ملتوی کردیا جائے گا، بارہ بجے دوپہر کے بعد کاغذات نامزدگی جمع ہونگے، دو بجے چیئرمین سینیٹ کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال ہوگی، 12مارچ ہی کو شام چار بجے سینیٹ ہال میں خفیہ رائے دہی کی بنیاد پر چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے پولنگ ہو گی۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے سینیٹ کے الیکشن میں کوئی ہارس ٹریڈنگ نہیں کی، تمام امیدواروں نے جمہوری عمل کے ذریعے کامیابی حاصل کی ہے۔ بلاشبہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب بھی شیڈول کے مطابق ہوجائے گا تاہم اس حقیقت کو مد نظر رکھنا چاہیے کہ متفقہ امیدوار کی امید دم توڑ چکی ہے، میاں رضا ربانی کی اداروں میں غیر ہم آہنگی سے متعلق پارلیمنٹ کی حرمت اور اس کی بالادستی کو لاحق خطرات یا فرحت اللہ بابر کے انداز بیاں سے پیپلز پارٹی میں جو ارتعاش پیدا ہوا ہے اس میں بد قسمتی سے نواز شریف کی رضا ربانی کی حمایت کی نیت کے بھی کثیر جہتی مفاہیم میڈیا کی زینت بنے ہیں، سپریم کورٹ بھی دروغ گوئی، دہری شہریت اور بدعنوانی کے باب میں مقدمات کی سماعت کررہی ہے۔

المختصر بنیادی ضرورت سینیٹ کے دوسرے انتخابی مرحلہ کے شفافیت کی ہے، جمہوریت سیاسی انانیت کی اسیر نہیں ہونی چاہیے، لازم ہے ایوان بالا کا تقدس ہرجمہوریت پسند کا مطمع نظر ہونا چاہیے ۔امریکا کے ایک سابق صدر روزویلٹ نے کیا خوبصورت بات کہی تھی کہ '' مجھے میری خواہش کے برعکس سینیٹر بنایا گیا اور اس تجربہ کا مجھے رنج و ملال زندگی میں سب سے زیادہ رہا۔'' وہ زندہ ہوتے تو ان سے پوچھتے، کیوں صاحب؟