90 فیصد امیدواروں نے ذرائع آمدنہ ظاہر ہی نہیں کیے ایف بی آر کی اسکروٹنی میں انکشاف

بڑی تعداد نے این ٹی این بھی ظاہر نہیں کیے، متعدد نے آمدنی ٹیکس سے مستثنیٰ بتائی


Ehtisham Mufti April 04, 2013
ریجنل ٹیکس آفس کراچی سے پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے امیدواروں کی تفصیلات بھی طلب، ایف بی آرنے الیکشن سیل قائم کردیے۔ فوٹو فائل

قومی وصوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر کاغذات نامزدگی داخل کرانیوالے 90 فیصد سے زائد امیدواروں کی جانب سے اپنی آمدنی ظاہر نہیں کی گئی۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے نیشنل ٹیکس نمبر(این ٹی این) کی شرط کولازم نہ کیے جانے کے باعث امیدواروں کی بڑی تعداد نے این ٹی این بھی ظاہرنہیں کیے۔ اس امر کا انکشاف فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ماتحت کراچی کے ریجنل ٹیکس آفسز اور لارج ٹیکس پیئریونٹ میں قائم الیکشن سیل میں امیدواروں کی آمدنی و ادا شدہ ٹیکس کی تصدیق کے عمل کے دوران ہوا۔

ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ2 اپریل2013 تک ریجنل ٹیکس آفس کراچی ون میں مجموعی طور پر128 قومی وصوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں کی تصدیق کردی گئی لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے آرٹی اوکراچی میں ایسے امیدواروں کی ذریعہ آمدنی، آمدن کی مالیت اوراداشدہ ٹیکسوں کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں جنھوں نے پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے صوبائی وقومی اسمبلی کی نشستوں پر کاغذات داخل کرائے ہیں۔



 

ذرائع نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جن امیدواروں کی تصدیق کیلیے مخصوص فارم ارسال کیے گئے ہیں، ان میں اکثریت نیشنل ٹیکس نمبر (این ٹی این) ہولڈرز ہیںلیکن اکثریت کی جانب سے نہ تو سال2010 ،2011 اور 2012 کی آمدنی کا گوشوارہ داخل کرایا گیا ہے اور نہ ہی کوئی ٹیکس جمع کرایا گیا ہے۔ بعض امیدوار ایسے بھی ہیں جنھوں نے سال2010 میں تو اپنی آمدنی ظاہر کی ہے لیکن اس کے بعد آمدنی ظاہر کی نہ ہی ٹیکس ادا کیا۔ متعدد ایسے امیدوار بھی ہیں۔

جنھوں نے اپنی زرعی آمدنی ظاہر کرتے ہوئے معمولی نوعیت کا ٹیکس ظاہر کیا ہے جبکہ کچھ امیدواروں نے اپنی آمدنی کو ٹیکس سے مستثنیٰ ظاہر کیا ہے۔ این اے 233 اورپی ایس 76 کے امیدوار لیاقت جتوئی نے سال2010 میں25 لاکھ روپے، سال2011 میں بھی60 لاکھ روپے مالیت کی ٹیکس ایگزمٹڈ آمدنی ظاہر کی جبکہ سال2012 میں 3 لاکھ33 ہزار250 روپے کی آمدنی ظاہرکی اور ڈیکلیرڈ35 لاکھ روپے کی آمدن پرصرف25 ہزار روپے ٹیکس ادا کیا۔

مقبول خبریں