6362پرکون پورا اترتا ہے عوام بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں عباس آفریدی

بیلٹ پیپرمیں خالی خانے سے ووٹر کو عدم اعتماد کا اظہارکرنے کا موقع ملے گا ،حاجی عدیل


Monitoring Desk April 04, 2013
موجودہ الیکشن کمیشن غیر آئینی ہے ،عمر ریاض عباسی،پروگرام ’’کل تک‘‘ میں بات چیت فوٹو : فائل

اے این پی کے رہنما حاجی عدیل نے کہا ہے کہ ہم نے باسٹھ تریسٹھ کے علاوہ بھی کئی شقوں پر اعتراض اٹھایا تھا مگر ہمیں سپورٹ نہیں ملی ۔ہم نے کوشش کی بائیسویں ترمیم میں آئین کی کئی کلاز پر کام کرسکیں ۔

ایکسپریس نیو زکے پروگرام کل تک میں میزبان جاوید چوہدری سے گفتگو میں انہوں نے کہاکہ بہت سی شقیں ایسی ہیں جن پر عام پاکستانی شہری پورا نہیں اترسکتا۔امین صرف ہمارے نبی ہی تھے ان کے بعد کوئی ان جیسا امین نہیںہوسکا۔شق باسٹھ تریسٹھ کو آئین میں ضیاء الحق نے شامل کیا تھا پارلیمنٹ نے کوشش کی کہ اس کو ہٹایاجائے مگریہ کوشش کامیاب نہیں ہوسکی۔



 

بیلٹ پیپرمیں خالی خانے کا فیصلہ اچھا ہے اس سے کم ازکم ووٹر کو عدم اعتماد کا اظہارکرنے کا موقع تو ملے گا۔ہم نے تو اس شق پر بھی اعتراض کیا تھا کہ کوئی غیرمسلم پاکستان کا صدر نہیں ہوسکتا۔سابق سینیٹر عباس خان آفریدی نے کہاکہ میں باسٹھ تریسٹھ پر پورا اترتاہوں یا نہیں اس کے بارے میں عوام ہی بہتر بتا سکتے ہیں۔اکیسیویں ترمیم میں گواینڈٹیک کیا گیا جس کا خمیازہ آج ہم سب بھگت رہے ہیں ۔بھارت میں بھی دوہری شہریت کا قانون نہیں ہے میں یہ انکشاف کررہا ہوں کہ پٹرولیم منسٹری کے سترفی صد افسران دوہری شہریت کے مالک ہیں۔ رہنما پاکستان عوامی تحریک عمرریاض عباسی نے کہاکہ سپریم کورٹ آئینی ادارہ ہے۔

لیکن چیف جسٹس نے ایل ایف او کے تحت حلف اٹھایا ہے ۔ہم کاغذات نامزدگی کرانے والے دس ہزار افراد پر اعتراض کررہے ہیں لیکن الیکشن کمشن خاموش ہے موجودہ الیکشن کمیشن غیر آئینی ہے جو مک مکا کا حصہ ہے۔ سیکروٹنی کے لئے ہم نے حکومت سے تیس روز کا معاہد ہ کیا تھا جس پر سے حکومت مکر گئی ہے۔مولانا طاہرالقادری آئین کی شق باسٹھ اورتریسٹھ پر پورااترتے ہیں نگران وزیراعلیٰ نجم سیٹھی پورا نہیں اترتے کیونکہ وہ نظریہ پاکستان کے مخالف ہیں۔حکومت نے اقتدار کی آخری رات تک لوٹ مارکی ہے عوام کے ٹیکس کے پیسے سے تاحیات مراعات کے بل پاس کرائے ہیں۔