گھریلو ملازم بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات

کمسن گھریلو ملازم بچوں پر بڑھتا ہوا تشدد ہمارے معاشرے کے متمول طبقے کے غیر انسانی رویے کی نشاندہی کرتا ہے۔


Editorial March 11, 2018
کمسن گھریلو ملازم بچوں پر بڑھتا ہوا تشدد ہمارے معاشرے کے متمول طبقے کے غیر انسانی رویے کی نشاندہی کرتا ہے۔ فوٹو : فائل

پاکستان میں کمسن گھریلو ملازمین پر تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے' بعض اوقات گھر کے مالکان کے تشدد سے چھوٹے بچے بچیاں جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں' ایسا ہی ایک واقعہ گزشتہ روز پنجاب کے صنعتی و کاروباری شہر گوجرانوالہ میں پیش آیا' جہاں ایک کمسن گھریلو ملازمہ گھر کے مالک کے تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے جان سے گزر گئی۔

اخباری اطلاعات کے مطابق آٹھ سالہ بینش گوجرانوالہ شہر میں شہزاد کھوکھر نامی ایک شخص کے گھر کام کرتی تھی۔ اس شخص نے کسی بات پر مشتعل ہو کر ننھی بچی پر تھپڑوں اور مکوں کے علاوہ آہنی راڈوں سے تشدد کیا اور پھر آگ پر پھینک کر اسے بری طرح جھلسا دیا جس کے نتیجے میں وہ اسپتال میں آٹھ روز تک موت و حیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد جان کی بازی ہار گئی۔

گوجرانوالہ پولیس نے متاثرہ بچی کے والد کی تحریری درخواست پر اقدام قتل کے ساتھ قتل عمد کا مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ غریب گھروں کے کمسن بچیاں اور بچے مجبوری کے عالم میں امیر گھروں میں کام کرتے ہیں جنھیں عمومی طور پر بدسلوکی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور کئی جگہوں پر غیرانسانی تشدد کا شکار کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں کمسن بچے جان سے گزر جاتے ہیں اور یہ موت ان گھر والوں کے لیے انتہائی دکھ اور صدمے کا باعث ہوتی ہے۔ یہ معصوم بچے اپنے غریب والدین کا بوجھ بٹانے کی کوشش میں بعض اوقات اپنی جان کی قربانی تک دے دیتے ہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ اس قسم کے گھریلو المیے کو روکنے کیلیے مناسب قانون سازی کرے اور ننھے بچوں کو ظالموں کے چنگل سے بچانے کا اہتمام کرے اور تشدد کے مجرموں کو اتنی سخت سزا دی جائے کہ دوسرے عبرت پکڑیں۔

کمسن گھریلو ملازم بچوں پر بڑھتا ہوا تشدد ہمارے معاشرے کے متمول طبقے کے غیر انسانی رویے کی نشاندہی کرتا ہے' امیر طبقے میں بڑھتی ہوئی کرپشن اور بدعنوانی کے رجحان نے ان میں بے رحمی' عیاری اور دغا بازی جیسے رویے پیدا کر دیتے ہیں' ان رویوں کے خاتمے کیلیے ضروری ہو گیا ہے کہ گھریلو ملازمین کے تحفظ کے لیے سخت نوعیت کے قوانین متعارف کرائے جائیں۔