آبادی میں بے تحاشا اضافہ مناسب اقدامات کی ضرورت

آبادی میں تیز رفتار اضافے کا شکار عمومی طور پر تیسری دنیا کے ممالک ہی بنتے ہیں۔


Editorial March 11, 2018
آبادی میں تیز رفتار اضافے کا شکار عمومی طور پر تیسری دنیا کے ممالک ہی بنتے ہیں۔ فوٹو : فائل

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پاپولیشن کونسل کے وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی پائیدار اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے میں سب سے بڑا چیلنج ہے اور اس کے لیے صوبائی حکومتوں کی فوری توجہ کی ضرورت ہے۔

جہاں تک آبادی میں تیز رفتار اضافے کا تعلق ہے تو اس کا شکار عمومی طور پر تیسری دنیا کے ممالک ہی بنتے ہیں جب کہ دوسری طرف جو ترقی یافتہ کہلوانے والے ممالک ہیں وہاں آبادی میں اضافہ تو درکنار الٹا آبادی میں کمی کا مسئلہ سر پر سوار ہے اور وہ اپنی آبادی بڑھانے کے لیے شادی شدہ جوڑوں کو اس قدر مراعات دیتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے یعنی صرف ناروے کی مثال دیکھیں جہاں بچہ پیدا کرنے والی عورت کو پورے ایک سال کی بمع تنخواہ چھٹی جب کہ اس کے شوہر کو بھی تین ماہ کی چھٹی ملتی ہے تاکہ وہ اگلے سال پھر بچہ پیدا کرنے کی کوشش کر سکیں۔

بہرحال ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں آبادی میں تیز رفتار اضافہ ایک گمبھیر مسئلہ ہے' عوامی جمہوریہ چین نے آبادی میں بے تحاشا اضافے کی شرح کو کنٹرول کیا ہے اور دنیا کے لیے ایک مثال قائم کی ہے' پاکستان بھی ایسے ممالک میں شامل ہے جہاں آبادی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے' قیام پاکستان کے وقت مغربی پاکستان کی آبادی محض دو ڈھائی کروڑ نفوس پر مشتمل تھی جو آج22 کروڑ تک پہنچ چکی ہے جب کہ ملک کے وسائل بتدریج کم ہوتے جا رہے ہیں۔

پاکستان کی تمام صوبائی حکومتوں کو آبادی میں اضافے کی شرح کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کرنا چاہئیں کیونکہ یہ وقت کی ضرورت ہے۔