شفاف انتخابات سے خوش حال آ جائے گی
خاندانی حکمرانیوں کی جگہ یا تو کلیسائی نظام کو اپنائیں یا سابقہ خاندانی حکمرانیوں کے محافظوں کو قبول کریں۔
تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے فخر الدین جی ابراہیم کوچیف الیکشن کمشنر منتخب کرلیا گیا ہے اور اس جمہوری انتخاب پر تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں اس یقین کا اظہار کررہی ہیں کہ بھائی فخرو کے چیف الیکشن کمشنر بننے کی وجہ سے اب انتخابات شفاف اور غیر جانب دار ہونے کی ضمانت حاصل ہوگئی ہے۔
خود فخرو بھائی اس اجتماعی یقین سے آگے جاتے ہوئے فرمارہے ہیں کہ ''شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات ہونے کے نتیجے میں پاکستان خوش حال ہوجائے گا؟'' یہ ساریگفتگو ہماری سیاست کی وہ فریب کاریاں ہیں جن کا سلسلہ 1970 کے پہلے انتخابات سے جاری ہے اور اس'' خوش حالی'' کی انتہا 2008 سے اب تک عوام بدترین مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کی لوڈشیڈنگ، جرائم دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور اعلیٰ سطحی کرپشن کے وہ مناظر دیکھ رہے ہیں کہ جمہوریت ایک طعنہ بن گئی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاسی ارتقا کی تاریخ میں جمہوریت سیاسی نظام کی ایک ایسی شکل کہلا سکتی ہے جس میں عوام کو اپنے نمایندے منتخب کرنے کا حق حاصل ہے لیکن اس حق کا المیہ یہ ہے کہ یہ حق بے چارے عوام اس نظام میں اپنے معاشی استحصالیوںکو منتخب کرنے کے لیے استعمال کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
یہ بھی درست ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں میں عوام اپنا یہ حق نسبتاً بہتر طریقے سے یوں استعمال کرتے ہیں کہ ان کے منتخب کیے ہوئے نمایندے ان کے جانے پہچانے ہوتے ہیں اور ان کی کارکردگی دیکھ کر ہی عوام انھیں منتخب کرتے ہیں اور منتخب ہونے کے بعد یہ نمایندے ان کی گرفت میں رہتے ہیں اور اگر یہ نمایندے اپنے انتخابی منشور کے مطابق ان کے مسائل حل نہیں کرتے تو عوام ان سے جواب طلب کرتے ہیں۔
ترقی یافتہ ملکوں میں ایسا نہیں ہوتا کہ پارٹی جس کو ٹکٹ دے، عوام آنکھ بند کرکے اسے ووٹ دے دیں، جیسا کہ ہمارے پاس ہوتا ہے اور اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ اگر پارٹی کسی کھمبے کو کھڑا کردے تو عوام اسے متبرک سمجھ کر سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔ اس حماقت کو ہمارے ملک میں پارٹی رہنما کی ہر دل عزیزی اور غیر معمولی مقبولیت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
فخرو بھائی کی ایمان داری اور خلوص غیر متنازع ہے لیکن ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان کا یہ کہنا خود فریبی کے علاوہ کچھ نہیں کہ شفاف اور غیر جانب دارانہ انتخابات کے نتیجے میں پاکستان خوش حال ہوجائے گا۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ ممکنہ طور پر جو انتخابات ہونے جارہے ہیں ان میں سوائے ایک پارٹی کے باقی تمام پارٹیاں وہی ہیں جو 1970 کے بعد سے 2008 تک پاکستان کو ''اس تیزی سے خوش حال بناتی آرہی ہیں کہ خوش حالی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں''
اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تمام سیاسی اوتار غلطی سے ملک کو خوش حال بنانے کے بجائے خود کو'' اپنی آل اولاد کو اپنے طبقے کو خوش حال بنانے میں ایسے مصروف رہے کہ انھیں ملک کو خوش حال بنانے کا وقت ہی نہ مل سکا۔ اس خوش حالی کے ثبوت ہمارے سامنے این آر او، سوئس بینکوں اور ہمارے اپوزیشن لیڈر میاں برادران، ان کے خاندان کے خلاف کرپشن ریفرنسوں کی شکل میں اعلیٰ عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ ان کے علاوہ حکومتوں میں 1970 کے بعد رہنے والے اوتاروں کے خلاف ابھی تک کرپشن کے ریفرنسز دو بڑے دیوتائوں کے کارنامے پبلک ہوئے ہیں۔ اگر ان تمام بزرگوں کی طرف توجہ دی جائے تو یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہسب کی آنکھیں کھل جائیں گی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کھیل نصف صدی سے کیوں جاری ہے؟ اس کیوں کا جواب یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اب تک وہ جمہوریت بھی نہیں رہی جو نو آزاد ملکوں میں دیکھی جاتی ہے۔ اس کے برخلاف یہاں چند جاگیردار، صنعت کار اور بیورو کریٹک خاندانوں کی بادشاہی رہی ہے اور باوجود عوام کی اس بادشاہت سے سخت نفرت کے پورے یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ شفاف اور غیر جانب دار انتخابات کے باوجود ان بادشاہتوں کا سلسلہ جاری رہے گا اور ملک اسی طرح خوش حال ہوتا رہے گا، جس طرح اب تک ہوتا رہا ہے۔ اس تلخ حقیقت کی روشنی میں عوام فخرو بھائی جیسے ایمان دار اور مخلص انسان سے یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ملک کس طرح خوش حال ہوگا؟
ہم نے ایک نئی پارٹی کا ذکر کیا تھا۔ وہ پارٹی ہے تحریکِ انصاف ،عمران خان کو ہم سیاسی فخر الدین اس حوالے سے کہہ سکتے ہیں کہ اس بے چارے کو اب تک پاکستان کو خوش حال بنانے کا موقع ہی نہیں ملا۔ اس لیے اگر وہ 30 دن میں کرپشن ختم کرنے کی باتیں کرتے ہیں اور اس کے لیے نظام کی تبدیلی کی نوید سناتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے۔
لیکن ان کے دائیں بائیں جو پرانے گھاگ اوتار بیٹھے ہوئے ہیں، کیا وہ عمران خان کو نظام بدلنے دیں گے؟ نظام کی تبدیلی کا خان صاحب کیا مطلب لیتے ہیں، ہمیں نہیں معلوم لیکن ہماری فیوڈل جمہوریت میں نظام بدلنے کے لیے پہلا قدم زرعی اصلاحات ہیں۔ کیا ان کے دائیں بائیں بیٹھے فیوڈل اوتار زرعی اصلاحات کرنے دیں گے؟ یہ وہ تلخ حقائق ہیں جو ہمارے شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کی دھول میں چھپے ہوئے ہیں۔
اس دلدل سے نکلنے کا راستہ کیا ہوگا۔ ہمارے بعض خوش فہم اور مخلص دوستوں کا کہنا ہے کہ اس دلدل سے نکلنے کا واحد راستہ ''مسلسل انتخابات'' ہیں یعنی ہر پانچ سال بعد تسلسل سے انتخابات ہوتے رہے تو ہم اس دلدل سے نکل جائیں گے۔ اس خوش فہمی میں ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہماری سیاسی اشرافیہ تو ولی عہدوں کی ایسی تیاریوں میں مصروف ہے جو آنے والی کئی نسلوں تک ان جمہوری بادشاہتوں پر اپنا قبضہ برقرار رکھ سکتی ہے۔
جب اسی طرح ولی عہدی کا سلسلہ جاری رہے گا تو پھر ہماری لولی لنگڑی جمہوریت کی لنگراہٹ اور لولا پن کیسے ختم ہوگا؟ اس کا جواب مشرق وسطیٰ کے عوام نے ہمارے سامنے ضرور رکھا ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کے عوام نے خاندانی حکمرانیوں سے نجات حاصل کرنے کا سلسلہ تو شروع کیا ہے لیکن وہ اس کامیاب سفر میں ایک ایسی جگہ کھڑے ہوئے ہیں جہاں ان کے سامنے اس آپشن کے سوا کوئی اور آپشن نظر نہیں آرہا ہے کہ وہ خاندانی حکمرانیوں کی جگہ یا تو کلیسائی نظام کو اپنائیں یا سابقہ خاندانی حکمرانیوں کے محافظوں کو قبول کریں۔ اگر پاکستان کے عوام مشرق وسطیٰ کے نقشِ قدم پر چلیں تو انھیں اپنے اہداف کا پہلے سے تعین کرنا چاہیے ورنہ وہ کنویں سے نکل کر کھائی میں پہنچ جائیں گے۔