بادام زری تنہا نہیں ہے
خیبر پختونخوا (سابق صوبہ سرحد) میں 1946ء کے انتخابات سے پہلے اس علاقے کی عورتوں نے زبردست تحریک چلائی تھی۔
ہم قدم بہ قدم 11 مئی 2013ء کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان میں ہونے والے وہ تاریخی انتخابات جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کے نتائج پاکستان کو آباد یا برباد کر دینے کا سبب بنیں گے۔ پاکستانی عورت کو اس بات کی شکایت رہی ہے کہ شمالی علاقوں اور بعض دوسرے دیہی علاقوں میں ان سے ووٹ دینے کا حق، ان کے گھر کے مرد اور قبائلی بزرگ سلب کیے بیٹھے ہیں۔
کئی برس پہلے کونسلر کے چنائو میں حصہ لینے کی خواہش مند ماں اور بیٹی کو اس ''جرم'' میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا اور وہ تمام سیاسی جماعتیں جو سیاسی عمل میں عورتوں کی شرکت اور شراکت کی دعویدار ہیں انھوں نے جرم بے گناہی میں ماری جانے والی عورتوں اور ان دور افتادہ علاقوں میں اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کے اس رویے کی طرف سے اغماض برتا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو روایات اور ثقافت کے نام پر اپنی عورتوں کو گھر سے باہر قدم نکالنے، اسکول یا کالج میں تعلیم حاصل کرنے، سیاست میں حصہ لینے اور ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دیتے۔
اس رویے کو دیکھتے ہوئے 40ء کی دہائی یاد آتی ہے جب آل انڈیا مسلم لیگ کے اکابرین نے برصغیر کی مسلمان عورتوں کو یہ خواب دکھایا کہ پاکستان میں انھیں تمام بنیادی حقوق ملیں گے اور وہ مردوں کے شانہ بشانہ نئے ملک کی تعمیر میں حصہ لیں گی۔ اس وعدے نے برصغیر کی مسلمان خواتین کو جس تیزی سے متحرک کیا وہ تحریک پاکستان کی تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہے۔ یہ وہ دور تھا جب محترمہ فاطمہ جناح، بیگم رعنا لیاقت علی خان، لیڈی عبداللہ ہارون، بیگم شائستہ اکرام اللہ، بیگم جہاں آراء شاہنواز، فاطمہ بیگم، نور الصباح بیگم اور دوسری متعدد نام دار اور گمنام عورتوں نے اس جدوجہد میں حصہ ڈالا اور ایک ایسے سماج کے خواب دیکھے جہاں ان کی بیٹیاں اور بہنیں محفوظ و مامون ہوں گی اور تعلیمی اور سماجی اعتبار سے ایک بہتر مستقبل ان کا منتظر ہوگا۔
یہ سنہرے خواب جلد ہی بکھر گئے۔ اس کی سب سے بڑی مثال بیگم شائستہ اکرام اللہ کی ہے جو پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی کی رکن تھیں اور جن کا خیال تھا کہ تمام اراکین کی سب سے پہلی ترجیح آئین کی تشکیل ہونی چاہیے۔ جب ان کی بار بار یاد دہانیوں اور احتجاج کے باوجود آئین سازی کا کام کچھوے کی رفتار سے چلتا رہا تو انھوں نے بہت دل گرفتگی کے ساتھ اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔
تحریک پاکستان کے دوران سابق صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا) کی خواتین کے اندر سیاسی شعور اور جوش و جذبہ کس قدر بڑھا ہوا تھا، اس کا اندازہ اس بات سے لگایے کہ بیگم عبداللہ ہارون جو آل انڈیا وومن مسلم لیگ کی صدر تھیں، جنہوں نے 1938ء میں وہاں وومن مسلم لیگ کی پہلی شاخ کا افتتاح کیا تھا وہ اکتوبر 1945ء میں مسلم لیگی خواتین کا وفد لے کر سابق صوبہ سرحد گئیں اور وہاں کئی جلسے کیے۔ تحریک پاکستان کے حوالے سے زنانہ مسلم لیگ کا ایک بڑا جلسہ پشاور میں منعقد ہوا جس میں شہر اور مضافات کی لگ بھگ 25 ہزار عورتوں نے شرکت کی تھی اور اس دوران عورتوں نے مسلم لیگ فنڈ میں 80 ہزار روپے جمع کیے تھے۔ 1945ء کے 80 ہزار روپوں کا آج حساب لگایے تو وہ لاکھوں نہیں کروڑوں بنتے ہیں۔ ان معاملات کی تفصیل دشکا سید نے لکھی ہے۔
خیبر پختونخوا (سابق صوبہ سرحد) میں 1946ء کے انتخابات سے پہلے اس علاقے کی عورتوں نے زبردست تحریک چلائی تھی۔ یہ وہ دن تھے جب پٹھان خواتین نے پشاور، کوہاٹ، مردان، ایبٹ آباد اور دوسرے شہروں میں جلسے کیے تھے، جلوس نکالے تھے۔ میں نے اس حوالے سے اپنی کتاب 'عورت: زندگی کا زنداں' میں لکھا ہے کہ 'پشاور جہاں آج اکیسویں صدی میں عورتیں برقعے یا چادر میں باہر نکلتی ہیں وہاں سیکڑوں عورتوں نے اپریل 1947ء میں نقاب یا حجاب کے بغیر جلوس نکالا تھا۔ یہ بھی پٹھان عورتیں تھیں جنہوں نے ان ہی دنوں 'پاکستان براڈ کاسٹنگ اسٹیشن کے نام سے ایک خفیہ ریڈیو اسٹیشن قائم کیا تھا جس کا کھوج 14 اگست 1947ء تک نہیں لگایا جا سکا۔''
بات آگے بڑھانے سے پہلے یہ بھی لکھتی چلوں کی تحریک پاکستان کے لیے عورتوں کی حمایت کس قدم اہم تھی اور ان کا اس وقت کے مرکزی سیاسی دھارے میں شامل ہونا مسلم لیگ کی قیادت کے لیے کتنی اہمیت رکھتا تھا اس کا اندازہ جناح صاحب کی 1944ء کی اس تقریر سے لگایا جا سکتا ہے جو انھوں نے علی گڑھ میں کی تھی اور جس میں کہا تھا: ''یہ انسانیت کے خلاف ایک جرم ہے کہ ہماری عورتیں گھروں کی چار دیواری میں قیدیوں کی سی زندگی گزاریں۔ ہماری عورتیں جن شرم ناک حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ آپ اپنی عورتوں کو زندگی کے ہر شعبے میں کامریڈ کی طرح ساتھ لے کر چلیں۔''
ان حقائق کی یاد ہر گزرتے دن کے ساتھ آتی ہے لیکن چند دنوں پہلے جب بادام زری کی تصویر اور اس کی پریس کانفرنس نظر سے گزری تو دل کو دھکا لگا۔ وہ خیبر پختونخوا کی عورتیں جو تحریک پاکستان میں سرگرم تھیں انھیں رفتہ رفتہ سماج کے حاشیوں پر اس طرح دھکیل دیا گیا کہ آج وہ اپنے بنیادی انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھائیں تو ان کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔
آج کے حالات میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر رہنے والی بادام زری کے بارے میں ہم لوگوں نے چند دنوں پہلے پڑھا اور سنا تو یقین نہیں آیا۔ باجوڑ کی 38 سالہ بادام زری نے اپنے قصبے خار میں پریس کانفرنس کی اور اس کی تصویریں اخباروں میں شایع ہوئیں اور خبروں میں آئیں تو وہ اپنی ایک اور ساتھی نصرت بیگم کے ساتھ بان کی چار پائی پر بیٹھی اعلان کر رہی تھی کہ وہ 11 مئی کو ہونے والے الیکشن میں اپنی دوست کے ساتھ آزاد امیدوار کے طور پر کھڑی ہو رہی ہے۔
بادام زری خوش نصیب ہے کہ اس نے باجوڑ کے اچھے دنوں میں میٹرک پاس کر لیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کا شوہر، آس پاس کی عورتیں، کچھ رشتہ دار اور بعض قبائلی بزرگ الیکشن لڑنے کے اس کے فیصلے کے حامی ہیں اور انھوں نے اس کی مالی مدد کا بھی یقین دلایا ہے تا کہ وہ الیکشن کے اخراجات کر سکے۔ چند دن پہلے اس نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے تھے جو منظور کر لیے گئے ہیں۔
بادام زری اور اس کی دوست نصرت بیگم نے یہ فیصلہ سر ہتھیلی پر رکھ کیا ہے۔ جس علاقے میں ایسے انتہا پسندوں کی حکومت ہو اور وہ لڑکیوں کی تعلیم کے اس حد تک خلاف ہوں کہ انھوں نے سیکڑوں اسکول جلا دیے ہوں۔ شہناز نازلی کو اس جرم میں گولی مار دی ہو کہ وہ لڑکیوں کے اسکول میں پڑھاتی تھی، جہاں مینگورا، ضلع سوات میں 15 برس کی لڑکی ملالہ کے سر میں گولی مار دی گئی ہو کہ وہ اسکول جاتی تھی، برقعہ نہیں پہنتی تھی اور انتہا پسندوں کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار بلاگ پر کرتی تھی۔ وہاں بادام زری اور نصرت بیگم کا الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان ایک ناقابل یقین بات ہے۔ بادام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ارد گرد کی عورتوں کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم دیکھتی رہی ہے، اسی لیے اس نے فیصلہ کیا کہ وہ قبائلی علاقوں سے عورتوں کے حقوق کے لیے سیاسی بنیادوں پر لڑائی لڑے۔
انھیں بنیادی انسانی حقوق نہیں ملتے۔ وہ تعلیم اور طبی سہولتوں سے محروم ہیں۔ اس کے لیے لازم ہے کہ ان کے مسائل کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں اٹھایا جائے۔ اس نے بتایا کہ اس کے علاقے میں 1,86000 ووٹرز ہیں جن میں سے 67,000 عورتیں ہیں۔ لیکن روایتی اعتبار سے ان عورتوں کو ووٹ ڈالنے کی بھی اجازت نہیں۔ اس امتیازی سلوک کے خلاف اسے سیاسی جماعتوں سے بھی شدید شکایت ہے جو اس علاقے کے مرد سیاستدانوں پر یہ دبائو نہیں بناتیں کہ وہ اپنی پارٹی میں عورتوں کو شامل کریں اور الیکشن کے وقت انھیں اس میں حصہ لینے اور ووٹ ڈالنے کا حق دیں۔ یہ سچ ہے کہ ہماری وہ سیاسی جماعتیں جو شہری علاقوں میں جمہوریت کی بات کرتی ہیں وہ دیہی اور قبائلی علاقوں میں اس طرح کی قدیم روایتوں کو ختم کرنے کے لیے کچھ نہیں کرتیں۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تحریک پاکستان کے دوران بانی پاکستان نے مسلمان عورتوں سے ووٹ لینے کے لیے جو وعدے کیے تھے کیا وہ وعدے پورے کیے گئے؟
آج 65 برس بعد بات وہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق بادام زری اور ملالہ جیسی لڑکیاں اور عورتیں اپنے بنیادی حقوق حاصل کرنے کے لیے جان پر کھیل جاتی ہیں۔ اکتوبر2012ء میں 15 برس کی بچی ملالہ کو سر میں گولی مار کر یہ سمجھا گیا کہ اس کی آواز کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے، وہ بچ گئی اور مہینوں موت اور زندگی کی کشمکش میں گرفتار رہنے کے بعد اب برمنگھم کے ایک اسکول میں آ گے پڑھ رہی ہے۔
بادام زری، ملالہ اور ان جیسی عورتوں اور لڑکیوں کی ہمت اور بہادری اور عوام کا تیزی سے بڑھتا ہوا جمہوری شعور، یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان ایک روشن مستقبل کی طرف گامزن ہے۔ آج بادام زری تنہا نہیں ہے پاکستان اس کے ساتھ ہے۔