داعش کے خطرے سے نمٹنے کے لیے پاک روس اتفاق

اب دہشت گردی کے جو بھی آثار اور باقیات نظر آتی ہیں ان کے خلاف بھی تیزی سے آپریشن جاری ہے۔


Editorial March 23, 2018
اب دہشت گردی کے جو بھی آثار اور باقیات نظر آتی ہیں ان کے خلاف بھی تیزی سے آپریشن جاری ہے۔ فوٹو : فائل

انسداد دہشت گردی سے متعلق پاک روس مشترکہ ورکنگ گروپ کا 7واں اجلاس بدھ کو اسلام آباد میں ہوا جس میں پاکستان اور روس نے داعش کے بڑھتے ہوئے خطرات پرسخت تشویش کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ داعش دنیاکے مختلف حصوں سمیت اس خطے کے لیے بڑا سیکیورٹی خطرہ ہے، دونوں ملکوں نے اتفاق کیاکہ دہشت گردی مشترکہ عالمی خطرہ ہے جس پرمکمل قابو پانے کے لیے عالمی برادری کی مشترکہ کوششوںکی ضرورت ہے۔

اجلاس میں وزارت خارجہ امورکے ڈائریکٹرجنرل کاؤنٹرٹیررازم احمد فاروق نے پاکستانی وفد جب کہ ڈائریکٹرنیوچیلنجز وزارت خارجہ امور ایلیاروگاچوف نے روسی وفدکی قیادت کی، اس کے علاوہ انسداد دہشت گردی سے متعلق محکموں کے حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس میں علاقائی وبین الاقوامی سطح پر انسداد دہشت گردی کی صورتحال اوردونوں ملکوں کی جانب سے انسداد دہشت گردی کی جاری سرگرمیوں اور دوطرفہ تعاون کے معاملات زیربحث لائے گئے۔

ترجمان دفترخارجہ کے مطابق پاکستانی وفدنے روسی وفدکو دہشت گردی کے خلاف جنگ میںکامیابیوں اورقومی ایکشن پلان پرعملدرآمدکے حوالے سے بریف کیا جس سے ملکی سیکیورٹی کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔

ادھر افغانستان کے دارالحکومت کابل میں سخی مزار کے قریب خودکش دھماکے میں 31 افراد مارے گئے جب کہ 50 سے زیادہ زخمی ہوگئے۔ بدھ کو خودکش حملہ اْس وقت ہوا جب وہاں جشنِ نوروز منایا جا رہا تھا۔ اس وقت دنیا میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ مسلم ممالک ہیں جن میں پاکستان اور افغانستان بھی شامل ہیں۔

پاکستان نے آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کے ذریعے طویل جدوجہد اور قربانیوں کے بعد دہشت گردوں کے محفوظ علاقوں اور ٹھکانوں کو تباہ کر کے دہشت گردی کے سرعت سے بڑھتے ہوئے عفریت کا راستہ روک دیا، اب دہشت گردی کے جو بھی آثار اور باقیات نظر آتی ہیں ان کے خلاف بھی تیزی سے آپریشن جاری ہے لیکن پریشان کن اور پیچیدہ صورت حال یہ ہے کہ باقی رہ جانے والے دہشت گرد بے چہرہ اور بے شناخت ہیں اور خفیہ ٹھکانوں میں پناہ لے کر وقتاً فوقتاً دہشت گردی کی کارروائیاں کر کے امن و امان کی صورت حال کو چیلنج کر رہے ہیں۔

پاکستان نے اندرون ملک دہشت گردی کی کارروائیوں پر بڑی حد تک قابو پانے کے ساتھ ساتھ افغانستان کے ساتھ ملحق سرحد کو بھی محفوظ بنانے کے لیے بڑی تیزی سے کام کیا کیونکہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں سے جو انکشافات سامنے آئے اس کے مطابق دہشت گردی کے اصل ڈانڈے افغانستان میں موجود تھے اور دہشت گردوں کے گروہ وہاں سے نکل کر پاکستان کو نشانہ بنا رہے تھے۔

امریکا اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لانے کے باوجود افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ نہیں جیت سکا اور اب وہ اپنی ناکامی کو تسلیم کرنے کے بجائے پاکستان پر آئے دن ڈومور کے مطالبات کے ذریعے دباؤ بڑھاتا رہتا ہے۔

گزشتہ کچھ عرصے سے یہ تشویشناک صورت حال سامنے آ رہی کہ افغانستان میں داعش بڑی تیزی سے اپنے قدم جما رہی ہے' لمحہ فکریہ یہ ہے کہ داعش عراق اور شام سے نکل کر افغانستان میں اپنے محفوظ ٹھکانے کیسے تشکیل دے رہی اور کون قوتیں اس کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔ اس وقت افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے علاوہ انتخابات کے ذریعے برسراقتدار آنے والی افغان حکومت بھی موجود ہے جس کے پاس 3لاکھ سیکیورٹی اہلکار ہیں اس سب کے باوجود وہاں پر داعش کے وجود کا نمو پانا خطے بالخصوص پاکستان کی سلامتی اور امن و امان کے لیے کسی خطرے کا پیش خیمہ ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق اغلب گمان ہے کہ جس طرح امریکی سی آئی اے نے شام اور عراق کو عدم استحکام اور خانہ جنگی سے دوچار کرنے کے لیے داعش کو استعمال کیا اب وہ افغانستان میں داعش کو فروغ دے کر پاکستان میں بھی ایسے ہی حالات پیدا کرنے کے لیے تگ و دو کر رہی ہے۔

افغانستان میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ سے خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں اور پاکستانی حکومت کو بھی اس حقیقت کا ادراک ہو چکا ہے کہ امریکا اس کے ساتھ منافقانہ کھیل کھیل رہا ہے' یہی وجہ ہے کہ وہ امریکی چالوں سے نمٹنے کے لیے چین اور روس کی طرف راغب ہورہا ہے۔

اگر افغانستان کے بعد پاکستان میں بھی داعش فروغ پاتی ہے تو یہاں پیدا ہونے والے عدم استحکام سے خطے میں موجود روسی مفادات بھی متاثر ہوں گے لہٰذا روس اور چین بھارت اور افغانستان کے ذریعے خطے میں بڑھتے اور مستحکم ہوتے ہوئے امریکی مفادات کا راستہ روکنے کے لیے پاکستان کا ساتھ دے رہے ہیں۔

ان بدلتے ہوئے حالات میں پاکستان کو بھی چین اور روس کے تعاون کی ضرورت ہے کیونکہ امریکا قابل اعتبار اتحادی نہیں رہا لیکن عالمی مفادات کے اس کھیل میں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کوئی بھی ملک دوسرے سے دوستی کرتے وقت سب سے پہلے اپنے مفادات کو ترجیح دیتا ہے لہٰذا پاکستان کو بڑی سمجھداری اور زیرکی سے تمام ممالک کے ساتھ اس انداز میں چلنا ہو گا کہ مستقبل میں اس کے لیے مسائل پیدا نہ ہوں۔